عالمی گاؤں سے عالمی خاندان کی طرف سفر: محمد حنیف خان

0

محمد حنیف خان

ہندوستان نے دنیا کو عالمی گاؤں سے ایک عالمی خاندان میں تبدیل کرنے کا نظریہ پیش کیا ہے،اس نے جی20اجلاس کے توسط سے دنیا کو مزید باہمی تعاون کی جانب قدم بڑھانے کا پیغام دیا ہے۔یہ پیغام اپنے آ پ میںبڑی معنویت کا حامل ہے،اس سے قبل اس نے ’’اہنسا پرمودھرمو‘‘ کا نظریہ پیش کرکے دنیا کو پرسکون اور دہشت سے پاک بنانے کا نظریہ دیا تھا جو اس کی شناخت ہے۔ جی20 اجلاس سے ہندوستان کو کیا فائدہ ملے گا یا اس کے عالمی قد میں اس کے توسط سے کیا اضافہ ہوا ہے، یہ مستقبل میں پتہ چلے گا لیکن اس کا ’’وسودھیوکٹمبکم‘‘یعنی ’’ایک زمین، ایک خاندان اور ایک مستقبل‘‘یقینی طور پر دنیا کو ایک نئی راہ دکھا سکتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ اس کا یہ کوئی نیا نظریہ ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس نے اپنے اس قدیم نظریہ کو جدید معنویت کے ساتھ اس بڑے اجلاس کا نعرہ بنا کر آگے بڑھایا ہے تاکہ دنیا اس سے روشنی حاصل کرے۔
اس اجلاس میں چھوٹی بڑی بہت سی باتیں ہوئیں،جی 20کے ساتھ ہی مدعو ممالک کے سربراہوں نے دنیا کو معاشی اعتبار سے مستحکم بنانے پر غور وخوض کیا اور کاروبار کے لیے ایک نیا روٹ بنانے پر بھی رضامند ہوئے لیکن اس اجلاس میں ایک آواز تھی جو سب سے الگ تھی،جس نے ہندوستان کے دیے گئے عالمی خاندان کے نعرے کی روح کو نہ صرف سمجھا بلکہ اس جانب پہلی پیش رفت کی اور یہ آوازترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کی تھی جنہوں نے دنیا میں عدم استحکام،تشدد اور دہشت کی بنیادوں پر ضرب لگائی اور بتایا کہ اگر دنیا کو عالمی گاؤں سے عالمی خاندان میں تبدیل کرنا ہے تو سب سے پہلے کیا کرنا لازمی ہے۔
ایشیا ہی کیا پوری دنیا میں مذہب اور عقیدت کو نہ صرف سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو دنیا میں دہشت اور تشدد کی بنیاد مذہب بن چکا ہے۔رجب طیب اردگان نے اس عالمی اسٹیج سے یہ پیغام دیا کہ اگر دنیا کو پرامن بنانا ہے تو سب سے پہلے مذہبی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے تعصب اور عدم یکسانیت کا خاتمہ ضروری ہے۔دنیا کو اسلاموفوبیا سے باہر نکلنا ہوگا،مذہبی علائم کی بے حرمتی سے باز آنا ہوگا،اگر قرآن پاک اور نبی کریمؐ کی بے حرمتی کی جائے گی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مذہب کی بنیاد پر اگر تعصب روا رکھا جائے گا تو دنیا پرامن نہیں بن سکتی ہے،اس لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر ایک ساتھ اس کی مخالفت کریں۔انہوں نے کہا کہ ایک دنیا، ایک خاندان اور ایک مستقبل کا خیال بہت اچھا ہے لیکن اس خیال کو اس وقت نقصان پہنچتا ہے جب اسلاموفوبیا ایک عالمی وبا کی طرح پھیلنے لگتا ہے۔رجب طیب اردگان نے جس جانب اشارہ کیا یقینا وہ ایسی جگہ ہے جہاں اگر اصلاحات ہوجائیں تو بد امنی اور تشددو تعصب کا مرکزو محور منہدم ہوجائے گا۔
ہندوستان چونکہ جی 20کا سربراہ تھا بلکہ اس نے ہی یہ نظریہ بھی پیش کیا ہے،اس لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ وہ اصلاحات کا عمل خود سے شروع کرے اور دنیا کو عملی سطح پر دکھائے کہ اس نے کس طرح سے تعصب و نفرت اور عدم یکسانیت کی بنیادوں کو ختم کیا ہے۔دنیا یہ بات جانتی ہے کہ ہندوستان کی حکمراں پارٹی نظریاتی سطح پر ہندوتو کی سیاست کرتی ہے،انفرادی،اجتماعی اور سرکاری تینوں سطحوں پر یہاں کی اکثریت کو نہ صرف اہمیت حاصل ہے بلکہ تفوق کی ذہنیت نے ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔جب سے یہ حکومت آئی ہے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک عام ہوگیا ہے،اہم بات یہ ہے کہ سرکاری سطح پر ایسے افراد کو خصوصی مراعات حاصل ہیں جو اقلیتوں کے خلاف تعزیری جرم کے مجرم قرار دیے جاچکے ہیں۔سی اے اے سے لے کر دہلی اور ہریانہ کے فسادات، گئو کشی اور غیر مسلموں سے شادی وغیرہ کے معاملات پر جس طرح سے اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا، وہ سب جگ ظاہر ہے۔ ایسے میں اگر ہندوستان ایک طرف ایک عالمی خاندان کا نظریہ پیش کرتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے خود پر اسے نافذ کرے۔
