کولکاتا۔۔۔ ممتابنرجی کے لندن کی اصل تصویر

0

محمد فاروق اعظمی

ملک کے سب سے بڑے تھنک ٹینک نیتی آیو گ نے اپنے ایک سروے میں انکشاف کیا ہے کہ اپنے شہریوں کو ملازمتیں دینے اور معاشی خوشحالی فراہم کرنے میں کولکاتا ہندوستان کا سب سے ناکام ترین شہر ہے۔ ملک کے 56 شہروں کا احاطہ کرتے ہوئے 100 پوائنٹ کے بیرو میٹر پر کیے گئے اس سروے میں ممتابنرجی کے لندن کو فقط 3ہی پوائنٹ حاصل ہوپائے ہیں ۔نیتی آیوگ نے یہ سروے اقوام امتحدہ کے ’ پائیدارترقی کے اہداف17‘(ایس ڈی جی17) جسے عرف عام میں اہداف17(گول- 17)کہاجاتاہے، کے منصوبوں کے مطابق کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے دنیا سے غربت کے خاتمہ اور مستحکم ترقی و خوشحالی کیلئے یہ منصوبہ2015میں شروع کیاتھا اوراس کے 17 اہداف میں مستحکم اقتصادی ڈھانچہ کا فروغ، روزگار اور عوام الناس کو خوشحالی فراہم کرنا شامل ہے۔ نیتی آیوگ کے سروے میں ماسوا بنگلورو جس نے 100 میں 79اسکور کیا ہے دوسرے تمام شہر اپنے مطلوبہ ہدف کی تکمیل میں ناکام رہے ہیں ۔ہندوستان کے 56 شہروں میں سے فقط 13 شہروں نے 50سے زیادہ پوائنٹ اسکور کیے ہیں ۔
اس سے قطع نظر کہ دوسرے شہروں میں ترقیات، روزگار اور معاشی خوشحالی کی کیا صورتحال ہے یہ سروے رپورٹ کولکاتا کو شہر نشاط کہنے اور سمجھنے والوں کی آنکھوں پر پڑے پردے کھول دینے کیلئے کافی ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب روزگار اور کاروبار کیلئے ہندوستان بھر کے لوگ بالخصوص مشرقی ہندوستان اترپردیش اور بہار کے لوگ جوق در جوق کولکاتا کا رخ کرتے تھے، اب یہاں نسلوں سے رہنے والے لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع ختم ہوچکے ہیں ۔بنگال کی معروف جوٹ صنعت اب قصہ پارینہ بن گئی ہے ۔یہاں کی 70 بڑی جوٹ ملوں میں سے معدودے چند ہی کام کررہی ہیں اور ان ملوں سے وابستہ لاکھوں مزدور بے روزگار پھر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر ریاست میں روزگار کی شرح 4%فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ فی کس آمدنی میں50فیصد سے زیاد ہ کی کمی واقع ہو گئی ہے ۔
مغربی بنگال کی تقریباً14کروڑ کی آبادی میں 18سے 35 سال کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً نصف ہے ا ور ان میں سے 30 سے40 لاکھ کے درمیان نوجوان مہاجر مزدور ہیں جو دوسری ریاستوں میں جاکر کام کررہے ہیں۔ باقی جو مغربی بنگال میں ہیں، اول تو حکومت انہیں روزگار ہی نہیں دے رہی ہے، دوسرے جو روزگار حاصل ہورہے ہیں، ان میں گھوٹالے اور بھاری رشوت کا بازار گرم ہے ۔اقربا پروری اور رشوت ستانی حکمراں طبقہ کا عمومی مزاج بن گیا ہے۔
2011 کے بعد سے تقریباً ہر تقرری میں سنگین بے ضابطگی اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں لیکن حکومت نے کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ اس کی وضاحت کرتی اور شکایت دورکرنے کی کوئی پہل کرتی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل امیدوار عدالت پہنچ گئے اور بدعنوانی، رشوت ستانی اور گھوٹالے سے پردے اٹھنے لگے۔کلکتہ ہائی کورٹ کے کئی ایک حالیہ فیصلوں کی وجہ سے یہ حقیقت اور بھی آشکار ہوگئی ہے کہ ترنمول کانگریس کی حکومت کے دور میں ایسا شاذو نادر ہی ہوا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں تقرریاں بغیر کسی بدعنوانی کے ہوئی ہوں۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے اسکولوں میں گروپ ڈی کی بھرتی میں ہوئے گھوٹالہ کی چند یوم قبل ہی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا ہے۔ اس عدالتی حکم کے خلاف حکومت اپیل کررہی ہے اور سی بی آئی تحقیقات کو رکوانے میں لگی ہوئی ہے لیکن عدالت کے اس حکم سے کم از کم یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ بغیر رشوت دیے صرف میرٹ کی بنیاد پر مغربی بنگال میں معمولی سی گروپ ڈی کی ملازمت اور روزگار حاصل کرنا کتنا مشکل ہے۔ اسکولوں میں گروپ ڈی کی بھرتی کے معاملے میں تو بدعنوانی کی تمام حدیں ہی پار کردی گئی ہیں۔ اسکول ایجوکیشن بورڈ نے اسکول سروس کمیشن کی جانب سے بغیر کسی سفارش یا میرٹ لسٹ کے ہزاروں ہزار لوگوں کو ملازمت دے دی ۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ جوبحالیاں ہوئی ہیں، اس کی سفارش ہم نے نہیں کی ہے جب کہ بورڈ نے باقاعدہ عدالت میں حلف نامہ دے کر دعویٰ کیا ہے کہ اسے اسکول سروس کمیشن کی جانب سے ایک پین ڈرائیو ملا تھا جس میں سفارش تھی۔اسکول ایجوکیشن بورڈ اور اسکول سروس کمیشن کی اس سازباز پر عدالت بھی ششدر رہ گئی اور بالآخر اسے سی بی آئی تحقیقات کا حکم دینا پڑا۔
کم و بیش یہی صورتحال دوسری ملازمتوں کی بھی ہے۔ پرائمری ٹیچروں کی تقرری کے معاملے میں کئی درجن کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ عرضی گزاروں کا دعویٰ ہے کہ امتحان پاس کرنے، انٹرویو دے کر میرٹ لسٹ میں آجانے کے باوجود ان کی جگہ پر دوسرے لوگوں کو ملازمتیں دی گئی ہیں۔ اسی طرح کی ایک ملازمت کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے تقریباً 500 کارکنوں کی تنخواہ کی ادائیگی پر روک لگاکر ان کے بحالی عمل کی جانچ کا حکم بھی دیا ہے ۔
فی الحال مغربی بنگال حکومت کے مختلف محکموں میں2لاکھ سے بھی زیادہ اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں جن پر حکومت کوئی بحالی نہیں کر رہی ہے جب کہ ریاست کے سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میںڈیڑھ لاکھ اساتذہ کی خالی اسامیاں بھی تقرری کا انتظار کررہی ہیں۔ لیکن حکومت ان اسامیوں پر تقرری کے بجائے ٹھیکہ پر کام کراکر پیسے بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ ریاست کے ایمپلائمنٹ ایکسچینج میں تقریباً 4لاکھ بے روزگار اب بھی رجسٹرڈ ہیں، اکیلے سال 2020 میں ایک لاکھ بے روزگاروں نے اپنا رجسٹریشن کرایا ہے ۔ان میں سے 30 ہزار سے بھی زائد ایم فل اور پی ایچ ڈی ہیں جنہیں مختلف کالجو ں میں اپنی تقرری کا انتظار ہے ۔
کولکاتا کو لندن بنانے کا دعویٰ کرکے 2011سے حکومت کرنے والی ترنمول کانگریس اور اس کے لیڈروں نے پورے مغربی بنگال کوبے روزگاراور مقروض بنادیا ہے ۔جب ترنمول کانگریس نے اقتدار سنبھالا تو ریاست پر 2 لاکھ 20 ہزار کروڑ روپے کاقرض تھا جو 10برسوں میں بڑھ کر آج5لاکھ کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہوچکا ہے۔ آج مغربی بنگال میں ہر بچہ 50 ہزار روپے کے قرض کے ساتھ پیدا ہو رہاہے۔ ممتا بنرجی کی نت نئی اسکیمیں بھی اسی قرض کی رقم سے ہی چلائی جارہی ہیں۔ اس بھاری بھرکم قرض کے باوجود عورتوں کی ’فلاح‘ 500روپے فی کس نقد رقم بانٹنے کی اسکیم ’لکھی بھنڈار‘ شروع کی ہے اور یہ اسکیم بھی قرض کی رقم سے چلائی جارہی ہے۔
کولکاتا کی عظمت رفتہ کا بحال ہونا جلد ممکن نہیں لیکن بنگال اور کولکاتا کے نوجوانوںکو خو د کفیل اور برسرروزگار ضرور بنایا جا سکتا ہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ کولکاتا کو لندن بنانے کے خواب میں بنگالیوں کو الجھانے اور قرض کی رقم بانٹ کرلوگوں کو محتاجی کی طرف لے جانے کے بجائے ترنمول حکومت ریاست کے لاکھوں بے روزگاروں کو روزگار مہیا کرنے کا سامان کرے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here