افغان طلبا کے ویزے کی مدت معاملے میں وزارت داخلہ کا قدم

0

نئی دہلی ،(یو این آئی): افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کےپیش نظر ہندوستانی تعلیمی اداروں میں جلد ہی تعلیم مکمل کرنے والے افغان طالب علموں کے ویزے کی مدت میں توسیع سمیت مختلف ضرورتوں پر وزارت داخلہ غور کرے گی۔وزارت خارجہ کے تحت انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (آئی سی سی آر) کے صدر جو غیر ملکی طلباء کے لیے وظائف سے متعلق ہیں، نے ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ وظیفہ کورس کی تکمیل کے بعد بند ہوجاتی ہے۔ جہاں تک ویزا کی مدت میں توسیع اور دیگر ضروری مطالبات کا تعلق ہے ان کی درخواست وزارت داخلہ کو بھیج دی گئی ہے۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے ہندوستان میں تعلیم حاصل کرنے والے تقریبا تین ہزار افغان طلباء پر غیر یقینی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ہندوستان پڑوسی اور دوست ممالک کے نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظائف فراہم کرتا ہے۔ پڑوسی ممالک میں افغانستان کے طلباء وظائف سب سے بڑی تعداد میں حاصل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے ہر سال ایک ہزار افغان طلباء کو وظائف دینے کا اعلان کیا تھا لیکن حقیقت میں اتنی بڑی تعداد میں طلبا آتے نہیں ہیں۔آئی سی سی آر کے ذرائع نے یہاں بتایا کہ اس وقت 2142 افغان طلباء ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن
میں سے تقریبا چار سو طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرنے قریب ہیں جبکہ تقریبا 800 طلباء کو مختلف اداروں اور یونیورسٹیوں میں داخل کیا گیا ہے۔ طلباء آن لائن تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ آئی سی سی آر افغان طلباء کو ان کے تعلیمی ادارے کی فیس کے علاوہ ذاتی ضروریات کے لیے ماہانہ 23-25 ​​ہزار روپے کی وظائف فراہم کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق جن طلبہ کی پڑھائی مکمل ہونے والی ہے وہ عام حالات میں گھر لوٹ جاتے لیکن موجودہ حالات میں ان طلباء نے گھر واپس لوٹنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے ان کے سامنے مختلف مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وہ کسی دوسرے انسٹی ٹیوٹ میں کسی دوسرے کورس میں داخلہ لیتے ہیں تو ان کی اسکالرشپ بحال ہو سکتی ہے۔ لیکن افغانستان میں آن لائن تعلیم شروع کرنے والے طلباء کی تعلیمی فیس جمع کرائی جائے گی لیکن انہیں قواعد کے مطابق وظیفہ نہیں دیا جا سکتا۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here