حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ

0

تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی برقرار رکھتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب کی حمایت میں داخل کی گئی تمام درخواستوں کو خارج کردیا ہے۔اس سے قبل اسی عدالت نے گزشتہ5فروری کو حجاب کے خلاف سرکاری حکم پر عبوری روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے 11دنوں تک اس معاملہ کی مسلسل سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیاتھا۔تقریباً تین ہفتوں کے انتظار کے بعد عدالت نے آج جو فیصلہ دیا ہے وہ ان طالبات کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے جنہوں نے حجاب پر پابندی کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ اس معاملے میں عدالت میں 5 درخواستیں دائر کی گئیں تھیں،عدالت نے سبھی درخواستوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ حجاب پہننا کوئی لازمی اسلامی عمل نہیں ہے اور یہ کہ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کمرہ جماعت میں یکسانیت برقرار رکھنے کے اقدامات کرے۔اپنے گیارہ نکاتی فیصلے میں معزز عدالت نے کئی ایک سوال بھی قائم کیے ہیں اور خود ہی اس کا جواب بھی دیا ہے۔عدالت نے پہلا سوال یہ کیا کہ کیا حجاب پہننا اسلام میں ایک لازمی مذہبی عمل ہے اور اسے آرٹیکل 25 کے تحت تحفظ حاصل ہے؟ دوسرا یہ کہ کیا اسکول یونیفارم متعین بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟ تیسرا، کیا 5 فروری کو جاری کرد ہ گورنمنٹ آرڈر(جی او)نامکمل تھا اوریہ کہ یہ حکم نامہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی کرتا ہے اور چوتھا سوال یہ اٹھایا کہ اس معاملہ میں آیا کالج کی انتظامیہ کے خلاف کوئی تادیبی جانچ کا معاملہ بنتا ہے یانہیں۔
یہ وہ چار نمایاں سوالات ہیں جو کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رتوراج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس دکشت اور جسٹس جے ایم قاضی کی سہ رکنی بنچ نے گیارہ دنوں کی مسلسل سماعت کے بعد اٹھائے تھے اور آج فیصلہ سناتے ہوئے خود ہی ان کاجواب بھی دے دیا ہے۔ پہلے سوال کے جواب میں معزز عدالت کا کہنا ہے کہ مسلمان خاتون کیلئے حجاب پہننا اسلام میں کوئی لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔ دوسرے سوال کے جواب میں عدالت کا کہنا ہے کہ اسکول یونیفارم متعین کرنے کی قانونی اجازت دی جاسکتی ہے اور طلبا اس کی مخالفت نہیں کر سکتے۔ تیسرے سوال کے جواب میں عدالت نے کہا کہ 5 فروری کو حکومت کی طرف سے جاری کردہ گورنمنٹ آرڈر غلط نہیں ہے، حکومت کو اس طرح کے حکم نامے جاری کرنے کے اختیارات حاصل ہیں اور چوتھے سوال کا جواب دیتے ہوئے عدالت نے کالج انتظامیہ کے خلاف کسی بھی طرح کی تادیبی جانچ کے امکان کو مسترد کردیا۔ اس کے ساتھ ہی حجاب تنازع کو ’ بڑھاوا‘ دینے کے سلسلے میں کسی ’ نادیدہ ہاتھ‘ کے امکان کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔
عدالت کے اس فیصلہ سے حجاب حامیوں میں مایوسی کا پیدا ہونا فطری ہے، عین ممکن ہے کہ اس فیصلہ پر نظرثانی کی اپیل کی جائے یا پھر اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیاجائے اور یہ کیابھی جاناچاہیے کہ کیوں کہ عدالتی فیصلہ پر مناسب قانو نی تنقید اور اس کا تجزیہ اورپھر اس کے خلاف اپیل ایک آئینی حق ہے جس سے کسی کو روکا نہیں جاسکتا ہے۔
ویسے بھی کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلہ نے کئی ایک سوالات کھڑے کردیے ہیں جس کا جواب ملنا بہرحال ضروری ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں ادارہ جاتی نظم و ضبط کو انفرادی آزادی پر غالب بتاکر آئین کے آرٹیکل 25، جس میں مذہبی اور انفرادی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، کی توضیح و تشریح کو بھی ایک نئی سمت دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام میں حجاب کے التزام کو غیر ضروری ٹھہرا کربحث کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔
صرف اسلام ہی نہیں بلکہ کم و بیش تمام مذاہب عورتوں کیلئے حجاب اور پردہ کی حمایت کرتے ہیں۔ شائستگی اور تہذیب ہر مذہب کی تعلیمات میں شامل ہے، اسلام بھی بندوں سے اسی شائستگی اور تہذیب کاطالب ہے۔ محفوظ اور پرامن معاشرہ کیلئے لازم ہے کہ وہ تہذیب و شائستگی کے شعار کو فروغ دے اورایک مہذب معاشرہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ خواتین کیلئے حجاب اور پردہ بھی اسی تہذیب و شائستگی کا ایک قرینہ ہے، جسے اسلام نے خواتین کے وقار اور عفت و عصمت کی حفاظت کیلئے لازم ٹھہرایا ہے۔اس پر اسلام کے سبھی فرقوں کا اتفاق ہے۔
جس طرح عورتوں کا کم کپڑے پہننا ان کا جمہوری حق ہے عین اسی طرح حجاب بھی خواتین کا جمہوری حق ہے۔ اسے بنیادی انسانی حق بھی کہاجاسکتا ہے۔اس حق میں نہ تو کوئی معاشرہ مداخلت کا اختیار رکھتا ہے اور نہ کوئی عدالت ہی انسانوں کے اس حق پر اپنی کوئی رائے مسلط کرسکتی ہے۔ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں جہاں آئین نے مذاہب کے یکساں احترام اور اپنے شہریوں کی انفرادی اور مذہبی آزادی کی ضمانت دی ہو، وہاں یکسانیت کے نام پر طالبات کو سر ڈھانپنے کی اجازت نہ دینا آئین سے متصادم اور مذہبی آزادی پر قدغن کی کوشش سمجھی جائے گی۔اس سے نہ صرف یہ کہ ہندوستان کی سیکولر روایت داغدار ہوگی بلکہ ایک بڑا طبقہ اس جبر کی وجہ سے تعلیم کے بنیادی حق سے بھی محروم ہونے کا سزاوار ٹھہرے گا۔
کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ سے غیرمطمئن فریق اگر اس کے خلاف اعلیٰ عدالت سے رجوع کرتا ہے تو اسے اس کا حق حاصل ہے۔اسے کسی بھی طرح توہین عدالت یا ججوں کی منصفی اور ایمانداری پر شبہ نہیں ٹھہرایاجاسکتا۔
[email protected]