معروف ماہر اقتصادیات اور ریزروبینک کے سابق گورنر رگھورام راجن کاحکومت ہند کو مشورہ

0

معیشت میں کئی ’سیاہ دھبے‘،خرچ میں احتیاط کی ضرورت
نئی دہلی (پی ٹی آئی) : ریزروبینک کے سابق گورنر رگھورام راجن نے کہا ہے کہ ’ہندوستانی معیشت میں چمکیلے مقامات کے ساتھ کچھ کالے دھبے‘ بھی ہیں۔ایسے میں سرکار کو اپنے خرچ کو احتیاط سے طے کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ مالیاتی خسارہ کو بہت اونچائی پر پہنچنے سے روکا جاسکے۔ راجن اپنے خیالات کوواضح طریقے سے رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ معروف ماہر اقتصادیات نے کہا کہ سرکار کو معیشت کی ’کے‘ شکل بحالی کوروکنے کے لیے مزید تدبیر کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر ’کے‘ شکل کی بحالی میں ٹکنالوجی اور بڑی پونجی جاتی کمپنیوں کی حالت عالمی وبا سے زیادہ متاثر چھوٹے کاروباریوں اور صنعتوں کے مقابلے میں تیزی سے بہترہوتی ہے۔ راجن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’معیشت کے بارے میں میری سب سے بڑی تشویش متوسط طبقہ، چھوٹے اور درمیانہ سیکٹر اور ہمارے بچوں کو لے کر ہے۔ یہ تمام چیزیں دبی مانگ سے شروعاتی بحالی کے بعد ’کھیل‘ میں آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اِن سبھی کی ’علامت‘ کمزور صارف مانگ ہے۔ خاص طور پر وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے کنزیومر پروڈکٹس کی مانگ کافی کمزور ہے۔ راجن فی الحال شکاگو یونیورسٹی کے بوتھ اسکول آف بزنس میں پروفیسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت میں ہمیشہ چمکدار مقامات کے ساتھ گہرے سیاہ دھبے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چمکدار علاقوں کی بات کہی جائے تو اس میں صحت خدمات کی کمپنیاں آتی ہیں۔ اس کے علاوہ انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی) اور آئی ٹی سے وابستہ سیکٹر زبردست کاروبار کررہے ہیں۔ کئی شعبوں میں یونیکارن (ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت) بنے ہیں اور مالیاتی سیکٹر کے کچھ حصے بھی مضبوط ہیں۔ ریزروبینک کے سابق گورنر نے کہا کہ ’سیاہ دھبوں کی بات کی جائے تو بے روزگاری ، کم خرید طاقت (خاص طور پر نچلے متوسط طبقے میں)، چھوٹی اور درمیانے سائز کی کمپنیوں کا مالیاتی دباؤ اس میں آتا ہے‘۔ اس کے علاوہ سیاہ دھبوں میں قرض کا سست اضافہ اور ہمارے اسکولوں کی پڑھائی بھی آتی ہے۔ راجن نے کہا کہ کورونا وائرس کی نئی شکل اومیکرون طبی اور اقتصادی سرگرمیوں دونوں کے لیے دھچکا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے سرکار کو کے-شکل کی بحالی کے تئیں آگاہ کیا۔ راجن نے کہا کہ ہمیں کے-شکل کی بحالی کو روکنے کے لیے ہر ممکن تدبیر کرنی چاہئے۔ رواں مالی سال میں ہندوستانی معیشت کی شرح نمو کے9فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ گزشتہ مالی سال میں ہندوستانی معیشت میں 7.3 فیصد کی گراوٹ آئی تھی۔ مالی سال 2022-23 کا عام بجٹ یکم فروری کو پیش کیا جائے گا۔ بجٹ سے پہلے راجن نے کہا کہ بجٹ دستاویز ایک ’نقطہ نظر‘ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں ہندوستان کے لیے 5یا 10 سال کا نقطہ نظر یا سوچ دیکھنا چاہتا ہوں‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا سرکار کو مالیاتی مضبوطی کے لیے قدم اٹھانے چاہئے یا حوصلہ افزائی کی تدبیروں کو جاری رکھنا چاہئے، راجن نے کہا کہ وبا کے آنے تک بھی ہندوستان کی مالیاتی حالت اچھی نہیں تھی۔ ’یہی وجہ ہے کہ وزیر خزانہ اب کھلے ہاتھ سے خرچ نہیں کرسکتیں‘۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ضرورت ہے، وہاں سرکار خرچ کرے، لیکن ہمیں خرچ احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ مالیاتی خسارہ بہت بلندی پر نہیں پہنچ جائے۔ افراط زر کے بارے میں راجن نے کہا کہ آج دنیا کے سبھی ملکوں کے لیے مہنگائی تشویش کا موضوع ہے اور ہندوستان اس کا استثنیٰ نہیں ہوسکتا۔