یہ تو اچھا ہوا کلیوں کا گلا گھونٹ دیا

0

نئی دہلی(ایجنسی): ایک معزز علمی گھرانے سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر مینا نقوی ایک باکمال شاعرہ تھیں۔ ان کے بزرگوں میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی شعر گوئی کے میدان میں ہمیشہ سرگرم رہیں ہیں۔ ان کی شاعری میں مختلف خیالات، مشاہدات و نظریات، کلاسیکی اور جدید تجربات ایک خاص انداز میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انہوں نے اپنی غزلوں، نظموں اور گیتوں میں ایک فنکارانہ چابک دستی کے ساتھ فکر و فن کی بہترین عکاسی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کا اسلوب انفرادی اور جاندار تھا۔ ان کی غزلیں زبان و بیان کی دل آویزی سے ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔ 19 کتابوں کی خالق ڈاکٹر مینا نقوی کو کئی متعدد اعزازات اور ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ اردو کے ساتھ ساتھ انھوں نے انگریزی، ہندی اور سنسکرت زبانوں میں بھی ایم اے کیا۔ 2018 میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے انھیں بیسٹ شاعرہ کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ مینا نقوی نے شاعری کے علاوہ نثر، افسانے، انشائیے اور تحقیقی مضامین پر گہری چھاپ چھوڑی۔ ان کے کلام ملکی و بین الاقوامی رسائل و جرائد میں اہتمام کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔ بزم ادب بدایوں آج انھیں یاد کرتے ہویے خراز عقیدت پیش کرتی ہے۔

یہ تو اچھا ہوا کلیوں کا گلا گھونٹ دیا

ورنہ خوشبو بھی ہواؤں میں بکھر سکتی تھی

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here