لکھیم پور تشدد معاملہ :آشیش مشر کی ضمانت کے خلاف اپیل دائر کرنے کی سفارش

0

نئی دہلی (یو این آئی) : لکھیم پور کھیری میں تشدد کے معاملے کی جانچ کرنے والی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے حکومت اترپردیش سے اس معاملے کے کلیدی ملزم آشیش مشر کی ضمانت کے خلاف اپیل دائر کرنے کی سفارش کی ہے۔ چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ ایس آئی ٹی کی سفارش کے پیش نظر پیر تک اپنا جواب داخل کرے۔ سپریم کورٹ اس معاملے کی اگلی سماعت 4اپریل کو کرے گا۔الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 10فروری کو مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشر کے بیٹے آشیش کو ضمانت دے دی تھی۔ متاثرہ کسانوں کے اہل خانہ اور دو وکلاء نے ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔لکھیم پور میں آشیش کی کار سے مبینہ طور پر کچلے جانے والے کسانوں کے رشتہ داروں کی طرف سے ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ میں آشیش کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔مہلوک کسانوں کے اہل خانہ کی قیادت کررہے جگجیت سنگھ کی جانب سے ایڈووکیٹ مسٹر بھوشن نے فروری میں خصوصی رخصت کی درخواست دائر کی۔ درخواست گزار نے ضمانت کے لیے اختیار کیے گئے پیرامیٹرز کو قانونی عمل اور انصاف کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دیا ہے ۔کسانوں کے اہل خانہ کی جانب سے کچھ دن پہلے ایڈووکیٹ سی ایس پانڈا اور شیو کمار ترپاٹھی نے بھی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ میں خصوصی رخصت کی درخواست دائر کی تھی۔ ان وکلاء کی عرضی پر سپریم کورٹ نے معاملے کی جانچ کیلئے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔
گزشتہ سال 3اکتوبر کو اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں چار کسانوں کو آشیش کی کار نے مبینہ طور پر کچل کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد ہونے والے تشدد میں دو بی جے پی کارکنوں کے علاوہ کار ڈرائیور اور ایک صحافی کی موت ہو گئی تھی۔اس واقعہ کے بعد ایڈووکیٹ مسٹر پانڈا اور مسٹر ترپاٹھی نے اس معاملے میں ایک پی آئی ایل کے ساتھ پچھلے سال سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس کے بعد عدالت نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد پورے معاملے کی جانچ کیلئے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس راکیش کمار جین کی قیادت میں ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔کسانوں کے خاندانوں کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے 10فروری کے اپنے حکم میں آشیش کو ضمانت دینے میں’غیر معقول اور من مانے ڈھنگ سے صوابدید کا استعمال کیا‘۔درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ انہیں کئی ضروری دستاویزات ہائی کورٹ کے نوٹس میں لانے سے روکا گیا ہے۔ ان کے وکیل کو 18جنوری 2022کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر ورچوئل سماعت سے منقطع (ڈس کنیکٹ) کردیا گیا تھا اور اس سلسلے میں عدالتی عملے سے رابطہ کرنے کیلئے بار بار کال کی گئی، لیکن کال کنیکٹ نہیں ہوسکی۔ عرضی گزار کا دعویٰ ہے کہ اس طرح آشیش کی ضمانت کی مخالفت کرنے والی اس کی درخواست کو بغیر کسی مؤثر سماعت کے خارج کر دیا گیا۔ جگجیت سنگھ کی سربراہی میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کی ایک وجہ اتر پردیش حکومت کی جانب سے آشیش کی ضمانت کے خلاف اپیل دائر نہیں کرنا ہے ۔میں اسی پارٹی کی حکومت میں ہوں، جس میں ملزم آشیش کے والد مرکز میںوزیر مملکت ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ریاستی حکومت نے ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل نہیں کی۔درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ ہائی کورٹ جرم کی سنگین نوعیت پر غور کرنے میں ناکام رہی۔