منگلورو آٹو دھماکہ دہشت گردانہ واقعہ

0

منگلورو(یو این آئی): کرناٹک کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) پروین سود نے اتوار کو کہا کہ چلتے آٹورکشا میں دھماکہ کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ دہشت گردی کا واقعہ تھا۔ سود نے ٹویٹ کیاکہ “اب اس کی تصدیق ہوگئی ہے ۔ کرناٹک پولیس مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ اس کی اچھی طرح سے جانچ کر رہی ہے۔ ”کرناٹک کے وزیر داخلہ مسٹر اراگا گیانندرا نے بھی ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعہ کی مکمل تفصیلات ایک دو دن میں معلوم ہو جائیں گی اور شبہ ہے کہ بڑی دہشت گرد تنظیمیں اس میں ملوث ہیں۔مسٹر گیانیندر نے یہ بھی کہا کہ ریاست کے ساحلی علاقوں میں پچھلے کچھ سالوں میں پیش آنے والے اس طرح کے واقعات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور جلد ہی سچائی سامنے آجائے گی۔گزشتہ روز ایک سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر آٹورکشا کو آگ پکڑتے اور پھر پھٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ اس حادثہ میں ڈرائیور اور بیگ لے جانے والا مسافر دونوں جھلس کر زخمی ہوگئے اور انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔منگلورو سٹی پولیس کمشنر مسٹر ششی کمار نے کل کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ دھماکہ آٹورکشا میں آگ لگنے سے ہوا ہے اور لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔دوسری جانب کرناٹک کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) پروین سود کے منگلورو آٹورکشا دھماکے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دینے کے بعد میڈیا کے ایک حصے میں اس معاملے کے کوئمبٹور دھماکہ کیس سے جڑے ہونے کی خبروں کے درمیان قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) کی پانچ رکنی ٹیم شہر میں موقع پر پہنچ گئی ہے ۔این آئی اے ٹیم کی جانب سے دھماکہ کی جگہ کا معائنہ کرنے کے بعد آٹورکشا کے زخمی ڈرائیور اورمسافر سے پوچھ گچھ کرنے کی توقع ہے جوجھلس گئے تھے ۔ دھماکہ ہفتہ کی شام اس وقت ہوا جب آٹورکشہ میں بیٹھا مسافرپریشر کوکر لے جا رہا تھا۔
کرناٹک کے وزیر داخلہ اراگا گیانندرا نے بھی اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ ریاستی پولیس اور این آئی اے معاملے کی جانچ کررہی ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے دوران، منگلورو پولس نے پایا کہ زخمی مسافر، پریم راج کنوگی کے پاس جعلی آدھار کارڈ تھا۔ پولیس نے کانوگی سے ایک سم کارڈ بھی برآمد کیا ہے ، جسے جنوبی ہندوستان کے ایک مقام سے فرضی آدھار کارڈ جمع کرانے کے بعد حاصل کیا تھا۔ پولیس سم کارڈ کی بنیاد پر کچھ لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تمل ناڈو پولیس بھی کوئمبٹور میں اکتوبر میں کارمیں ہوئے دھماکہ کیس میں ایسی ہی ایک تحقیقات کررہی ہے ۔ کرناٹک کے ڈی جی پی پروین سود اور تمل ناڈو کے ان کے ہم منصب شیلیندر بابو نے اس سلسلے میں بات چیت کی ہے ۔کوئمبٹور دھماکے میں جمیشا مبین نامی ایک شخص مارا گیا تھا۔ بعد میں جب تمل ناڈو پولیس نے متوفی کے گھر کی تلاشی لی تو وہاں سے بم بنانے کا مواد برآمد ہوا۔