آج کے میڈیا سے ادب کا تقاضا

0

محمد فاروق اعظمی

سال 2022 اردو صحافت کی 200 ویں سالگرہ منائے جانے کا سال ہے اور اس نسبت سے ملک بھر میں مختلف طرح کے پروگرام سمینار، سپموزیم، مذاکرے، مباحثے اور تقریبات کا انعقاد کیاجارہاہے ۔ گزشتہ دنوں مغربی بنگال اردو اکادمی نے تو باقاعدہ ’ جشن جام جہاں نما‘ میں ملک کے نامور ادیبوں اور دانش وروں کی انجمن سجائی تھی؟ جنہوں نے صحافت کی ’عظمت رفتہ ‘ پر بھرپور روشنی ڈالی اور اب ساہتیہ اکادمی ’نئی دہلی نے دی مسلم انسٹی ٹیوٹ ‘ کلکتہ کے اشتراک سے ’ میڈیا ا ور ادب ‘کے موضوع پر قومی سطح کا سمپوزیم منعقد کرکے صحافت میں ادب تلاش کرنے کا کام مقالہ نگاروں کو سونپا تھا ۔نصف درجن مقالہ نگاروں نے صحافت میں ادب کی تلاش کیلئے ڈول ڈالے؟ گوہر مرادہاتھ آیا نہیں اس سے قطع نظر میڈیا اور ادب کے مابین بڑھتی دوری کاشکوہ کم و بیش سب ہی نے کیا۔ لیکن کسی نے بھی ان وجوہات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اس کی وجہ کیا ہے ۔ آج کی میڈیا اورا دب کا رشتہ اتنا کمزور کیوں ہو چکا ہے۔ آخر کیاوجہ ہے کہ کسی زمانے میں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہی نہیںایک دوسرے کے مترادف سمجھی جانے والی صحافت اور ادب میں اب وہ تعلق باقی نہیں رہا ہے ۔

شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ صحافت اب صرف ’میڈیا‘ بن کر آج نظام زر کی گود میں ہمک رہا ہے۔ تجارت، کاروبار اور اس سے بھی آگے اب اسے باقاعدہ صنعت کی صورت دے دی گئی ہے ۔ اس وقت میڈیا 40 ارب ڈالر کی صنعت ہے۔ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 600 سے زائد ٹی وی چینلزہیں اورملک کے15کروڑ خاندان باقاعدہ ادائیگی کرکے ان چینلوں کو دیکھتے ہیں ۔ملک میں مختلف زبانوں کے 70ہزار سے زائد اخبارات نکلتے ہیں اور ہر سال ایک ہزار سے زیادہ فلمیں بن رہی ہیں ۔اتنی بڑی صنعت اور شعبہ کو سنبھالنا، اس میں اخلاقیات اور ادب کی روح شامل کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ بدقسمتی یہ بھی ہے کہ فی الحال ملک میں اس کیلئے کوئی طے شدہ اورسوچی سمجھی پالیسی بھی نہیں ہے ۔ ایک صدی قبل تک یہ صورتحال نہیں تھی۔ صحافت ایک مشن ہوا کرتا تھا ۔اس کوچہ میں قدم رکھنے والے ستائش اور صلہ کی تمنا سے بے پروا تھے۔ان کا صحافتی سفر تین مختلف جہات میں تھا ایک جانب وہ آزادی کی جدوجہد کو اپنے لہو سے سینچ رہے تھے تو دوسری طرف سماج اور معاشرہ کی رہنمائی کا بار گراں بھی ان کے ہمدوش تھا، تیسری جانب ادبی ترقی بھی ان کے پیش نظر تھی اور اس سفر کا ایک واحد عظیم مقصد آزادی کا حصول تھا ۔جہاں اس وقت کی سیاسی صحافت کے باطن میں ادب کی جلوہ نمائی تھی تو ادبی صحافت بھی سیاسی نظریات سے مملو تھی۔ تحریک آزادی کے دوران صحافت کا یہ اندازعوام کی بیداری اوران میں جذبۂ حب الوطنی اجاگر کرنے کا سبب بنا۔انگریزی حکومت کے خلاف عوام کے دلوں میں چھپے ہوئے جذبہ نفرت کو ہواملی اوریہ چنگاری شعلہ جوالہ بن کر تاج برطانیہ کو ہندوستان کی ٹھوکروں میں لادیا۔
آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ کم و بیش80کی دہائی تک قائم رہا۔ لیکن اس کے بعد ہندوستان کی معیشت نے کروٹ لی ‘ سیاسی اور سماجی سطح پر تبدیلیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیاجس کا اثر قارئین پر بھی پڑا۔ جیسے جیسے خواندگی اور تعلیم پھیلی اخبارات و رسائل کاپھیلائو بھی بڑھتا گیا اورا نہیں نئے نئے قارئین ملنے لگے ۔ یہ قارئین اپنی دلچسپی اور مطالعہ کے لحاظ سے پہلے کے قارئین سے مختلف تھے ۔ اخبارات اور رسائل کو اپنا وجود برقرار رکھنے کیلئے اپنی اشاعتوں میں نئے قارئین کی دلچسپی کا مواد شامل کرنا پڑاجن اخبارات اور رسائل نے اپنے معیار سے سمجھوتہ نہیں کیا اورخود کو قارئین کے مزاج میں نہیں ڈھالا وہ ماضی کا قصہ بن گئے۔بڑے بڑے اخبارات اور رسائل اس دور میں بند ہوئے۔ 90کی دہائی میں معاشی اصلاحات نے تو صحافت کی کایا پلٹ دی ۔ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے استعمال نے مکانی فاصلے کو بالکل ہی ختم کردیا۔غیر ملکی سرزمین پر تیار ہونے والے پروگرام ہندوستان کی ٹیلی ویژن چینلوں پر نشر ہونے لگے ۔اخبارات و رسائل میں بھی بھاری سرمایہ کاری ہوئی اورا ن کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔’ بوم ‘ آجانے کے بعد سے زمانی فاصلہ بھی بالکل ہی ختم ہوگیاجو مواداگلے دن اخبارات میں اورایک ہفتہ اورا یک ما ہ بعد رسائل میں آتا تھا وہ فوراً ہی ٹیلی ویژن پر نظرآنے لگا۔ سوشل میڈیا کا چنچل نگار خانہ بھی آنکھوں کو خیرہ کرنے لگا۔
معاشی اصلاحات نے میڈیا کا دائرہ وسیع ضرور کیا لیکن اسے اس کے منہج سے ہٹادیا۔بھاری سرمایہ لگانے والوں نے آزادی کے جذبہ سے شروع ہونے والی صحافت کو منافع کشید کرنے کا میڈیم بنالیا ۔ ان کے نزدیک صحافت اور نامہ نگاری کا تقدس بے معنی ٹھہرا اورخبریں تخلیق کرنے والے نامہ نگار اور صحافی کو بھی زمین کھود کرروٹی کمانے والے مزدور کی صف میںلا کھڑا کردیاگیا۔ان حالات میں فی سبیل اللہ نامہ نگاری کرنے والے تو آزادی کا دعویٰ کرسکتے ہیں لیکن سکہ رائج الوقت میں مزدوری پانے والا صحافی اور نامہ نگار اپنے آجر کا پابند ہوگیا۔ بازار پر اپنی گرفت بنائے رکھنے کیلئے آجروں اور سرمایہ داروں نے سماج میں میڈیا کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔اپنے مالی مفادات کے تحفظ کیلئے انہوں نے کبھی میڈیا کا استعمال حکمرانوں کیلئے کیا تو کبھی حزب اختلاف کے محبوب بن گئے ۔بہت سے ایسے بھی میڈیا مالکان ہیں جنہوں نے اپنی ناجائز کمائی اور لوٹ مار کومحفوظ بنانے اوراپنے بزنس امپائر کے گرد حفاظتی دیوار کے طور پر اخبارات اور ٹیلی ویژن چینل کھول رکھے ہیںاوران میں لاکھوں روپے کی تنخواہ پرصحافی اور اینکر پرسن کو ملازم رکھا ہے ۔جو عوام کے حقیقی مسائل کو آنکھوں سے اوجھل رکھنے کیلئے روزانہ 24 گھنٹے کی نشریات میں سیاسی نوراکشتی دکھاتے اور اخبارات کے صفحات سیاہ کرتے رہتے ہیں۔اس طرح میڈیا اور صحافت سے اس کا پرانا کردار چھین کر سرمایہ داروں اور زرداروں نے اسے اپنے تجارتی مفادات کانگہبان بنا رکھا ہے۔یہ وہ معروضی حقائق ہیں جو دھیرے دھیرے میڈیا اورا دب میں دوری کا سبب بنے ۔ اگر ماضی کی طرح ہی میڈیااور صحافت کارشتہ ادب سے جوڑنا اور اسے سماج کی رہبری کا تاج پہنانا مطلوب ہو تو پھر اس پورے نظام زر کو بدلنا ہوگا جو کہ ممکن نہیں ہے ۔یہ الزام کہ آج کی صحافت، انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہے، اس کی نوعیت مبہم اور ادب کی نفی اس کے خمیرمیں سرایت کرگئی ہے، ہوسکتا ہے کہ درست ہو اور یہ شکوہ بھی بجا کہ آج کا صحافی ادب کا سنجیدہ طالب علم نہیں ہے،لیکن اس کا بھی جواب دیناہوگاکہ کیا ادب بھی صحافت کو اس کا مطلوبہ مقام دے رہا ہے،اس کا جواب نفی میں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ صحافت کو ایک کم درجہ کی چیز سمجھ کر ’ادب عالیہ‘ کے اماموں نے ہمیشہ اس سے بے اعتنائی برتی ہے ۔’میڈیا اور ادب ‘ پر ہونے والا سمپوزیم بھی اس رویہ سے مستثنیٰ نہیں رہ سکا۔
[email protected]