کیا ہندوستان میں اکثریت اور اقلیت دونوں کا حال اور مستقبل یکساں ہے؟اگر نہیں ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟کیا خوف و ہراس اور دہشت کے سائے میں یکساں مستقبل کی امید کی جاسکتی ہے؟ظاہر ہے جواب نفی میں ہی ہوگا۔اس لیے سب سے پہلے ضروری یہ ہے کہ نفرت کے کالے بادل جو خوف اور دہشت کو اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں انہیں ختم کیا جائے جس کے لیے سرکاری مشنری کو ہی حرکت میں لانا ہوگا جو اعیان حکومت کے سوا کوئی نہیں کرسکتا ہے لیکن مسئلہ فوراً ریاست اور سیاست کا آجاتا ہے۔ ریاست اور سیاست نے ہندوستان میں عدم یکسانیت اور نفرت و دہشت کو فروغ دیا ہے۔اسی نے اکثریت اور اقلیت کے مابین لکیر کھینچی ہے،اس لکیر کو مٹانا ضروری ہے۔
ورشپ ایکٹ کی موجودگی میں اگر مسجد و مندر اور عیدگاہوں سے متعلق مقدمے چلیں گے اور صدیوں پرانی عبادت گاہوں کو چھیننے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے ملک میں دہشت کا ماحول ہی پیدا ہوگا۔ حکومت یہ کہہ کر نہیں بچ سکتی ہے کہ یہ فیصلہ عدالت کا ہے کیونکہ اس کے بعد اعیان حکومت کے افعال واضح کردیتے ہیں کہ پس پردہ ان کے کیسے کردار رہے ہوں گے۔بابری مسجد کے معاملے میں ہی دیکھ لیں تو سب کچھ واضح ہوجائے گا۔
اسی طرح ذات و برادری کا معاملہ ہے،جس نے ہندوستانی معاشرے کو اونچی اور نیچی ذاتوں میں تقسیم کررکھا ہے، دلت اور سورن کے درمیان ایک ایسی خلیج ہے جو جمہوریت کے نفاذ کے بعد بھی اب تک کم نہیں کی جاسکی ہے، اس خلیج کو پاٹنا بھی ضروری ہے۔ ہندوستان میں چونکہ عدم یکسانیت کی جڑیں بہت قدیم ہیں اور مذہب کے راستے سے یہ جڑیں سماج میں مضبوط ہوئی ہیںجن کو کاٹنا بھی ضروری ہے۔
2024کے عام انتخابات قریب ہیں،جس سے متعلق اندیشوں اور خدشات کا ابھی سے اظہار کیا جانے لگا ہے، کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ موجودہ حکمراں پارٹی کس راستے سے اقتدار میں آئی ہے۔چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے انتخابات میں اس سے وابستہ افراد کس طرح کی سیاست کرتے ہیں۔ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی گاؤں کے نظریہ کے فروغ کے لیے ان انتخابات کو مذہب کی سیاست سے بالاتر کیا جائے،جب تک انتخابات کو اس سے پاک نہیں کیا جائے گا،اس وقت تک داخلی سطح پر ایک خاندان کا نظریہ فروغ نہیں پاسکتا ہے۔
روشنی بکھیرنے کے لیے جس طرح شمع کو جلنا پڑتا ہے اور اپنے وجود کو پگھلانا پڑتا ہے، اسی طرح ہندوستان کو سب سے پہلے خود کو نفرت و تعصب اور دہشت سے پاک بنانا ہوگا۔ جب تک عملی سطح پر ایسا نہیں ہوتا ہے، یہ نعرہ صرف نعرہ ہی رہے گا۔دوہرا کردار کبھی پسند نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سے ثمر آور نتائج سامنے آئے ہیں،اس لیے دستاویزی سطح پر جسے فروغ دیا جائے، اسے عملی سطح پر بھی دکھائی دینا چاہیے۔ ہندوستان کو جی20کی سربراہی کا موقع ملنا یقینا خوشگوار تھا اور اس نے جس انداز میں دنیا کو مثبت سمت دینے کی کوشش کی وہ بھی لائق ستائش ہے لیکن اس کا عملی نفاذ اگر اپنے ہی ملک سے ہوتو یقینا یہ دنیا اور ملک دونوں کے لیے خوش آئند ہوگا۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS