اسرائیل:جمہوریت کا’طوق ‘فلسطینیوں کے گلے میں

0

پچھلے کئی ہفتوں سے مقبوضہ فلسطین کے مغربی کنارے،غزہ اور مشرقی یروشلم میں نسل پرست اورشدت پسندیہودی بیت المقدس اور دیگر اہم عبادت گاہوںمیں داخل ہوکر قبلہ اول کی مذموم بے حرمتی کررہے ہیں اور اسرائیلی فوج ان کو اہل ایمان کی ناراضگی سے بچانے کا بھرپورکوشش کررہی ہے۔ اس دوران ایک ایسی افسوس ناک تصویر اور ویڈیو سامنے آئے جن میں ایک یہودی عورت بیت المقدس کے صحن میں کھڑے ہوکر رقص کرتے دکھایاگیاتھا۔ ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو سرکاری ہینڈل سے وائر کی گئی ہے، جس میں ایک 12 سال کی بچی کو ایک درجن کے قریب اسرائیلی فوجی زدوکوب کررہے ہیں۔ اس سے قبل ہم یہودی سفاکی کے بدترین مناظر دیکھ چکے ہیں جن میں اسرائیل کے فوجی غزہ میں بمباری کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور اس زد میں ایک قبرستان بھی آیاجہاں کچھ بچے ایصال ثواب کے لیے آئے تھے۔ اسرائیلی فوجی کاررئی میں کئی بچے بھی موقع پر ہی شہیدہوگئے۔ غزہ پرحملہ کی حالیہ کارروائی میں سترہ سے زائد بچے شہیدہوئے۔ انسانی حقوق خواتین کی آزادی، بچوں کے تحفظ کا دم بھرنے والے ممالک ان تمام وارداتوں پرچپی سادھ کربیٹھے رہے۔ اسرئیل مقبوضہ فلسطین میں یہ سب کچھ اگرچہ معمولات کا حصہ ہیں اس مرتبہ مگر انتخابات کے موقع پر اسرائیل میں یہ مقابلہ ہے کہ فلسطینیوں کے لیے کون کتنا سفاک ہے۔ زیادہ زور وشور سے ہورہاہے اور ہو بھی کیوں نا، گزشتہ چارسال میں ہونے والے پانچویں انتخابات میں اس مرتبہ سابق وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو مقابلہ مارکیٹ میں آئے نئے سفاک کارگزار وزیراعظم یائرلیپڈ کے درمیان کھل کر ہورہاہے۔
نفتالی کی معزولی کے بعد یائر لیپڈ کواسرائیل کی پارلیمنٹ Knessetنے کارگزار بنانے کا فیصلہ صادر کیاتھا اوراس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے عارضی وزیراعظم کے طورپر وہ آزمودہ نسخہ اپنایا، جواس طرح کی شدت پسند جمہوریتوںمیں آزمایا جاتاہے یعنی عوام میں جگہ بنانے اورووٹ حاصل کرنے کے لیے فلسطینیوں کو مزید شدت کے ساتھ تختہ مشق بنانا شروع کردیاہے۔ مسلم اورعرب دنیا میں مسلسل اس بات کا پھراندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ اگراس الیکشن میں بنجامن نیتن یاہو دوبارہ برسراقتدار آگیا تو علاقہ میں کیا صورت حال بنے گی۔ مسلم عبادت گاہوں اور متبرک مقامات کی بے حرمتی اوراس حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت یہودی سخت گیر عناصر کو اپنے حق میں صف بند کیاجارہاہے۔
جیسا کہ اوپر کی سطروں میں بتایاگیاہے کہ گزشتہ 4انتخابات کی طرح یکم نومبر کو ہونے والے عام انتخابات پانچویں انتخابات ہوں گے اورہر مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی اسرائیل کے ووٹروس یہ سوال اہم بن کر ابھررہاہے کہ بنجامن نیتن یاہو اگلی حکومت کا حصہ ہوں گے یا نہیں اور کیا ان کے خلاف کرپشن اوربدانتظامی کے الزامات میں مقدمات چل پائیں گے۔ بہرکیف اسرائیل میں سیاسی عدم استحکام برقرار رہنے کا امکان ہے، کارگزار وزیراعظم یائرلیپڈ اس دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف وہ عربوں کی ایک سیاسی پارٹی کے ساتھ مفاہمت کررہے ہیں تووہ دوسری طرف وہ صیہونی عناصر کو بھی ناراض نہیں کررہے ہیں۔
اسرائیل کی پارلیمنٹ جس کو Knessetکہتے ہیں۔ اس میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 61ممبران کی حمایت ضروری ہے۔ مبصرین کی ایک غالب اکثریت کی رائے ہے کہ اس الیکشن میں اکثریت غیرنیتن یاہو اکثریت پارٹیوں کی ہوگی۔ عرب مبصرین کا کہناہے کہ اسرائیل میں کوئی بھی حکومت بنائے فلسطینیوں کے مسائل میں کمی کاامکان نہیں ہے۔ فرق صرف اتنا ہوگا امریکہ جواسرائیل کا سب سے بڑاحامی اورحمایتی ہے، نیتن یاہو کے خلاف کھل کر بیان دیتاہے، اپنی اس روش کو برقرار رکھے گا جبکہ اگران کے مخالفین برسراقتدار آتے ہیں تواسرائیلی سفاکی پراس کی برہمی محض ’اظہارفکرمندگی‘ تک محدود ہوگی۔ بہرکیف پوری دنیا کی نظریں اسرائیل کے انتخابی نتائج پرلگی ہوئی ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں انتخابی مہم میں کی جانے والی تقریروں پرہے کیونکہ اس حساس ترین اورسنگین مسئلہ کے حل کے لیے عالمی برادری بھی انتخابات کے نتائج کا انتظار کررہی ہیں۔ کئی بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ یہ تنازع حل ہو۔ اسرائیل کا ایک بڑاطبقہ چاہتاہے کہ عالمی برادری اس کی کیسے عالمی حمایت کرے جبپڑوس عرب اور مسلم ملکوں کے ساتھ مل کر رہنااس کی مجبوری ہے۔ پڑوسی ملکوں کے ساتھ بہترتعلقات اوربدگمانیوں کے خاتمہ کے بغیراسرائیل کی معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی ہے اور نہ عالمی سطح پراس کا ایک پرامن، امن پسند ملک کے طورپر وقار قائم کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔ اس کے بغیر اقتصادی خوش حالی کا تصور بھی ناممکن ہے۔ یہ بات اسرائیلیوں کی سمجھ میں بھی تاخیر سے ہی سہی، آنے لگی ہے۔n