نوٹس بزدلی کا ثبوت،2024کے انتخابات نریندر مودی کو سبق سکھائیںگے: سنجے سنگھ

0

اظہار الحسن
نئی دہلی (ایس این بی) : عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ نے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کے خلاف مرکز کی طرف سے لک آؤٹ نوٹس کے معاملے پر کہا کہ یہ لک آؤٹ نوٹس 2024 انتخابات نریندر مودی کو سبق سکھائیںگے۔ مودی جی نے مایوسی میں منیش سسودیا کے خلاف لک آؤٹ نوٹس جاری کرکے بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جب سی بی آئی کے چھاپوں کے بعد کچھ نہیں ملا تو مودی جی لک آؤٹ نوٹس لے کر چال بازی کرتے ہیں۔ مودی جی نے اروند کجریوال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے پریشان ہو کر یہ لک آؤٹ نوٹس دیا ہے۔ بی جے پی کھلے کانوں سے سن لے اروند کجریوال اور منیش سسودیا دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ہیں۔
پارٹی ہیڈ کوار ٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں سنجے سنگھ نے کہا کہ جو تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہا یا جس کے فرار ہونے کا امکان ہے اس کے خلاف لک آؤٹ نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ منیش سسودیا نہ تو کہیں جا رہے ہیں اور نہ ہی کہیں بھاگ رہے ہیں۔ نیرو مودی، میہول چوکسی، وجے مالیہ، للت مودی ، نتن سندیسارا ہزاروں کروڑ روپے لوٹ کر بھاگ گئے۔ مودی حکومت انہیں لک آؤٹ نوٹس جاری نہیں کرتی ہے لیکن دہلی کابینہ کے وزیر کو لک آؤٹ نوٹس جاری کر رہی ہے جنہیں باہر جانے سے پہلے مرکز سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ ملک کے عوام مہنگائی اور نوجوان بیروزگاری سے کراہ رہے ہیں۔ مودی جی یہ ڈرامہ بند کریں اور ملک کی فکر کریں۔
سنجے سنگھ نے کہا کہ ملک اور دنیا کے سب سے مقبول وزیر تعلیم کا نام تعلیمی انقلاب کے لیے پوری دنیا میں لیا جا رہا ہے۔ اس وقت کے امریکی صدر کی اہلیہ جب ہندوستان آتی ہیں تو وہ کہتی ہیں کہ ہمیں کجریوال کا اسکول دیکھنا ہے، منیش سسودیا کا بنایا ہوا اسکول دیکھنا ہے۔ منیش سسودیا نے بچوں کو اعلیٰ سطح کی تعلیم دینے کے لیے دہلی کے سرکاری اسکولوں میں اے سی کمرے، سوئمنگ پول، کھیل اور ہاکی گراؤنڈ بنائے اور پچھلے 5 سالوں سے سرکاری اسکولوں کے نتائج پرائیویٹ اسکولوں سے بہتر آرہے ہیں۔انہوںکہا کہ نریندر مودی سرکار نے ایسے ہی وزیر تعلیم منیش سسودیا کو لک آؤٹ نوٹس جاری کیا ہے۔ لک آؤٹ نوٹس جاری کرنے کی وجہ کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ نریندر مودی جی کی سرکار مایوسی اور بزدلی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
سنجے سنگھ نے کہا کہ کجریوال جی اور منیش سسودیا جی دہلی کے بچوں کے لیے جو کام کر رہے ہیں وہ کرتے رہیں گے۔ بی جے پی کی مایوسی یقینی طور پر سامنے آرہی ہے۔ اس وقت ملک کا مسئلہ مہنگائی ہے۔ ملک کے عوام مہنگائی سے کراہ رہے ہیں۔ مودی جی کے پاس مہنگائی کا کوئی جواب نہیں ہے۔ بی جے پی کارکنوں کے پاس مہنگائی کا حل تلاش کرنے کا وقت نہیں ہے۔ مودی جی کی سرکار نے آٹا، دال ، سلنڈر، دودھ، دہی، چھاچھ پر ٹیکس لگا کر اپنے دوستوں کے 5 لاکھ کروڑ روپے کا ٹیکس معاف کر دیا۔ مودی جی کے پاس اس کا جواب دینے کا وقت نہیں ہے۔ اپنے قریبی دوستوں کا 10 لاکھ کروڑ روپے کا قرض معاف کر دیا۔