ای ڈبلیو ایس کوٹا ججوں کا موقف جاننا ضروری

0

عدالت عظمیٰ میں ای ڈبلیو ایس کوٹا پر سماعت ہونی تھی اور لوگوںکی نگاہیں اس پر مرکوز تھیں کہ وہ کیا فیصلہ سناتی ہے، ای ڈبلیو ایس کے لیے 10 فیصد کا کوٹا برقرار رکھتی ہے یا اسے مسترد کر دیتی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس ایشو پر 7 نومبر 2022 کو فیصلہ سنایا اور اس نے ای ڈبلیو ایس کوٹا کو برقرار رکھا ہے۔ چیف جسٹس یو یو للت کی بنچ نے این جی او ’جَن ہِت ابھیان‘ اور دیگر کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں دائر عرضیوں پر فیصلہ سنایا ہے۔ ای ڈبلیو ایس کوٹا پر حکومت کا یہ موقف بھی قابل ذکر ہے کہ ای ڈبلیو ایس کے لیے 10 فیصد ریزرویشن، جو عام زمروں کے لوگوں کو دیا گیا ہے، پہلے سے درج فہرست ذاتوں/ درج فہرست قبائل (ایس سی/ایس ٹی)، دیگر پسماندہ ذاتوں (او بی سی) کو دیے گئے50 فیصد ریزرویشن سے الگ ہے۔ غالباً حکومت کے موقف کو سمجھتے ہوئے ہی ایس سی/ایس ٹی اوراو بی سی لیڈروں کی طرف سے ای ڈبلیو ایس کوٹا پر اس طرح کا احتجاج نہیں ہوا جیسا احتجاج منڈل کمیشن کے نفاذ کے خلاف 1990میں ہوا تھا، چنانچہ مرکزی حکومت کے لیے یہ اطمینان کی بات ہو سکتی تھی کہ ای ڈبلیو ایس کوٹا کے بہانے ذات کی سیاست کونئی توانائی نہیں ملے گی۔
ای ڈبلیو ایس یعنی اکنامی کلی ویکر سیکشن (Economically Weaker Sections) کے لیے تعلیم اور ملازمتوں میں 10 فیصد ریزرویشن پر فیصلہ سنانے والی عدالت عظمیٰ کی بنچ میں 5 جج صاحبان تھے۔ ان میں سے تین نے ای ڈبلیو ایس کوٹا کے حق میں فیصلہ دیا اور دو نے اس کوٹا کی مخالفت کی۔ مخالفت کرنے والے ججوں میں ہندوستان کے چیف جسٹس بھی تھے۔ اس طرح ای ڈبلیو ایس کے لیے 10 فیصد کوٹا پر عدالت عظمیٰ نے 2-3 کی اکثریت سے فیصلہ دیا۔ 103 ویں آئینی ترمیم جس کے تحت ای ڈبلیو ایس کوٹا کو باجواز بنایا گیا ہے، ہندوستان کے چیف جسٹس، جسٹس یویو للت آئینی بنچ کے ایک اور رکن جسٹس ایس رویندر بھٹ نے اس سے اختلاف کیا۔ ان کا ایسا ماننا تھا کہ ’یہ امتیاز سے پر اور آئین کی اصل روح کے خلاف ہے۔‘ دوسری طرف جسٹس دنیش ماہیشوری، جسٹس بیلا ایم تریویدی، جسٹس جے بی پاردی والا نے اسے برقرار رکھنے پر اپنے موقف کا اظہار کیا۔ جسٹس ماہیشوری نے یہ بات قبول کی کہ ای ڈبلیو ایس کے لیے 10 فیصد کوٹا آئین کے اصل ضابطے اور روح کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ جسٹس ترویدی نے بھی ای ڈبلیو ایس کوٹا پر مثبت رخ ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غریبوں کو ملنے والا 10 فیصد ریزرویشن صحیح ہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس پر غور کیا جائے کہ ریزرویشن کو کب تک جاری رکھنا ضروری ہے۔ جسٹس ترویدی کی اس بات سے عدم اتفاق کی گنجائش نہیں ہے کہ نابرابری ختم کرنے کے لیے ریزرویشن کوئی آخری حل نہیں ہے۔ یہ صرف ابتدا ہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخری حل کیا ہے، یہ جاننے کے لیے حکومت کیا کسی کمیٹی کی تشکیل کرے گی یا فی الوقت جو حالات ہیں، وہی حالات آئندہ بھی رہیں گے؟
کسی کی بھی اقتصادی حالت خستہ ہو سکتی ہے لیکن اس کی مدد صرف اس لیے نہ کی جائے کہ وہ جنرل کلاس کے تحت آتا ہے، یہ بات ناقابل فہم ہے۔ مسلم ریزرویشن پر سیاست ہوتی رہی ہے جبکہ مسلمانوں کو اپنے ایشوز پر سیاست کی نہیں، ان کے حل کی ضرورت تھی۔ سچر کمیٹی رپورٹ نے مسلمانوں کی حالت زار بیان کر دی تھی کہ مسلم بچوں کو بہتر تعلیم کے حصول میں کتنی مدد کی ضرورت ہے، ملازمتوںمیں ان کے لیے کیوں ریزرویشن ہونا چاہیے مگر مذہب اور ذات کے نام پرسیاست عام رہی ہے، البتہ ای ڈبلیو ایس کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کا فائدہ مسلمانوںکو بھی ہوگا، کیونکہ اس کی بنیاد اقتصادیات ہے۔ وہ لوگ پہلے ہی سے ریزرویشن لے رہے ہیں، انہیں ای ڈبلیو ایس کوٹا کے تحت دیے جانے والے 10 فیصد ریزرویشن میں شامل نہیں کیا گیا مگر اس میں برا کیا ہے؟ کیا انہیں دو ریزرویشن کا فائدہ ملنا چاہیے اور جن کے حالات اچھے نہیں ہیں، انہیں ایک ہی ریزرویشن پر اکتفا کرنا چاہیے؟ یہ کہنے میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ ای ڈبلیو ایس کے لیے 10 فیصد کوٹا دینے سے ان طلبا کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں آسانی ہو گئی ہے جن کے حالات اچھے نہیں۔ ای ڈبلیو ایس کوٹا کے ملازمتوں میں بھی نافذ ہونے سے غریبوںکو نوکری ملے گی، اس سے ان کے حالات میں مثبت تبدیلی آئے گی، ملک میں خط افلاس کے نیچے رہنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگی۔ لوگوں میں یہ اعتماد پیدا ہوگا کہ وہ آگے بڑھ سکتے ہیں، ان کے بچے حالات کی نذر نہیں ہوں گے۔ مودی حکومت نے ای ڈبلیو ایس کے لیے 10 فیصد کوٹا دینے کا سلسلہ شروع کرکے ایک اچھا کام کیا ہے۔ یہ بات طے سی ہے کہ اس کا فائدہ نظر آنے میں کچھ وقت لگے گا مگر آنے والے برسوں میں فائدہ ضرور نظر آئے گا۔ rvr