ہندوستان کا قائدانہ کردار

0

امریکی افواج کے انخلا کے بعد منتخب حکومت کے سربراہ اشرف غنی کی فرار اور افغانستان کے اقتدار پر طالبان کے قبضہ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر ہندوستان کی تشویش کو نظرا نداز نہیں کیاجاسکتا ہے۔خطہ کی ایک اہم طاقت اور اچھا ہمسایہ ہونے کے ناطے ہندوستان نے افغانستان کی ترقی، تعمیر نواور بحالی میں ہمیشہ ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔ لہٰذا یہ کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے کہ افغانستان کے مسئلہ پر ہندوستان الگ تھلگ رہے اور وہاں ہونے والی تبدیلیوں سے صرف نظر کرے۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے پیش قدمی کی اور قائدانہ کردار اداکرتے ہوئے افغانستان کے مسئلہ پر علاقائی سلامتی اجلاس طلب کرلیا۔ قومی دارالحکومت نئی دہلی میںا جیت ڈوبھال کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں وسط ایشیا کے 5 ممالک قزاقستان،کرغزستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے علاوہ ایران اور روس کے قومی سلامتی کے مشیروں اور سلامتی کونسل کے سکریٹریز نے شرکت کی۔
اس اجلاس کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا گیا اسے خطہ میں بحالی امن کیلئے ہندوستان کی ایک مثبت پیش رفت کہاجاسکتا ہے۔ ’ دہلی اعلامیہ افغانستان ‘ کے نام سے جاری ہونے والے 12نکاتی اعلامیہ میں افغانستان کی بحالی نوا ور ترقی و تعمیر کے حوالے سے کئی باتیں کہی گئی ہیں۔اعلامیہ میں افغانستان کی سیاسی صورتحال، دہشت گردانہ واقعات اور اس سے پیداشدہ خطرات کا ازالہ نیز افغانستان کے عوام کیلئے انسانی امداد کی ضرورت پر زور دیاگیا۔ اعلامیہ میں پرامن، محفوظ اور مستحکم افغانستان کیلئے ہندوستان اور دیگر ممالک کی بھرپور حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے افغانستان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کااحترام کرنے اور اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔اجلاس میں شامل تمام ممالک کا اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ افغانستان کی سرزمین کا استعمال دہشت گردی کو فروغ دینے، دہشت گردی کی تربیت، منصوبہ بندی یا کسی مالی امداد کیلئے نہیں کیاجاناچاہیے۔اس کے ساتھ ہی افغانستان میں ایک ایسی جامع حکومت کی تشکیل پر زور دیاگیاجس میں تمام برادریوں اور سیاسی قوتوں کی مناسب نمائندگی ہواور اس حکومت کو افغان عوام کی مکمل تائید بھی حاصل ہو۔
یہ اعلامیہ ہندوستان اور اجلاس میں شامل دیگر ممالک کی جانب سے افغانستان کی صورتحال پرا نسانی ہمدردی کا بین اظہار ہے،عالمی برادری نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ افغانستان کے مسئلہ پر ہندوستان کی یہ پیش قدمی اور قائدانہ کردار بجا طورپر انسانی ہمدردی اور خطہ میں امن و استحکام کی مثبت کوشش ہے۔ اجلاس میں پاکستان اور چین نے بھلے ہی شرکت نہیں کی لیکن وہ اس اجلاس کے نتیجہ خیز ہونے سے واقف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ٹھیک اگلے دن اس مسئلہ پر ’ٹرائیکا پلس‘ کا اجلاس بلالیا۔
جمعرات کو اسلام آباد میں روس، امریکہ اور چین کااجلاس بلاکر پاکستان نے افغانستان کے مسئلہ پر ہندوستان کے اقدام کو ہلکا کرنے کی کوشش ہے لیکن اس کی یہ کوشش بہرحال کامیاب نہیں ہوسکی کیوں کہ ہندوستان میں ہوئے اجلاس کے اگلے ہی پل خود طالبان نے ہندوستانی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے اسے افغانستان کے مفاد میں ہندوستان کا بڑا قدم قرار دے دیا۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے یہ اعلان بھی کردیا کہ ہندوستان میں علاقائی سلامتی کے مشیروں کااجلاس ہندوستان کی ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس سے افغانستان میں امن و استحکام لانے میں مدد ملے گی۔طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ہر ایسے اقدام کی حمایت کرتے ہیں جو ان کے ملک میں امن اور استحکام لانے میں مدد کرتا ہو، شہریوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہو اور ملک سے غربت کے خاتمے میں مدد گار ہو۔
افغانستان پر قبضہ کے بعد سے ہندوستان کے تئیں اب تک طالبان کا رویہ معتدل رہاہے۔طالبان 2-کی جانب سے نہ ہندوستان کے خلاف کوئی بیان بازی ہوئی ہے اور نہ کسی مسئلہ پر تصادم کی نوبت آئی ہے۔ حتیٰ کہ کشمیر کے مسئلہ پر بھی دامن بچاتے ہوئے طالبان کہہ چکے ہیں کہ یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اوروہ اس معاملہ میں کچھ نہیں بولیں گے۔ دہلی اعلامیہ کا طالبان کی جانب سے خیر مقدم بھی یہی اشارہ دے رہاہے کہ طالبان ہندوستان کے ساتھ کسی بھی طرح کا اختلاف رائے اور تصادم نہیں چاہتے ہیں۔
طالبان کویہ ادراک ہے کہ ہندوستان نے افغانستان میں اربوں ڈالر کا سرمایہ لگایا ہے۔افغانستان کی تعمیرنو کے منصوبوں میں ہندوستان نے تقریباً تین ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ پارلیمنٹ کی عمارت سے لے کر سڑکیں اور ڈیم بنانے تک کے کئی منصوبے اور دیگر ترقیاتی پروجیکٹ ہندوستان کی وجہ سے ہی پورے ہوئے ہیں اور ابھی بھی افغانستان کو ہندوستان کی سخت ضرورت ہے۔ ایسے میں وہ ہندوستان کے ساتھ کسی بھی طرح کے ٹکرائوسے گریزکررہے ہیں۔
ہندوستان کے اقدام کی طالبان کی جانب سے پذیرائی اور پاکستان کاگھبراکر الگ سے اجلاس بلانا یہ اشارہ ہے کہ طالبان اور پاکستان دونوں ہی نہ چاہتے ہوئے بھی ہندوستان کو خطہ میں نہ صرف ایک اہم طاقت سمجھنے پر مجبور ہیں بلکہ اس کے قائدانہ کردار سے انہیں تشویش بھی لاحق ہوگئی ہے۔ یہ ہندوستان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS