اٹلی : مسلم مہاجرین سیاسی ایجنڈے کا حصہ

0

یوروپ کے دیگر ملکوں کی طرح اٹلی میں بھی مسلمانوں کی خاصی اچھی آبادی ہے جو مغربی افریقہ کے کئی ممالک مراقش، الجیریا، لیبیا اور مصر وغیرہ کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اٹلی میں سب سے زیادہ مراقش نژادوں کی آبادی ہے۔ مگرمغربی ایشیا اورافریقہ کے مسلم اور عرب ملکوں میں جب جمہوریت کے قیام کے لیے تحریکیں چل رہی تھیںتوبڑی تعدادمیںبہت سے لوگ جان بچانے اور بہتر مستقبل کی جستجو میں یوروپ کی طرف نکل پڑے۔ سمندرپارکرکے اٹلی، ترکی، اسپین، فرانس، جرمنی میں انھوں نے پناہ لینے کی زیادہ کوشش کی۔ یہ صورت حال یوروپی ملکوں کے لیے کافی حد تک غیرمتوقع تھی۔ مسلم عرب اورافریقی ملکوں کے پرتشدد تحریکوں سے بیزار عوام نے اٹلی کا بھی رخ کیا۔ بڑی تعداد میں مسلمانوں کی آمد سے ان یوروپی ملکوں کی طرح اٹلی میں بھی سماجی اورسیاسی سطح پراتھل پتھل محسوس ہوئی۔ یوروپ کے ساحلوں اور سڑکوں پربے یارومددگار برقع پوش مسلمانوں کو دیکھ کر بے چینی پیداہوئی۔ مہاجرین بے روزگار تھے، بے سروسامانی کی وجہ سے بھوکے اور پیاسے تھے۔ کچھ حد تک یوروپی ملکوں کی حکومتوں نے ان مہاجرین کی مدد کی مگر بعد میں مہاجرین سیاسی تنازع بن گیا۔ بڑے شہروں کی سڑکوں پر کیمپ لگاکر رہنے والے مہاجرین میں سے کچھ جرائم کے لیے مجبور ہوئے تو کچھ روزگارحاصل کرنے کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ اٹلی وہ ملک تھاجومغربی افریقہ کے کئی ملکوں میں قابض رہ چکا ہے، اٹلی کے حکمرانوں نے ان ممالک کے عوام پرجومظالم ڈھائے وہ تاریخ میں درج ہیں۔ افریقہ اورعرب ملکوں کے وسائل کو لوٹاکھسوٹا ،خواتین کی بے حرمتیاں کیں اور جب آج ان ملکوں میں بے چینی تشدد اور جنگ وجدال اورسیاسی عدم استحکام ہے تو ان ممالک کے مسلم مہاجرین کے لیے دروازے بندکرلیے۔ خیال رہے کہ کرنل معمرقذافی نے اٹلی کو اپنے سامراجی دور میں عوام پرمظالم کرنے کے لیے معافی مانگنے پر مجبور کردیا۔ اٹلی کے حکمراں وزیراعظم برسولینی نے نہ صرف ان مظالم کے لیے معافی مانگی تھی بلکہ ہرجانہ بھی ادا کیاتھا۔انہی جارحانہ پالیسیوں اور افریقی عزت نفس پر اصرار کرنے کے لیے کرنل قذافی اہل مغرب کے لیے کھٹکتے تھے۔
وزیرداخلہ اور’ناردن لیگ پارٹی‘ کے لیڈر میٹیوسلوانی نے حالیہ الیکشن میں اپنی پارٹی کے لیے انتخابی مہم چلاتے ہوئے کہاتھا کہ ’ اسلام ملک کے لیے خطرہ ہے۔‘ انھوں نے ایک مارچ میں الیکشن کے دوران 500,000مہاجرین کو ان کے ملکوں میں واپس بھیجنے کا اعلان کیاتھا۔ اٹلی کے سیاست دانوں کا کہناہے کہ ان کا ملک جس اقتصادی بحران اور مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا کررہاہے، اس کے پس پشت مہاجرین ہی ہیں جو سماج کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اٹلی میں اس وقت 1,400,100مسلمان ہیں جو کل آبادی کا 2.3فیصد ہیں۔
نیویارک میں مقیم صحافی انالیسامیریلی کا کہنا ہے کہ اٹلی میں مسلمانوں کی آبادی چوتھے نمبرکی سب سے بڑی آبادی ہے مگر مسلمانوں کوزیادہ عبادت گاہوں (مساجد) بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ یونیورسٹی آف یڈواUniversity of Paduaکے سماجی علوم کے ریسرچ اسکالرماریہ بامبارسر(Maria Bombaracer)کا کہناہے کہ اٹلی میں 800کلچرسینٹراورمصلّے ہیں، جو اکثرعمارتوں کے تہ خانوں، گریجوں اور گوداموں میں بنائے گئے ہیں۔
اٹلی میں اسلام کو منظورشدہ مذہب کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ اگرحکومت مذہب کو منظوری دیتی ہے تووہ مذہبی عمارتوں، اسکولوں اورمذہبی تعطیلات کی اجازت دیتی ہے اور منظورشدہ مذاہب کو ٹیکسوں میں رعایت ملتی ہے۔ عبادت گاہوں کی منظوری میں مقامی آبادی کی مخالفت حائل ہوتی ہے اور اس مخالفت کی وجہ سے انتظامیہ مساجد بنانے کی اجازت دینے میں تامل کرتی ہے۔ n