مولانا محمود اسعد مدنی کا مظلوموں کو انصاف دلانے اور عدالت میں پوری تندہی سے مقدمہ لڑنے کا عزم

0

جہانگیر پوری میں ایم سی ڈی کی انہدامی کارروائی
نئی دہلی(ایس این بی ) : سپریم کورٹ نے بدھ کو شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے فسادزدہ جہانگیر پوری علاقے میں مبینہ تجاوزات کے خلاف شروع کی گئی انہدامی کارروائی پر روک لگانے اور اسے بحالت اصلی برقرار رکھنے کاحکم جاری کیا ہے ۔چیف جسٹس آف انڈیا کے زیرقیادت بنچ نے جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقرر کردہ سینئر وکیل دشینت داوے کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ تاریخی فیصلہ سنایا۔ واضح رہے کہ جہانگیرپوری دہلی میں فساد زدہ علاقہ کو نشانہ بناتے ہوئے جس طرح شمال دہلی میونسپل کارپوریشن نے فوری طور سے انہدام کا اعلان کیا تھا، اس نے ملک میں قانون و انصاف اور جمہوریت کے ماننے والوں کو کافی بے چین کردیا تھا، چنانچہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ کے وکلا نے عرضی تیار کی اور بدھ کو صبح سینئر وکیل دشینت داوے ، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ایم آرشمشاد نے جمعیۃ کی طرف سے عرضی داخل کی ۔ تنظیم کی طرف سے عرضی گزار مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند ہیں۔جمعیۃ علماء ہند کے وکیل دشینت داوے نے اپنی عرضی میںعدالت سے کہا کہ کسی سنگین مسئلے پر روک لگانے کے لیے آپ کی فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔ جو کچھ جہانگیر پوری میں کیا جارہا ہے وہ مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی عمل ہے ،یہ وہ علاقہ ہے جہاں گزشتہ ہفتے فسادات ہوئے تھے۔ ان تجاوزات کے انہدام سے متعلق ایم سی ڈی نے کوئی نوٹس نہیں دیا، حالانکہ میونسپل کارپوریشن ایکٹ کے تحت اپیل کا بھی انتظام ہے، لیکن اس کا بھی وقت نہیں دیا گیا۔اس لیے اس غیر قانونی عمل کو روکنے کے لیے عدالت فوری طور سے سماعت کرے اور کوئی فیصلہ سنائے۔اس کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنانے فوری طور سے اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا۔ لیکن کورٹ کے فیصلے کے باوجود انہدائی کارروائی جاری رہی ، جس کے بعد دوبارہ دشنیت داوے نے کورٹ سے رجوع کیا اور اپیل کیکہ بلڈوزر کا استعمال کرتے ہوئے مسمار کرنے کی مہم آج صبح عدالت کی طرف سے دیے گئے حکم کے باوجود جاری ہے۔ اس کی اطلاع پا کر چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے سپریم کورٹ کے سکریٹری جنرل کو یہ ہدایت دی کہ وہ عدالت کے حکم سے شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کے حکام کو فوری واقف کرائیں۔ سینئر وکیل وشینت داوے نے عدالت کو بتایا کہ ’وہ کہتے ہیں کہ آرڈر کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ براہ کرم کچھ کریں، سکریٹری جنرل سے کہیں ‘۔ داوے نے مزید کہا، ’ میڈیا میں بڑے پیمانے پر عدالت کا حکم چلایا گیا، لیکن اس کے باوجود یہ سب جاری ہے۔ یہ درست نہیں ہے! ہم قانون کی حکمرانی میں ہیں ،سی جے آئی نے اس سے اتفاق کیا۔ دریں اثنا ایڈووکیٹ آن ریکارڈایم آرشمشاد نے مئیر شمال دہلی میونسپل کارپوریشن،این سی ٹی آف دہلی، دہلی پولیں کو خط لکھ کر سپریم کے فیصلے سے مطلع کیا تا کہ وہ فوری انہدام کو روک دیں۔ ان تمام معاملات پر جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے سپریم کورٹ میں عرضی گزار رہے مولانا نیاز احمد فاروقی نے بتایا کہ یہ ملک قانون اور اصولوں سے چلتا ہے ، لیکن جہانگیرپوری میں جو کچھ ہورہا ہے ، وہ سراسر جبرو استبداد کا معاملہ ہے ، غیر قانونی مکان یا دکان توڑنے کا ایک قانونی طریقہ ہوتا ہے ، جسے این ڈی ایم سی ڈی نے نظرانداز کرتے ہوئے کارروائی کی ہے ، اس لیے جمعیۃ علماء ہند کو مجبور اً عدالت کا رخ کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتاہے کہ اصل مقصد غیر قانونی مکان یا دکان توڑنا نہیں بلکہ ان لوگوں کا حوصلہ توڑنا ہے جنھوں نے فسادیوں سے مقابلہ کیا نیز ایک قوم کو مکمل طور سے مورد الزام ٹھہرانا ہے۔ان تمام صور ت حال پر صدر جمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر گزشتہ اور جمعیۃ علماء ہند کا ایک وفد متاثرہ علاقے کا دورہ کرچکا ہے ، نیز لوگوں کو انصاف دلانے کے لیے مقدمہ کا بھی اعلان کیا جاچکاہے ۔ مولانا مدنی نے عدالت کی طرف سے فوری حکم جاری کیے جانے پر ردعمل کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند مظلوموں کو انصاف دلانے کی لیے عدالت میں پوری تندہی سے مقدمہ لڑے گی ۔