کرشن جنم بھومی-شاہی عیدگاہ معاملہ:مقدموں کی اگلی سماعت کیلئے5 اور22 دسمبر کی تاریخ طے

0

کرشن جنم بھومی-شاہی عیدگاہ معاملہ:مقدموں کی اگلی سماعت کیلئے5 اور22 دسمبر کی تاریخ طے
متھرا، (پی ٹی آئی) :متھرا میں شری کرشن جنم بھومی-شاہی عیدگاہ معاملے میں ایک مقامی عدالت نے 2 الگ الگ عرضیوں کی سماعت کرتے ہوئے اگلی سماعت کےلئے بالترتیب 5 اور 22 دسمبر کی تاریخ طے کی ہے۔
متھرا میں سول جج (سینئر ڈویژن) کی عدالت میں جاری شری کرشن جنم بھومی- عیدگاہ معاملے کے ایک مقدمہ میں جمعرات کو منیش یادو بنام اترپردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ و دیگر کی سماعت میں مقدمہ کی برقراری پر دونوں فریقوں میں جم کر بحث ہوئی جس کے بعد عدالت نے اس معاملے میں اگلی سماعت کےلئے 5 دسمبر کی تاریخ طے کی ہے۔ اسی معاملے میں اکھل بھارت ہندو مہا سبھا کے ریاستی عہدیدار دشینت سارسوت کے ذریعہ گزشتہ دنوں دائر کردہ معاملے میں عدالت نے سبھی فریقوں کو نوٹس دیے جانے کی ہدایت دیتے ہوئے اگلی سماعت 22 دسمبر کےلئے طے کی ہے۔ واضح رہے کہ نارائنی سینا کے سربراہ لکھنو¿ کے باشندہ منیش یادو نے دعویٰ پیش کر کے شری کرشن جنم بھومی احاطہ میں واقع عیدگاہ کو غیر قانونی بتاتے ہوئے اسے مندر کی 13.37 ایکڑ زمین کے دائرے سے منتقل کر کے مذکورہ پوری زمین اس کے مالک کو لوٹانے کی عرضی دائر کی ہے۔ ان کا جواز ہے کہ جنم استھان کے عہدیدار اور شاہی عیدگاہ انتظامیہ کمیٹی کے درمیان 1967-68میں ہونے والا مبینہ سمجھوتہ پوری طرح سے غیر قانونی ہے، اس لیے اسے بے اثر قرار دے کر عیدگاہ کو وہاں سے ہٹایا جانا چاہیے۔ اس پر عیدگاہ کمیٹی شروع سے ہی مخالفت درج کراتے ہوئے معاملے کے جواز پر سوال اٹھا رہی ہے۔ کمیٹی کے سیکریٹری اور وکیل تنویر احمد نے جمعرات کو بھی سماعت کے دوران اعتراض درج کرایا اور کہا کہ یہ معاملہ سماعت کے لائق ہی نہیں ہے، کیونکہ منیش یادو نہ تو مندر کے کوئی عہدیدار ہیں اور نہ ہی ان کے مندر سے کوئی رشتے ہیں۔ وہ معاملے میں متاثرہ فریق بھی نہیں ہے۔ مدعی فریق کے وکیل سرجیت یادو نے مخالفت کی کہ مدعی بھگوان کرشن کا بھکت ہے اور ان کا وارث ہونے کے ناطے ان کی جانب سے اعتراض درج کرانے کےلئے مکمل طور پر اہل ہے۔ انہوں نے یہ جواز پیش کیاکہ اجودھیا میں واقع رام مندر کے معاملے میں جس طرح ان کے بھکتوں نے اپنا اعتراض درج کرایا تھا، اسی طرح یہاں بھی منیش یادو ایسا کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اس معاملے میں اب اگلی سماعت 5 دسمبر کو طے کی ہے۔ وہیں دشینت سارسوت کے مقدمہ میں فریقین کو 4 ہفتے کا نوٹس دے کر 22 دسمبر کو سماعت کی تاریخ طے کی ہے۔