مدھیہ پردیش: گربا پنڈال پر پتھراؤ کرنے کے الزام میں پولیس نے تین مسلمانوں کے گھر پر بلڈوزر چلایا

0

نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے مندسور ضلع میں گربا پنڈال میں دو گروپوں کے درمیان تنازعہ کے بعد پتھراؤ ہو گیا۔ پولیس نے 19 افراد کے خلاف معاملہ درج کیا ہے، جن میں سے تین افراد کے گھروں کو غیر قانونی تعمیرات بتا کرتوڑ دیا گیا۔
ایک پولیس افسر نے منگل کو بتایا کہ ضلع کے سیتامئو تھانہ حلقہ کے سرجانی گاؤں میں 2 اکتوبر کی رات کو پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا، جس میں چار لوگ زخمی ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ دو گروپوں کے درمیان تنازعہ کے بعد گربا پنڈال میں پتھراؤ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) انوراگ سوجانیا نے صحافیوں کو بتایا کہ 19 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے اور ان میں سے سات کو تفتیش کے بعد حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ملزمین عادی مجرم ہیں۔
ایس پی نے بتایا کہ منگل کو محکمہ ریونیو کی مدد سے تینوں ملزمین کی ساڑھے چار کروڑ روپے سے زیادہ کی قیمت کی 4500 مربع فٹ سے زیادہ کی غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
پولیس افسر نے بتایا کہ پنڈال میں پتھراؤ کے سلسلے میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، سلمان نامی شخص موٹر سائیکل پر اسٹنٹ کر رہا تھا کہ اس کے اور ایک دوسرے شخص کے درمیان لڑائی ہو گئی۔ بعد میں سلمان اور اس کے ساتھی اس شخص کی تلاش میں گربا پنڈال پہنچے اورمعاملہ پتھراؤ میں تبدیل ہوگیا۔
دینک بھاسکر کے مطابق، شیو لال پاٹیدار نامی شخص نے سلمان خان کے والد سے موٹر سائیکل چلانے کے طریقے کے بارے میں اس بات کی شکایت کی تھی۔ اس بات پر دونوں میں جھگڑا ہوگیا۔ اس کے بعد 2 اکتوبر کی رات سلمان اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس شخص کی تلاش میں گرباپنڈال میں پہنچا۔اخبار کے مطابق،وہاں لڑائی ہوئی جس میں سلمان نے شیو لال کے ساتھی مہیش کو مارا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جیسے ہی زیادہ لوگ جمع ہوئے، سلمان اور اس کے ساتھیوں نے پتھراؤ کیا، جس میں ایک خاتون زخمی ہوگئی۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق، مہیش پاٹیدار اور شیو لال کو ضلع اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
متعدد مقامی اخبارات نے ابتدائی واقعہ کے سلسلے میں پرتشدد تنازعہ کا ذکر کیے بغیر، مسلمانوں کی طرف سے گربا پنڈال پر پتھراؤ کیے جانے کےواقعہ کے طور پر اس کورپورٹ کیا ہے۔
کئی خبر رساں اداروں نے اس واقعے کو گرباپنڈال پر مسلمانوں کی طرف سے پتھراؤ کے طور پرپیش کیا ہے، لیکن پرتشدد جھگڑے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ایس پی انوراگ سوجانیا نے کہا، دو گروپوں کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے گربا پنڈال میں پتھراؤ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔سلمان کا گھر بھی ان تین ملزمین میں شامل ہے جن کے گھرتوڑے گئے ۔
مندسور کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ سندیپ شیوا نے کہا، مکانات غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے اس لیے ہم نے انہیں گرا دیا۔ ہم تمام ملزمین کی جائیداد کے کاغذات چیک کر رہے ہیں اور اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اس معاملے میں اب تک 11 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
دی وائر ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ہماری صحافت کو سرکاری اور کارپوریٹ دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے مالی تعاون کیجیے۔