آزاد مدارس کی اصلاح چاہتے تھے

0

عارف محمد خاں
(مترجم: محمد صغیرحسین)

20 جنوری 2009کو ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی سالانہ کانفرنس میں وزیر برائے ترقیات وسائل انسانی نے سینٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن(CBSE) کی طرز پر ایک مدرسہ بورڈ قائم کرنے کی تجویز کا اعلان کیا۔ انہوں نے بڑے وثوق سے کہا کہ یہ اقدام مدارس کے تعلیمی نظام کو نہ صرف طرز جدید سے آشنا کرے گا بلکہ فارغین مدرسہ کو سرکاری ملازمتوں کا اہل بھی بنائے گا۔
کم و بیش تمام معروف مدرسوں نے اس تجویز کی تنقید اور مخالفت کی۔ آخرکار، بیشتر علماء مدارس پر مشتمل، مسلم پرسنل لاء بورڈ نے 8فروری 2009کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں اس تجویز کی مخالفت میں ایک قرارداد پاس کی اور اسے ’اپنے دینی امور میں مداخلت‘ سے تعبیر کیا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مدارس کے تعلیمی نظام کی اصلاح کی کسی سرکاری تجویز کو علماء نے مسترد کیا ہو۔ اس سے قبل وزیرتعلیم کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد نے اصلاحات کے لیے سنجیدہ کوششیں کی تھیں لیکن وہ مدارس کے ارباب حل و عقد کو انہیں قبول کروانے میں ناکام رہے۔
فروری1947میں، مولانا نے لکھنؤ میں ایک میٹنگ کی جس میں تمام ممتاز مدرسوں کے نمائندگان شریک ہوئے۔ اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے مولانا نے اسلامی تعلیم کی ابتدائ، ترقی اور پھر پورے عالم اسلام میں اس کے انحطاط پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مدرسہ تعلیم میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔
اپنی تقریر میں مولانا نے فرمایا کہ ہر نظام تعلیم تین مرحلوں سے گزرتا ہے۔ پہلا مرحلہ ذہن انسانی میں جمع تمام علم و آگہی کی منظم ریکارڈنگ اور تدوین، ترتیب اور تبویب سے متعلق ہے۔ دوسرا مرحلہ تہذیب وآراستگی اور ترقی کا ہے جو تعلیم کے کلچر کی تعمیر کرتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں، یہ فضیلت اور کمال کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اسے تعلیم و تدریس اور تحقیق و جستجو کے ذریعہ پھیلاتا ہے۔
مولانا آزاد نے فرمایا کہ اسلامی تعلیم نے بارہویں صدی تک ان مراحل کو عبور کرلیا۔ لیکن اس کے بعد اسلامی تعلیم کی تاریخ نے ایک حیرت انگیز موڑ لیا جسے ہم دانش و بینش اور تعلیمی روایات کے عہدزوال سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ اسلامی تعلیم کا سرسبز وشاداب اور ثمردار درخت اچانک مرجھانے لگا۔
یہ زوال، سخت، بے لوچ اور ساکن و جامد نصاب کی شکل میں ظاہر ہوا، جس نے حصول تعلیم میں استدلال اور تنقیدی بازپرس کی جگہ لے لی۔ اس وقت سے تادم تحریر، چند مستثنیات کو چھوڑ کر، تمام مسلم علماء و دانشوران، علم کی ترقی و ترویج میں کوئی اساسی تعاون نہ دے سکے۔ انہوں نے خود کو علماء سابقون کی تحریر کردہ تخلیقات کے اختصارات اور شرحوں نیز تفسیروں میں محدود کرلیا۔ تعلیم کا قدیمی نظام اِملا پر مبنی تھا یعنی درس و نقد کے ذریعہ سیکھنا۔ اب اس کی جگہ رٹ کر علم حاصل کرنے کا چلن عام ہوا اور متن کے بارے میں کسی قسم کا سوال اٹھانا شہر ممنوع قرار پایا۔
مولانا آزاد نے کامل وثوق سے فرمایا کہ ہندوستان میں مدرسہ تعلیم، دانش وری کے اسی عرصۂ زوال میں شروع ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام نقائص اور خامیوں کی آئینہ دار ہے۔ معقولات (فلسفہ ومنطق) کے نام پر مدارس جو کچھ پڑھا رہے ہیں یہ وہ دقیانوسی مضامین ہیں جن کی جانب ذہن انسانی نے راغب ہونا دو صدیوں قبل ہی ترک کردیا تھا۔ یہاں تک کہ زبان سکھانے کا جو طریقہ مدارس میں رائج ہے وہ بھی خاصی اصلاح کا طالب ہے۔ انہوں نے اس بات پر اظہار افسوس کیا کہ مدرسوں میں چودہ سال گزارنے کے بعد بھی طلبا میں اتنی استعداد نہیں پیدا ہوتی کہ وہ محض دس سطریں لکھ سکیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ وہ جو عربی لکھیں گے، کوئی عرب اسے تسلیم نہ کرے گا۔
آخر میں، مولانا نے مدارس کے نمائندگان سے اپیل کی کہ دورحاضر کے تقاضوں سے آگاہ ہوں اور اپنے تعلیمی نصاب میں جدید سائنس کو شامل کرکے اسے عہدجدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ترقی اور دقیانوسیت کے مابین تصادم بڑھ جائے گا اور تاریخ شاہد ہے کہ دقیانوسیت اس مقابلہ آرائی میں ہمیشہ شکست خوردہ رہی ہے۔
گوکہ 1947میں مولانا کی بات صدا بصحرا ثابت ہوئی لیکن ان کے حکیمانہ و دانشمندانہ مشورے آج بھی لائق صد توجہات ہیں تاکہ مدرسہ تعلیم کو نافع اور بامقصد بنایا جاسکے۔
(صاحب مضمون ریاست کیرالہ کے عزت مآب گورنر ہیں)
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS