اسرائیلی بربریت:مساعیٔ امن کو دھچکا: شاہنواز احمد صدیقی

0

شاہنواز احمد صدیقی
میڈیا اور سوشل میڈیا پراسرائیل کے سابق وزیر اعظم یہودبراک کاایک بیان بڑی شدت کے ساتھ شیئر کیا جارہاہے جس میں انھوں نے حماس کو لے کر یہود کی سازش کا ’پردہ فاش‘ کیاہے کہ کس طرح نیتن یاہو نے فلسطینی اتھارٹی اور یاسرعرفات کو بے اثر کرنے کے لیے حماس جیسی ’دہشت گرد‘ تنظیم کی آبیاری کی تھی اور لگاتار اس تنظیم کو پنپنے اور پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔ خیال رہے کہ اسرائیل کے اندر ایک بہت بڑاطبقہ ایساتھا جو فلسطینیوں بطور خاص پی ایل او کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرناچاہتا تھا اور اسرائیل کے اندر اس سمجھوتے کی سخت مخالفت ہوئی تھی حتی کہ اسرائیل کے وزیراعظم یراک رابن جنہوں نے اس سمجھوتے پر دستخط کیے تھے، ان کو بھی شدت پسند صیہونیوں نے قتل کرایا تھا۔ ان کے قتل کے پس پشت کیا سیاسی سازش تھی، اس کے کئی پہلو حال ہی میں منظرعام پر آچکے ہیں اور اس سلسلہ میں اسرائیل کی سیاسی قیادت کانام بھی گردش کررہاہے۔
فلسطینی مجاہدین کے خلاف عالمی اور صیہونی سازشوں کی تفصیل بہت طویل ہے اور اس میں الجھے بغیر موجودہ بحران کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ غزہ پرحملہ کے ردعمل میں مغربی سیاسی قیادت کا رویہ روایتی، فلسطین مخالف اور انسانیت مخالف ہی ہے مگر عوامی سطح پر جس درجہ اور پیمانے کی احتجاج اور ناراضگی کا اظہار ہورہاہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام لوگ اس بحران کے تمام پہلوؤں کو سمجھتے ہیں اور ان کی نظرمیں سیاسی قیادت کی سازشیں بھی ہیں۔فلسطین تنازع کی موجو دہ شدت میں قیام امن کی کوششوں کو جو نقصان ہوا، وہ اپنی جگہ مگراس سے امریکہ کی غیرجانبدارنہ امیج بری طرح متاثرہوئی ہے۔امریکی وزیرخارجہ کا حماس کے حملہ کے فورا ًبعد اسرائیل پہنچ کر یہ بیان کہ میں اسرائیل ایک یہودی کی طورپر آیا ہوں، حیران کرنے والاتھا۔ اس سے امریکی انتظامیہ اور ارباب اقتدار سے متعلق تمام خوش فہمیوں کی تردید ہوتی ہے اور ہر بات واضح ہوجاتی ہے کہ مغرب بطور خاص امریکہ جمہوریت نوازی، انسانیت پرستی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام سے متعلق جو موقف اختیار کرتا ہے، وہ کتنا کھوکھلا ہے۔ امریکہ کی اس پالیسی میں کس قدر تضادات ہیں، ان کے جنگی معرکہ میں تقریباً دس ہزار معصوم بچوں، عورتوں اور شہریوں کی شہادت معمولی بات نہیں ہے اور عرب دنیا کے سخت جان سمجھے جانے والے سربراہان مملکت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایسے حالات میں عالمی سیاست میں اخوت، مساوات اور رواداری کے جذبات کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے ’ابراہم سمجھوتہ‘(Abraham Accord)کی بات کرنا کس قدر کھوکھلا اور حقائق سے چشم پوشی کرنے والا ہے۔ اس بابت بحرین، اردن کا ردعمل سامنے آچکا ہے اور ان دونوں عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے مراسم توڑلیے ہیں اور اپنے سفیروں کو واپس بلالیا ہے۔ غزہ کی 23لاکھ کی آبادی پر بم برساکر ان کو پانی روٹی اور بنیادی اشیاء سے محروم کرکے اسرائیل نے یہ بتادیاہے کہ زمینی حقائق ایسے نہیں جو اسرائیل کے ساتھ کشادہ قلبی کا مظاہرہ کیا جائے۔ یہ صورت حال دنیا کو امن کی آماجگاہ بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 9/11کا امریکہ پر دہشت گردانہ حملہ اور اس کے بعد پوری دنیا میں امریکہ اور اس کے حواریوں کے ردعمل کے بعد اسلام اور امریکہ کے درمیان پرانی رقابتوں کی یادتازہ ہوگئی تھی۔اس وقت مسلم دنیا ار مغرب کے درمیان جو تصادم پیداہوگیا تھا اس نے ورلڈآرڈر کی سمت اور ہیئت بدل دی تھی۔ 2009میں اس وقت امریکی صدر براک اوباما نے اس صورت حال کو سمجھتے ہوئے تصادم کو کم کرنے اور اس مسئلہ کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ قاہرہ یونیورسٹی میں عالم اسلام سے ان کے خطاب نے دلوں کو نرم کیا تھا۔ اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں براک اوباما نے کہاتھا کہ امریکہ اسلام کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہے اور افغانستان میں امریکی حملہ امریکہ پر 9/11کے دہشت گردانہ حملہ کے جواب میں دہشت گردوں —القاعدہ اور طالبان کے امریکہ پرحملہ کے جواب میں اور ان کے خلاف کارروائی کا حصہ تھا۔ اگرچہ افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائی میں امریکہ نے عام افغانی کو جس بے دردی سے نشانہ بنایا تھا، وہ عراق میں ’بشوں‘ کے انتقامی جذبہ کے تحت کی گئی کارروائی کی یاددلانے والا تھا۔انھوںنے بہرکیف قاہرہ میں اوباما نے کہاتھا کہ میں اہل امریکہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے پیام امن لایا ہوں— مصر کی تاریخی یونیورسٹی قاہرہ سے براک اوباما کے اس خطاب نے نفرت کی دیوار کو منہدم کرنے میں کافی اہم رول ادا کیاتھا۔ براک اوباما کی قیادت میں امریکی انتظامیہ کے نمبردو لیڈراورنائب صدر کے طورپر جوبائیڈن کی امیج بھی کافی بہترتھی۔ وہ اکثر انکساری اور خوش اسلوبی کے ساتھ سیاسی اور عوامی اسٹیج پر دکھائی دیتے تھے۔ اسرائیل کی حالیہ کارروائی اور اس کو امریکہ کی اندھی حمایت سے تصادم کی یہ نئی لہر دنیا کو کس سمت میں لے جائے گی اس بابت زیادہ کچھ کہنے کے بجائے، سنجیدگی سے حالات پرغور کرنے اور مستقبل کے کسی امکانی صورت حال کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ ’ابراہم سمجھوتہ‘ کی کامیابی اور توسیع کے امکانات کو سخت دھچکا لگاہے۔
خیال رہے کہ مسئلہ فلسطین عرب اسرائیل تنازع کی جڑ ہے۔ فلسطین محض ایک قطعہ اراضی نہیں ہے، اسلام اور مسلمانوں کے جذبات اس سے وابستہ ہیں۔ اسرائیل کو شکوہ رہتاہے کہ اس کے خلاف مسلمان برسرپیکار رہتے ہیں مگر تاریخ کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیاجائے تو مغرب کی بربریت اور یہود کی سازشیں طشت ازبام ہوجائیں گی۔ اس میں فلسطینی آسان چارہ بنے ہوئے ہیں۔ عالم اسلام نے کشادہ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سمجھوتے اور معاہدے کرکے تاریخ کی تلخیوں کو پس پشت ڈالنے اور مساعی امن کے ذریعہ ماضی پرخاک ڈالنے کی کوشش کی ہے مگر اوسلو معاہدہ کو ہوئے تیس سال ہوگئے ہیںاور ارض فلسطین میں امن قائم نہیں ہوسکا ہے۔ ان پر دائرۂ زندگی مسلسل تنگ ہورہا ہے۔ ان کو زندگی گزارنے کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑرہی ہے۔ آزادی، شخصی آزادی اور جمہوریت کی علمبردارممالک اسرائیل کا ساتھ دے کر ان کے گرد دائرہ تنگ کررہے ہیں۔ اسرائیل کا رویہ اور مغرب کی اس کو اندھی حمایت امن دشمنوں کو جوازفراہم کررہی ہے۔ یہ صورت حال دنیا میں گزشتہ70سال سے فلسطینی عوام ’محکوم‘ بنے ہوئے ہیں۔ ان کی زمین پر قبضہ ہے اور اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے متحدہ کوششیں نہیں ہوئی ہیں۔ ’ابراہم معاہدہ‘ مسلم عرب اور مغرب کے درمیان ناچاقی کوختم کرنے کی ابتدائی کوشش ہے، اس سے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان امن کے قیام میں مدد مل سکتی تھی۔ شاید ہم نے (خدانخواستہ) یہ موقع کھودیا۔’ابراہم معاہدہ‘ جنوری 2020میں منظرعام پر آیا تھا اور اس معاہدے کی بنیاد مسئلہ فلسطین ہے۔ عرب طاقتوں خاص طورپر متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، اردن، مراقش اور سوڈان سمجھوتہ کرچکے ہیں۔n

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS