مندروں کے5کلو میٹر کے دائرے میں بیف فروخت کرنا ہوگا غیرقانونی

0
Yahoo News India

گوہاٹی (ایجنسیاں) : آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے آج اسمبلی کے بجٹ سیشن کے پہلے دن ریاست کے اندر مویشیوں کے تحفظ سے متعلق بل پیش کیا۔کہا جارہا ہے کہ آسام مویشی تحفظ بل 2021 کا اصل مقصد آسام سے متصل ملک بنگلہ دیش میں گئو اسمگلنگ کو روکنا ہے۔ اگر یہ بل پاس ہوجاتاہے تو یہ ریاست میں موجودہ آسام مویشی تحفظ قانون 1950 کی جگہ لے گا۔ 1950 میں بنے اس قانون کے مطابق بیف کا استعمال غیرقانونی نہیں تھا اور ضروری اجازت کے بعد 14سال سے بڑے مویشی کو ذبح کیا جاسکتا تھا، لیکن نئے قانون میں آسام سرکار نے گئو اسمگلنگ اور بیف کے استعمال سے متعلق سخت التزامات کئے ہیں۔نئے قانون میں ریاست میں مویشیوں کے ذبیحہ، کھانے، ٹرانسپورٹیشن کو ریگولیٹ کرنے کیلئے قانونی ضوابط شامل ہیں۔
آسام مویشی تحفظ بل 2021 کے مطابق مناسب دستاویز کی عدم موجودگی میں مویشیوں کو ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور آسام کے باہر ٹرانسپورٹیشن کو بھی غیر قانونی قرار دیئے جانے کی بات ہے۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ ایک نیا قانون بنانے اور قبل کے آسام مویشی تحفظ ایکٹ 1950 کو ختم کرنے کی ضرورت تھی، جس میں مویشیوں کے قتل یا ذبیحہ، استعمال اور ٹرانسپورٹیشن کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ضروری قانونی ضوابط کی کمی تھی۔کیرالہ اسمبلی میں پیش کردہ بل کے مطابق کوئی بھی شخص کسی دیگر ریاست کی کسی بھی جگہ سے ریاست کے اندر کسی بھی جگہ پر کسی بھی مویشی کو ٹرانسپورٹ کیلئے نہیں لے جائے گا، جس کا قتل اس ایکٹ کے تحت قابل سزا ہے۔ اہل افسر اس ایکٹ کے تحت بنائے گئے قوانین کے مطابق حقیقی زراعت یا مویشی پروری مقاصد کیلئے مویشیوں کے ٹرانسپورٹیشن سے متعلق پرمٹ جاری کر سکتا ہے۔ مویشی انسداد ظلم ایکٹ 1960 کے تحت مویشیوں کے ٹرانسپورٹیشن کو کنٹرول کرنے والے مرکزی حکومت کے قوانین کے ذریعہ مقرر کردہ طریقے سے مویشیوں کا ٹرانسپورٹیشن کیا جائے گا۔آسام مویشی تحفظ بل 2021 میں بوچڑخانہ کے علاوہ دیگر مقامات پر مویشیوں کے ذبیحہ پر روک لگانے، بیف اور بیف سے بنی مصنوعات کی فروخت پر روک لگانے کی تجویز ہے۔ بل کے تحت کوئی بھی شخص بالواسطہ یا بلاواسطہ طور سے فروخت یا پیشکش یا فروخت کیلئے ظاہر نہیں کرے گا یا اہل افسر کے ذریعہ ایسا کرنے کی اجازت کے علاوہ کسی بھی شکل میں بیف یا بیف سے بنی مصنوعات نہیں خریدے گا۔ نئے قانون کا مقصد یہ یقینی کرنا ہے کہ مویشیوں کے ذبیحہ کی ان علاقوں میں اجازت نہ دی جائے، جہاں خاص طور سے ہندو، جین، سکھ اور بیف نہیں کھانے والے طبقات رہتے ہیں یا وہ جگہ کسی مندر اور افسران کے ذریعہ مقررہ کسی دیگر ادارہ کے 5 کلو میٹر کے دائرے میں آتے ہیں۔ حالانکہ کچھ مذہبی مواقع کیلئے اس میں چھوٹ دی جا سکتی ہے۔میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق بل کی خلاف ورزی کرنے پر کم از کم 3 سال کی قید ہو سکتی ہے۔ یہ مدت 8 سال تک ہو سکتی ہے۔ حکم امتناع کے تحت جرمانے کی ادائیگی کرنا ہوگی، جو3 لاکھ روپے سے کم نہیں ہوگی اور 5 لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے، یا دونوں ہی سزا ملے گی۔ بل میں مویشیوں کی دیکھ بھال کیلئے گئوشالہ سمیت ایک ادارہ کے قیام کی بھی تجویز ہے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کسی مقامی اتھارٹی یا سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1960 یا کسی مرکزی ایکٹ یا کسی ایسو سی ایشن یا تنظیم کے تحت رجسٹرڈ سوسائٹی کو ایسے مقامات پر گئوشالاؤں سمیت ایک ادارہ قائم کرنے کیلئے قائم یا ہدایت کر سکتی ہے، جسے دیکھ بھال کیلئے ضروری سمجھا جا سکتا ہے۔ مویشیوں کو اس میں رکھا جائے گا۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here