بانڈی پورہ کا نوجوان جو کرونا سے متاثر علاقوں میں پیسے پہنچاکر لوگوں کو گھر میں رہنے پر آمادہ کئے ہوئے ہے

    0

    حاجن: صریر خالد،ایس این بی
    کرونا وائرس کے خوف نے جہاں لازمی سماجی فاصلہ (سوشل ڈسٹینس ) دلوں تک میں دوریاں بڑھانے لگا ہے وہیں پر انسانیت کے جذبے سے سرشار بعض لوگ امیدوں کی کرنیں چھوڑ رہے ہیں۔ اشفاق حمید نامی ایسے ہی ایک نوجوان شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے اُس علاقہ میں سرگرم ہیں کہ جو کشمیر میں کرونا وائرس کا بدترین مرکز بنا ہوا ہے۔ وہ کرونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں محصور ضرورت مندوں کے یہاں پیسہ پہنچا کر اپنی طرفسے انکی مشکلات کو کم کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔
    بانڈی پورہ ضلع کشمیر میں کرونا وائرس سے متاثر سب سے بدترین علاقہ ثابت ہوا ہے کہ یہاں کے ایک ہی گاوٗں گنڈ جہانگیر کے 26 افراد سمیت  4لاکھ نفوس کی آبادی والے اس ضلع میں ابھی تک 60کے قریب مریض کرونا پازیٹیو ثانت ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے اس ضلع کے بیشتر علاقوں میں زندگی کا پہیہ گویا پوری طرح جام ہے اور لوگ عملاََ گھروں میں قید ہیں۔
    31 سالہ اشفاق،جو جموں کشمیر بنک سے منسلک ایک سہولت مرکز (خدمت سنٹر) چلاتے ہیں، نے ان حالات میں اپنے لوگوں کیلئے کچھ کرنے کی ٹھان کر انکی مدد کا ایک انوکھا طریقہ اپنایا۔ انہوں نے مرکز پر موجود ’’مائیکرو اے ٹی ایم‘‘ کو اپنی ذاتی وین میں فِٹ کیا اور گھروں کے اندر موجود لوگوں کو انکے دروازے تک رقم پہنچانا شروع کیا۔ وہ کہتے ہیں ’’میں نے سوچا کہ اگر لوگ رقم نکالنے کیلئے گھر سے باہر آکر بنک جانے لگے تو وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔میں نے کسی طرح ان تک بات پہنچائی کہ وہ پیسے کیلئے مجھے فون کریں اور میں اے ٹی ایم لیکر انکے گھر پہنچوں گا۔یہ طریقہ نہ صرف کامیاب رہا بلکہ لوگ بہت خوش بھی ہیں‘‘۔وہ تاہم کہتے ہیں کہ وہ ان سبھی احتیاطوں کا خیال رکھتے ہیں کہ جو ماہرین نے تجویز کئے ہوئے ہیں۔ اشفاق کا کہنا ہے کہ ابھی تک انہوں نے قریب  40 لاکھ کی رقم لوگوں کے گھر پہنچاکے دی ہے۔ وہ کہتے ہیں’’یہ لوگوں کا اپنا پیسہ ہے لیکن میں گاڑی پر اپنا خرچہ کرتا ہوں،مجھے تب بہت خوشی ہوتی ہے کہ جب میں ان گھروں میں پہنچتا ہوں کہ جہاں پیسے کی قلت کی وجہ سے بڑی پریشانی ہوتی ہے۔میں نے کئی بزرگوں اور معذور کھاتہ داروں کے یہاں پیسہ پہنچایا جو واقعی چاہتے ہوئے بھی موجودہ حالات میں گھر سے باہر نہیں آسکتے تھے‘‘۔
    اشفاق حمید جموں کشمیر بنک کے زیرِ نگرانی قائم مقامی ’’خدمت سنٹر‘‘ چلاتے ہیں۔جموں کشمیر بنک نے 2009 میں ’’خدمت سنٹر‘‘ کے نام سے سابق ریاست  میں 1205سہولت مراکز کھولے تھے۔ اپنی نوعیت کی اس پہل کا مقصد ایک طرف نوجوانوں کو روزگار دلانا اور دوسری جانب لوگوں کو مختلف اقسام کی سہولیات بہم کرانا بتایا گیا تھا۔ابتداٗ میں یہ سنٹر چلانے والوں کو سات ہزار روپے ماہانہ مشاہرے کا وعدہ دینے کے علاوہ یہ نظام بنانے کا کہا گیا تھا کہ بنک میں لون حاصل کرنے کیلئے لازمی دستاویزات سے لیکر زمین جائیداد کے کاغذات بنوانے یا انکی نقول نکلوانے کیلئے صارفین کو انہی مراکز پر بھیجا جائے گا تاکہ وہ فیس کی شکل میں روزگار کماسکیں اور ساتھ ہی سرکاری سروسز، جیسے بجلی، پانی وغیرہ، کے بِل بھی انہی مراکز پر بھرے جائیں گے جسکے لئے انہیں کمیشن دیا جائے گا۔ تاہم دو ایک سال بعد نہ صرف بنک نے ان مراکز کا مشاہرہ روک دیا بلکہ دیگر موعودہ کام کبھی تفویض ہی نہ کئے گئے۔ نتیجہ یہ کہ یہ مراکز ڈی ٹی پی کا کام کرنے والی عام دکانوں سے زیادہ کچھ نہیں ہیں اور انکی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے۔
    دلچسپ ہے کہ خدمت سنٹر چلانے والے نوجوان تب  8 ماہ سے اپنے مطالبات کیلئے جموں میں دھرنا پر تھے کہ جب کووِڈ19- کی ایمرجنسی آگئی۔ اشفاق کہتے ہیں ’’ایسے میں ایک تو دھرنا جاری رکھنا ناممکن تھا اور دوسرا ہمیں لگا کہ مشکل حالات میں ہم لوگوں کی خدمت کرسکتے ہیں‘‘۔ وہ مزید کہتے ہیں ’’خدمت سنٹر کی وجہ سے ایک طرح سے زندگی ضائع ہوچکی کیونکہ جو وعدے ہمارے ساتھ کئے گئے تھے انہیں پورا نہیں کیا گیا لیکن آج مصیبت میں لوگوں کے کام آکر ایسا لگا کہ جیسے محنت کا پھل مل گیا ہو،میرا نمبر علاقے میں وائرل ہوچکا ہے لوگ دور دور سے فون کرتے ہیں اور میں پہنچ جاتا ہوں‘‘۔مقامی لوگ اشفاق کے اس کام کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لوگوں کی بڑی مدد کی ہے جبکہ جموں کشمیر بنک،پولس اور محکمہ صحت کے افسران بھی انکے شکر گذار ہیں اور کہتے ہیں کہ انکے اس کارنامہ سے لوگوں کو گھر کے اندر رکھنے میں بڑی مدد ملی ہے۔جیسا کہ ایک بنک منیجر کا کہنا ہے ’’آپ نے دیکھا ہوگا کہ تنبیہ کے باوجود کئی بنک شاخوں کے سامنے لوگ قطاریں بناکر سوشل ڈسٹینس کی دھجیاں اڑاتے ہیں،ایسے میں اس لڑکے نے ایک اچھا کام کیا ہے‘‘۔

    آپ کے تاثرات
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here