مولانا سید آصف ندوی: یکساں سول کوڈ اور ہندوستانی مسلمان

0

مولانا سید آصف ندوی
ملک کے مختلف گوشوں سے ایک مرتبہ پھر سے یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کا نعرہ بلند کیاجارہا ہے، حالانکہ یہ نعرہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت نئی بوتل میں پرانی شراب سے زیادہ کی نہیں ہے تاہم یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے، ہر چند سالوں بعد فرقہ پرست عناصر اس ادھیڑ بن میں لگ جاتے ہیں کہ کس طرح اس ملک کی اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کو ان کے جائز انسانی اور قانونی حقوق سے بھی محروم کردیا جائے۔اکثر و بیشتریہ افراد مسلمانوں کی جانوں، جائیدادوں ، تعلیمی اداروں، دینی مدارس وغیرہ پر کسی نہ کسی بہانے سے حملے کرواکر انہیں زک پہنچانے کا کام کرتے ہی رہتے ہیں۔
آج اگر ہمارا یہ پیارا ملک بھارت دنیا کے نقشہ پر ایک عظیم سیکولر و جمہوری ملک کی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت اور پہچان رکھتا ہے تو اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ اس ملک کو انگریز کے چنگل سے آزاد کرانے کے لئے مختلف دین و مذہب، تہذیب و تمدن، زبان و ثقافت اور رنگ و نسل کے جیالوں نے محض اس امید پر اپنا خون جگر دیاتھا کہ یہ ملک ہمیشہ جمہوری و سیکولر ملک رہیگا، اور آزادی کے بعد اس ملک کے ہر طبقے اور فرقے کو اس کے اپنے دین و مذہب ، تہذیب و تمدن، زبان و ثقافت اور خاندانی و نسلی روایات و رسومات کے ساتھ زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔ مسلمانوں اور بالخصوص ان کے علماء کرام نے سب سے زیادہ اور سب سے آگے بڑھ کر اپنی جانوں کی قربانیاں محض اسی وجہ ہی سے پیش کی تھیں کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ آزادی کے بعد ملک اگر سیکولر و جمہوری ہوگا تومسلمانوں کو اپنے دین و مذہب پر اور اپنے عائلی معاملات پر شریعت اسلامیہ کے قوانین کے مطابق عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔ اس بات کی اہمیت ان مسلم مجاہدین آزادی کے نزدیک اس قدر زیادہ تھی کہ انہوں نے ملک کی آزادی سے پہلے ہی سے ارباب اقتدار کی جانب سے مسلم پرسنل لاء کی ضمانت و حفاظت کی یقین دہانی کرانی شروع کردی تھی، ان کی وہ کوششیں ہی تھیں جن کے نتیجے میں گاندھی جی نے ۱۹۳۱ء میں لندن میں منعقدہ گول میز کانفرنس میں دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ ’’ مسلم پرسنل لاء کو کسی بھی قانون کے ذریعے چھیڑا نہیں جائیگا ‘‘ اور پھر آزادی سے تقریباً دس سال پہلے ۱۹۳۷ء میںShariat Application Act 1937 (قانون تحفظ مسلم شریعت) پاس کیا گیا اور بعد میں اس کو آئینِ ہند کا حصہ بھی بنادیا گیا۔
جمعیت علماء ہندنے اپنی مجلس عاملہ منعقدہ ۱۸،۱۷؍ اگست ۱۹۴۲ کے اجلاس میں دین و مذہب کے متعلق مسلمانوں کے اسی نقطۂ نظر کی ترجمانی کرتے ہوئے واضح الفاظ میں یہ تجویز منظور کی تھی کہ ’’ اس موقعے پر ہم یہ بھی واضح کردینا ضروری سمجھتے ہیںکہ اگر جمعیت علماء کو اس امر کا ذرہ بھر بھی وہم ہوتا ہے کہ جدوجہد آزادی کا نتیجہ ہندوستان میں ہندو راج قائم ہوجانا ہے تو وہ ایک لمحہ توقف کئے بغیر اس کی شدید مخالفت کرتی‘‘ ۔ ’’ہم آزاد ہندوستان سے وہ آزاد ہندوستان مراد لیتے ہیں جس میں مسلمانوں کا مذہب ، ان کی اسلامی تہذیب اور قومی خصوصیات آزاد ہوں۔ مسلمان جو انگریز کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے بیش بہا اور شاندار قربانیاں پیش کریں گے ان کی نسبت ہندو کی غلامی قبول کرنے کا تصور بھی ان کی سخت توہین ہے۔ ‘‘ (جمعیت علماء کیا ہے ؟ صفحہ : ۲۴۳ ؍۲۴۴)۔
عائلی قوانین اور مذہبی تعلیمات و احکامات سے متعلق مسلمانوں کا موقف روز اول سے واضح ہے کہ دین اسلام مکمل ضابطۂ حیات و لائحۂ عمل ہے، اس کے تمام ضابطے اور قوانین خود خالق کائنات کے بنائے ہوئے ہیں ۔ کسی بڑے سے بڑے اسکالر و عالم دین حتیٰ کہ وقت کے نبی کو بھی اس کا حق نہیںہے کہ وہ ان قوانین میں کوئی تبدیلی کرسکے یا مسلمانوں کے لئے خالق کائنات کے وضع کردہ قوانین سے ہٹ کر کوئی قانون اور ضابطۂ حیات نافذ کرسکے۔ اسلام نام ہی اللہ کی حکمرانی کو تسلیم کرنے کا ہے، اگر کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ کے وضع کردہ قوانین سے ہٹ کر انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین یا یکساں سول کوڈ کو تسلیم کرتا ہے تو ایسی صورت میں اس کے ایمان پر سوالیہ نشان قائم ہوجاتا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانانِ بھارت کی مرکزی قیادتیں (مسلم پرسنل لاء بورڈ، جمعیت علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، جمعیت اہل حدیث وغیرہ) فی الفور کوئی متحدہ موقف اختیار کرکے مسلمانان ہند کے سامنے پیش کردیں تاکہ عوام اس موضوع پراپنی اپنی انفرادی رائے قائم کرکے غیر ضروری احتجاجات و ہنگامہ آرائی کے ذریعے اس حسّاس ترین مسئلہ کو فرقہ پرست عناصر اور گودی میڈیا کے سامنے لقمۂ تر بنا کر نہ پیش کردیں۔
حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے
اگر کانٹوں میں ہو خوئے حریری
[email protected]