زہریلی ہوا کے درمیان زندگی

0

صاف شفاف ہوا اور پانی انسانی زندگی کی بقا کی شر ط ہوتے ہیں، ان دونوں میں سے اگر کوئی بھی آلودہ ہوجائے تو انسان موت کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے اور اس کا جینا مشکل نظر آنے لگتا ہے۔گزشتہ کچھ دنوں سے دارالحکومت دہلی کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے جہاں ہوااتنی زہریلی ہو گئی ہے کہ اس میں سانس لینا مشکل ہوگیا ہے۔ہر سال کی طرح آج ایک بار پھر صورتحال ہنگامی بنی ہوئی ہے۔دہلی کے عوام اسی زہریلی ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہیں،بالخصوص دمہ کے شکار اور پھیپھڑوں کے مریضوں کا تو حال بے حال ہے۔دہلی کے اسپتالوں میں تو سانس کے مریضوں کا تانتا لگا ہوا ہے جہاں ہر 24گھنٹہ میں 25-30مریض علاج کے لیے پہنچ رہے ہیں۔لیکن بات صرف مریضوں کی ہی نہیں، صحت مند لوگ جس میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں، اس زہریلی ہوا سے اب پناہ مانگنے لگے ہیں۔نہ تو وہ سڑک، دفاتر اور اسکولوں میں محفوظ ہیں اور نہ ہی اپنے گھروں میں۔ ظاہر ہے جب ایسی صورتحال ہو تو یہ کافی تشویشناک بات ہوجاتی ہے ،اس لیے اس کا سدباب بھی ڈھونڈنا نہایت ضرور ی ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج اس کی روک تھام کیلئے جس ڈھنگ سے کوششیں ہورہی ہیں،اس پر رونا آتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔جس طرح بیان بازی کرکے ایک دوسرے کی گردن ناپی جارہی ہے، وہ اس کا حل ہرگز نہیں ہوسکتا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس معاملے پر ہر سال زبانی جمع خرچ کرکے کام چلا لیا جاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ آلودگی کچھ دنوں کے بعدخود بخود کم ہو جاتی ہے اور پھر تمام فائلیں بند کر کے رکھ دی جاتی ہیں۔ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اس کے سدباب کے لیے کیا کوئی سنجیدہ کوششیں بھی ہوں گی یا صرف زبانی جمع خرچ، الزامات اور بیان بازی سے ہی کام چلتا رہے گا؟تعجب کی بات ہے کہ ایسے سنجیدہ معاملے پر،جب آلودگی لوگوںکی زندگی کا سوال بن گئی ہو، سیاسی پارٹیاں اور حکومتیںذمہ داریوں سے پلہ جھاڑتے ہوئے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف ہیں؟ گزشتہ کچھ سالوں کے دوران دیکھا گیا کہ پالیوشن کے معاملے پر کئی بار دہلی حکومت کو سپریم کورٹ تک گھسیٹا گیا، این جی ٹی اور ایل جی نے اپنے اپنے اختیارات کا استعمال کیا لیکن وہی ڈھاک کے تین پات،پھر بھی اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ دہلی کے وزیراعلیٰ کجریوال پنجاب میں فصلوں کی باقیات کو جلا نے کا حوالہ دے کر ہر مرتبہ خود کو ضرور بچا لے گئے لیکن وہ دہلی کے عوام کو جان لیوا پالیوشن سے نجات دلانے کیلئے آج تک کچھ نہیں کر سکے۔
اب جبکہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے تو اسے ذمہ دار ٹھہرانے کیلئے ان کے لب سلے ہوئے ہیں۔ ہما را مقصد کسی ایک جماعت یا حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ انہیں ان کا فرض یاد دلانا ہے کہ سبھی اس معاملے پر سنجیدگی دکھائیں اور عوام کو بے وقوف نہ بنایا جائے۔سوال یہ ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں سے ہی دہلی میں گرد اور دھوئیں کی چادر کیوں اور کیسے چھانے لگی ہے ،جبکہ فصلوں کی باقیات اور چولہے تو کسان برسہا برس سے جلاتے آئے ہیں لیکن تب بھی ایسے حالات نہیں رہے! دہلی میں اگر پنجاب کے کھیتوں کا دھواں ذمہ دار ہے تو پھر ممبئی اور دیگر شہروں میں آلودگی میں اضافہ کیوں دیکھا جاتا ہے ؟ان سب کے درمیان غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ کیا اس کے پیچھے ہماری حکومتوں کی ماحولیات کو نظرانداز کرکے فائدہ اٹھانے والی پالیسیاں اور فیصلے تو ذمہ دار نہیں ہیں ؟ حکومت کو ان پالیسیوں اور فیصلوں پر بھی نظر دوڑانے کی ضرورت ہے جوماحولیات اور انسانی زندگی کیلئے بظاہر مفید تو ہیں لیکن مضر بھی ہیں۔
الغرض،دہلی اور دیگر بڑے شہروں میں بڑھتی آلودگی کے اصل اسباب کا پتہ لگانے کی کوشش ضرور کی جانی چاہیے کیونکہ یہ انسانی زندگی کے لیے خطرناک بن گئی ہے لیکن اس سے پہلے اس ’’ سیاسی آلودگی ‘‘کا گلا گھونٹنا بھی ضروری ہوجاتاہے جو ہماری زندگیوں کیلئے اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔بہر حال ہم زہریلی ہوا کے درمیان زندہ ہیں، موجودہ صورتحال کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ صرف دہلی ہی نہیں پورے ملک کے انسانوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں، لیکن اس پر گھنائونی سیاست ہی ہو رہی ہے اور حکومت بے حسی کی چادر اوڑھے ہوئے ہے! کسی عملی اقدامات کے بجائے اور کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر صرف بیانوں اور الزام تراشیوں سے کام چلایا جارہا ہے۔ غلط نہیں کہ اس فضائی آلودگی کی طرح ’سیاسی آلودگی ‘ بھی انسانی زندگی کی کہیں بڑی دشمن اور اس کے لیے مضر ہے جس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS