اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور عالمی برادری

0

گزشتہ شب اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی میٹنگ میں اسرائیل نے بین المقدس کے معاملہ پر الگ تھلگ پڑتا دکھائی دیا۔ سیکورٹی کونسل کے تمام ارکان نے بیت المقدس کی موجودہ صورت حال Status Quo کو برقرار رکھنے کے موقف پر زور دیا۔ فلسطین اور دیگر مسلم ممالک نے اسرائیل کے وزیربرائے فوجی سیکورٹی اتمار بن گوریر کی مذمت کی۔ فلسطین کے نمائندہ ریاض منصور نے کہا کہ اتمار بن گویر مغربی کنارے کے نوآبادشہری ہیں۔ انتہاپسند حکومت کے انتہاپسند رویہ اس طرح کی اشتعال انگیزیوں اور نسل پرستانہ نظریات کے اظہار کے لئے ان کو سزا سنائی جاچکی ہے۔ اس موقع پر عرب اور فلسطینیوں نے ماضی کے واقعات کو یاد دلایا اور کہا کہ ایسا نہ ہو کہ وہاں تشدد برپا ہوجائے۔ فلسطینی نمائندے ریاض منصور نے کہا کہ سیکورٹی کونسل یا عالمی برادری اس طرح کی حرکتیں روکنے میں ناکام رہی تو فلسطینی لوگ اس کو روکیںگے۔ اس موقع پر اسرائیلی نمائندے گلاڈ ارڈن نے اپنے ملک کے وزیر کے دورے کو معمولی واقعہ قرار دیا۔ خیال رہے کہ گلارڈ ارڈن بھی اس طرح کے اشتعال انگیزی کے مرتکب ہوئے تھے۔ انہوں نے 2017 میں وزیر برائے پبلک سیکورٹی کے طورپر بیت المقدس کا دورہ کیا تھا۔
3؍جنوری کو مسلمانوںکے مقدس ترین مقامات میں شامل بیت المقدس میں نسل پرست سیاست داں جو اسرائیل میں قائم نتن یاہو حکومت میں قومی وزیر برائے سیکورٹی کے عہدے پر فائز ہیں، نے اپنی ذمہ داریوں کا حلف اٹھانے کے دوسرے دن ہی انتہائی حساس عبادت گاہ کا دورہ کرکے دنیا بھرکے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے۔ جان بوجھ کر کی گئی یہ اشتعال انگیز حرکت سخت گیر عناصر کی نئی سرکار کی ترجیحات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جیسا کہ 2000 میں اس وقت کے یہودی لیڈر اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ ایریل شیرون نے بیت المقدس کی بے حرمتی کرکے دنیا کو بدترین تصادم کی طرف دھکیلا تھا۔ یہ حرکت اسی طرح کی اشتعال انگیزی تھی۔ مشرقی یروشلم دنیا کا مقدس ترین مگر حساس ترین مقام ہے جومسلمانوںکا قبلہ اول ہے۔ اس حرکت کے خلاف پورے دنیا کے مسلمانوںنے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔ انصاف پسند ممالک بطور خاص اوآئی سی، عرب لیگ بیت المقدس کے کسٹوڈین ملک اردن کے علاوہ ناوابستہ ممالک کی کانفرنس کی طرف سے اس قدم کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ گزشتہ دیر شب اس اجلاس میں اسرائیل کا رویہ وہی غیرذمہ دارانہ اور نامناسب تھا۔ اسرائیل کے نمائندوں نے اسرائیلی وزیر کی اشتعال انگیزی کوان کا مذہبی حق قرار دیا۔ جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ بیت المقدس کی موجودہ صورت حال کو بدلا نہیں جاسکتا اورکوئی بھی حرکت جواس کی موجودہ صورت حال کو بدلنے والی ہووہ غیرقانونی ہوگی۔سیکورٹی کونسل کی یہ میٹنگ چین، فرانس، یواے ای اور مالٹا کی طرف سے طلب کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ چین اور فرانس سیکورٹی کونسل کے مستقل رکن ہیں۔ 15ارکان والی سیکورٹی کونسل کی میٹنگ میں امریکہ نے اگرچہ کوئی جانبدارانہ رخ اختیار نہیں کیا مگر 2000ء کی طرح اس مرتبہ اس کے رویہ میں اسرائیل کے تئیں نرمی دکھائی دی۔ 2000میں جب ایریل شیرون نے یہاں کا دورہ کیا تھا تواس حرکت کو اشتعال انگیزی قرار دے کر اس کی مذمت کی گئی تھی۔اس مرتبہ اسرائیل نے واضح کردیا ہے کہ وہ اس متنازع دورہ پر نادم نہیں ہے بلکہ اس کو اپنا حق قرار دیتا ہے۔ یہی وہ ہٹ دھرمی والا رویہ ہے جو اس خطے میں امن قائم نہیں ہونے دیتا۔ اسرائیل کا شکوہ ہے کہ فلسطینی حریت پسند اس کے وجود کے لئے خطرہ ہیں اس کی موجودہ حکومت میں شامل پارٹیاں دو ریاستی فارمولے کے خلاف ہیں۔ جبکہ اسرائیل کی حرکات وسکنات انتہائی اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ نئی سرکار نے اقتدار میں آتے ہی یہ واضح کردیا کہ مغربی کنارے میں وہ اپنے عزائم کوآگے بڑھائے گی۔ اس کے کسی بھی قدم سے یا بیان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ وہ اپنے قول وعمل کو لے کر شرمندہ ہے۔ مغربی کنارہ پر غیرقانونی تعمیرات بلاروک ٹوک جاری ہیں۔ اسرائیل کی نئی حکومت نے مغربی کنارے کو سیاحتی مرکز کے طورپر فروغ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اس علاقے میں اپنے نظریہ اور پالیسیوںکے حساب سے مذہبی سیاحت کے مقامات کو ترقی دے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس علاقے کے فلسطینی رہائش گاہوں، ان کے بنیادی حقوق، اہم مذہبی مقامات کونظرانداز کرکے ان کو یہودی نسل پرستانہ مذہبی نظریہ سے ترقی دی جائے گی۔ سیکورٹی کونسل کی مذکورہ بالا میٹنگ میں عالمی برادری نے دوریاستی فارمولہ کی ضرورت پر زور دیا۔ متحدہ عرب امارات اور عرب نمائندوں نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کو یکساں آزادی، انصاف اور سیکورٹی فراہم کی جائے اور ان کو ترقی کرنے کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں۔ روس جوکہ سیکورٹی کونسل کا مستقل ممبر ہے اس نے بھی اسرائیلی وزیر اتماربن گوویر کی اشتعال انگیزی پر ناراضگی کا اظہار کیا اوراس کو ایک سنگین اشتعال انگیزی اور حساس مسئلہ قرار دیا۔ روس نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل کی نئی حکومت کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے علاقے میں کشیدگی بڑھے اور زمینی سطح پر ایسی کوئی ناخوشگوار صورت حال پیش آجائے جس کو ختم کرنا ناممکن ہوجائے۔ اس موقع پر روس نے اپنی تجویز دہرائی کہ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے تمام فریقوںکے ساتھ مذاکرات کئے جائیں۔ اقوام متحدہ، امریکہ، روس اور یوروپی یونین کے نمائندے خطے کے اہم فریق ممالک اوراسرائیل کے درمیان مصالحت کراکر اس مسئلہ کو حل کریں۔ روس کے نمائندے کا کہنا ہے کہ امریکہ علاقے میں امن مذاکرات شروع کرانے میں کوئی تعاون نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے مذکورہ بالا چاروں فریقوں (یواین، امریکہ، روس اور یوروپی یونین)سے اپیل کی کہ وہ ایک ایسی حکمت عملی وضع کریں کہ سیکورٹی کونسل میں پاس قراردادوںکی روشنی میں اس مسئلہ کوحل کرلیا جائے۔
٭٭٭

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS