ممتابنرجی کے وقار کی جنگ

0

کولکاتا شہر کے بھوانی پور اسمبلی حلقہ پر پور ے ملک کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔ یہاں آج ضمنی انتخاب کیلئے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ بنگال کی یہ اہم ترین اسمبلی سیٹ اس لیے بھی زیادہ اہم ہوگئی ہے کہ یہاں سے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی خود انتخاب لڑرہی ہیں۔ اگر ترنمول کانگریس یہ سیٹ ہارجاتی ہے تو پھر نہ صرف ممتابنرجی کا سیاسی کریئر سوالوں کے گھیرے میں آجائے گا بلکہ قومی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جائیں گے۔چند دنوں پہلے تک تویہ بھی محسوس ہورہاتھا کہ شاید یہاں پولنگ ملتوی ہوجائے لیکن کلکتہ ہائی کورٹ نے آخری لمحوں میں بھوانی پور اسمبلی پر ہورہے ضمنی انتخاب پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ 24ستمبر کو کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راجیش بنڈل اور جسٹس راجیوبھاردواج کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت مکمل کی تھی اور اس پر فیصلہ محفوظ رکھ لیاتھا۔ عدالت نے بھلے ہی اس انتخاب پر روک لگانے سے انکار کردیا ہو لیکن اس کے ساتھ ہی عدالت نے الیکشن کمیشن اور ریاست کے چیف سکریٹری کو نوٹس بھی جاری کیا ہے کہ انہوں نے یہ بات کیوں کہی تھی کہ اگر بھوانی پور میں انتخاب نہیں ہواتو ریاست میں آئینی بحران پیدا ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایاکہ چند مہینے قبل ہونے والے انتخاب میں کامیاب امیدوار نے بغیر کسی سنجید ہ وجہ کے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کیوں دیا۔کیا یہ عوام کے ٹیکس کی رقم کا زیاں نہیں ہے؟ عدالت اس معاملے کی اگلی سماعت 18 نومبر کو کرے گی، اس وقت تک یہاں نتائج کا اعلان ہوئے بھی دو ہفتے گزر چکے ہوں گے۔
بہرحال اس سیٹ پر اصل مقابلہ ترنمول کانگریس امیدوار وزیراعلیٰ ممتابنرجی اور بھارتیہ جنتاپارٹی امیدوار پرینکا ٹیبریوال کے درمیان ہے۔ممتابنرجی کو مغربی بنگال کا وزیراعلیٰ بنے رہنے کیلئے یہ انتخاب جیتنا انتہائی ضروری ہے۔پورے ملک کی نگاہیں اس اسمبلی حلقہ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ ممتابنرجی اپنی کرسی بچانے کیلئے بھوانی پور اسمبلی حلقہ سے میدان میں ہیں، وہ اس سے قبل نندی گرام سے اسمبلی انتخاب ہار چکی ہیں جب کہ ان کی پارٹی کو بھاری اکثریت ملی ہے، ایسے میں یہ انتخاب ممتابنرجی کی سیاسی بقا کی لڑائی ہے۔ ضمنی انتخاب کی اس اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ممتابنرجی اپنی کرسی بچاپائیں گی۔ بھوانی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کا نتیجہ آنے والے دنوں میں قومی سیاست کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ایسا نہیں کہ کوئی بھی وزیراعلیٰ ضمنی انتخاب ہارا نہیں ہے۔ ہندوستان میں دو وزیراعلیٰ ایسے گزرے ہیں، ضمنی انتخاب میں ہارجن کا مقدر بنا تھا۔1970میں اترپردیش کے تربھون نارائن سنگھ اور2009میں جھارکھنڈ کے شیبوسورین ضمنی انتخاب میں ہار کر وزارت علیا کی کرسی گنواچکے ہیں۔ بھوانی پور ضمنی انتخاب کئی معنوں میں اہم ہے۔ یہ انتخاب ممتابنرجی اور بھارتیہ جنتاپارٹی کے درمیان ایک طرح سے وقار کی لڑائی ہے۔ ممتابنرجی اسی سال ہوئے بنگال اسمبلی انتخاب میں نندی گرام سیٹ سے ہار چکی ہیں۔ اس لحاظ سے انہیں وزیراعلیٰ بنے رہنے کیلئے یہ انتخاب جیتنا ضروری ہے، وہیں بی جے پی کی کوشش ہے کہ وہ ممتاکو ہرا کر ملک کی سیاست میں ترنمول کانگریس کے بڑھتے قد کو کم کردے اور اس کیلئے اس نے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے۔ کچھ دنوں پہلے ممتابنرجی نے بھوانی پور میں انتخابی مہم کے دوران لوگوں سے جذباتی اپیل کی تھی کہ اگر لوگوں نے ووٹ دے کر انہیں کامیاب نہیں بنایا تو پھر وہ ممتابنرجی کو اپنے یہاں نہیں دیکھ پائیں گے، وزیراعلیٰ کوئی اور بن جائے گا۔
حالانکہ ممتابنرجی کیلئے بھوانی پور سیٹ نئی نہیں ہے، اس سے پہلے وہ 2011 اور 2016 میں بھی یہاں سے ا نتخاب لڑچکی ہیں۔ 2021 میں انہوں نے بھوانی پور کے بجائے نندی گرام سے انتخاب لڑا اور ہارگئیں۔ ان ہی کے سپہ سالاراور ترنمول کانگریس سے بی جے پی میں جانے والے شوبھندو ادھیکاری نے انہیں نندی گرام سے ہرا دیا۔چونکہ وزیراعلیٰ بنے رہنے کیلئے انہیں6مہینہ کے اندر اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنی ہوگی، اس لیے بھوانی پور سے ترنمول امیدوار شوبھن دیب چٹوپادھیائے نے استعفیٰ دے کر یہ سیٹ ان کیلئے خالی کردی۔ 2011میں اس سیٹ سے ممتابنرجی کو 77فیصد ووٹ ملے تھے، 2016میں ان کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب کم ہوکر 48فیصد رہ گیا تھا، 2019کے لوک سبھا انتخاب میں اس حلقہ سے ترنمول کانگریس کا ووٹ بی جے پی کے مقابلے میں صرف 3000 ہی زیادہ تھا۔تازہ جائزہ کے مطابق بھوانی پور میں 40فیصد ووٹر غیربنگالی ہیں جن میں گجراتی ،مارواڑی ، مسلمان ، پنجابی اور اڑیہ اہم ہیں۔ان میں سے گجراتی اور مارواڑی ووٹوں کا جھکائو بی جے پی کی جانب ہے۔ ممتاکی جیت کا دارو مدار زیادہ تر مسلم ووٹ پر ہے۔ممتابنرجی کیلئے یہ ضمنی انتخاب بنگال سے بھی زیادہ قومی سطح پر اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ اسمبلی انتخاب میں ترنمول کانگریس کی بھاری جیت نے ممتابنرجی کو قومی سطح پربظاہر بی جے پی مخالف بڑا چہرہ بنادیا ہے۔ اپنی اس شبیہ کو برقرار رکھنے اور قومی سیاست میں قسمت آزمائی کیلئے ممتابنرجی کا بھوانی پور سے کامیاب ہوناضروری ہے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here