جامعہ تشدد : ایس آئی ٹی جانچ کرانے کی مانگ کی پولیس نے کی مخالفت

0

نئی دہلی(ایس این بی)
دہلی پولیس نے ترمیم شدہ شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران جامعہ نگر علاقے میں 2019 میں ہونے والے فسادات کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے مطالبے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ یہ مطالبہ نہ صرف عرضی کو وسعت دیتا ہے بلکہ نئے حقائق کا اضافہ کرتا ہے۔پولیس نے یہ بات جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کی درخواستوں کے جواب میں کہی، جس میں تشدد کے دوران دہلی پولیس نے طلباء پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا۔ درخواست میں وبھوتی نارائن رائے، وکرم چند گوئل، آر ایم ایس برار اور کملیندر پرساد سمیت چار افسران کے پینل میں سے کسی بھی افسر کی سربراہی کے لیے ایک آزاد ایس آئی ٹی کی تشکیل کی مانگ کی گئی ہے۔ پولیس نے یہ کہتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے کہ طلباء اس معاملے میں اجنبی ہیں، اور وہ پی آئی ایل کی آڑ میں تھرڈ پارٹی جانچ کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پٹیشن میں ترمیم کی گئی ہے اور اس سے پٹیشن کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پولیس نے کہا ہے کہ پی آئی ایل کو تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی کے ارکان کا انتخاب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پٹیشن میں مانگی گئی ریلیف قانون کے مطابق نہیں ہے اور بدتمیزی ہے۔ مفاد عامہ کی عرضی کی آڑ میں چھپ کر کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ درخواست گزار کو درخواست میں ترمیم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،اسے مسترد کر دینا چاہیے۔