اسرائیل- حماس جنگ:کہاں ہے اقوام متحدہ؟: صبیح احمد

0

صبیح احمد

ایک زمانہ تھا جب جنگیں بھی ’مہذب‘ ہوتی تھیں۔ قدیم جنگیں درحقیقت مہذب ہی ہوا کرتی تھیں اور بعض اصولوں و ضوابط کے مطابق لڑی جاتی تھیں۔ سپاہیوں کے درمیان لڑائیاں جنگ کے میدانوں میں طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک ہوتی تھیں۔ اگلے دن طلوع آفتاب کے وقت جنگ دوبارہ شروع ہوتی۔ لیکن آج کے جدید دور میں ایسا نہیں ہے۔ آج کے ’مہذب‘ سماج میں تو قطعی نہیں۔ آج روس-یوکرین اور بالخصوص اسرائیل اور حماس کے درمیان جو جنگیں لڑی جا رہی ہیں، وہ انتہائی وحشیانہ جنگیں ہیں۔ کوئی اصول و ضابطہ نہیں ہے۔ جنگیں حالانکہ مادی مقاصد کے حصول کے لیے لڑی جاتیں ہیں، لیکن انسانیت بے دریغ کچلی جا رہی ہے۔ اندھا دھند بمباری کی جارہی ہے۔ یوکرین اور غزہ میں پورے شہر اور قصبے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اسپتال اور اسکول مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ بچوں، خواتین، بوڑھوں اور مریضوں سمیت کئی ہزار ہلاک ہوچکے ہیں۔ اندرونی طور پر بے گھر افراد کو بنیادی سہولیات کے بغیر کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ ہزاروں بے گھر لوگ پڑوسی ممالک کی طرف ہجرت پر مجبور ہوگئے ہیں۔ بجلی اور پانی کی سپلائی بند کر دی گئی ہے۔ اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں شدید خلل پڑا ہے۔ ادویات نایاب ہیں۔ امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کو روک دیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اسرائیل آخر کب تک اس طرح اپنی مہم جاری رکھ سکتا ہے کیوں کہ جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ غزہ میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، پانی، بجلی اور ایندھن کی سپلائی منقطع ہونے کے تناظر میں اقوام متحدہ کی جانب سے تباہی کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا جا چکا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اقوام متحدہ ناکارہ پن کی حد تک ایک کمزور ادارہ بن چکا ہے۔ یہ خود اپنے ہی چارٹر کو نافذ نہیں کرسکتا جو بلند اہداف کے ساتھ شروع ہوتا ہے: ’ہم اقوام متحدہ کے لوگوں نے اپنی آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچانے کا عزم کیا، جس نے ہماری زندگی میں دو بار بنی نوع انسان کو ان کہا دکھ پہنچایا، اور… اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ… طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا، سوائے مشترکہ مفاد کے…۔‘ اقوام متحدہ نسلوں کو جنگ کی لعنت اور مسلح فورسز کے استعمال سے بچانے کو یقینی بنانے کے اپنے مقاصد میں شاندار طور پر ناکام رہا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کی نوعیت بدل گئی ہے۔ انسان اب انسان سے نہیں لڑتا، ہاتھ سے ہاتھ کی لڑائی اب تاریخ بن چکی ہے۔ مشینیں مشینوں سے لڑتی ہیں۔ ڈرون میزائلوں سے لڑتے ہیں۔ میزائلیں اینٹی میزائلوں سے لڑتی ہیں۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عرب کی زمین پر اسرائیل کا وجود بھی اسی اقوام متحدہ کا مرہون منت ہے۔ مغربی اور یوروپی ملکوں بالخصوص برطانیہ کی مکاریوں کے دام میں پھنس کر اقوام متحدہ نے قرارداد پاس کی تھی جس کے نتیجے میں 1948 میں فلسطینی خطہ میں اسرائیل نامی ملک کا قیام عمل میں آیا تھا۔
بہرحال غزہ میں زمینی افواج کے داخل ہونے کا مطلب گھر گھر لڑائی ہو گی جس کی ایک جھلک 30 اکتوبر کو اس وقت دیکھنے کو ملی جب اسرائیلی فوج نے ٹینکوں کے ساتھ غزہ شہر کے ساتھ ساتھ مغربی کنارہ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ غزہ کے مضافات میں حماس جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ اور رملہ میں عام شہریوں کے پتھرائو کا سامنا کرنے کے بعد بالآخر انہیں واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ اگر باضابطہ زمینی لڑائی شروع ہوئی تو غزہ پٹی میں آباد 20 لاکھ سے زیادہ کی شہری آبادی کو بے پناہ خطرات لاحق ہوں گے۔ اسرائیل کی فضائی بمباری میں اب تک 8 ہزار سے زائد لوگ پہلے ہی مارے جاچکے ہیں اور ہزاروں اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ زمینی آپریشن کے علاوہ اسرائیل کی ڈیفنس فورسزکے پاس ایک اضافی کام غزہ بھر میں نامعلوم مقامات پر قید 220 سے زائد مغویوں کو بچانا بھی ہے۔ فوجی آپریشن کئی عوامل کے رحم و کرم پر ہوتا ہے، ان میں وہ عوامل بھی شامل ہیں جو کسی بھی ایسے آپریشن کو پٹری سے اتار سکتے ہیں۔ ادھر حماس کا مسلح ونگ القسام بریگیڈ اسرائیلی حملے کے لیے تیار ہو گا۔ اسرائیلی فوجیوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے دھماکہ خیز مواد تیار ہو گا اور گھات لگا کر کارروائیاں کرنے کے منصوبے بھی موجود ہوں گے۔ حماس غزہ میں سرنگوں کے اپنے وسیع نیٹ ورک کو اسرائیلی افواج پر حملے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ 2014 میں اسرائیلی انفنٹری بٹالین کو ٹینک شکن بارودی سرنگوں، اسنائپرس اور گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں کے نتیجے میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ شاید یہی ایک وجہ ہے کہ اسرائیل نے غزہ پٹی کے شمالی حصے سے آبادی کے انخلا کیلئے کہا ہے۔ اسرائیلیوں کو ایک طویل جنگ کے لیے تیار رہنے کی تنبیہ کی گئی ہے جبکہ ریکارڈ 360,000 ریزرو فوجیوں کو ڈیوٹی پر بلایا گیا ہے۔
اسرائیل مسلسل کہتا آ رہا ہے کہ وہ غزہ پٹی سے حماس کو فوجی اور سیاسی طور پر اکھاڑ پھینکنا چاہتا ہے یعنی اس زمین سے ان کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ لیکن فوجی طاقت کے بے دریغ استعمال کے علاوہ، اتنے دن گزر جانے کے باوجود اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل اپنے مقاصد کے حصول میں کب اور کیسے کامیاب ہوپائے گا؟ کیا کامیاب ہو بھی پائے گا؟ یہ سب کچھ اچانک ہوا ہے۔ ابھی تک کچھ بھی واضح نہیں ہے۔ حماس مقامی سطح پر ایک انتہائی مقبول تنظیم ہے۔ اگر وہ حماس کو ہٹانا چاہتے ہیں تو انہیں پورے غزہ کو نسلی طور پر پاک کرنا ہوگا۔ یہ خیال کہ اسرائیل خفیہ طور پر لاکھوں فلسطینیوں کو غزہ پٹی اور ہمسایہ ملک مصر سے بے دخل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، فلسطینیوں میں ایک نئے خوف کو جنم دے رہا ہے۔ ایک ایسی آبادی جو پہلے ہی زیادہ تر پناہ گزینوں پر مشتمل ہے، وہ لوگ جو اسرائیل کے قیام کے وقت اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے تھے، ایک اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خیال 1948 کے تکلیف دہ واقعات کی یادیں تازہ کرتا ہے۔ فرار ہونے کا مطلب یکطرفہ ٹکٹ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ فلسطینیوں کے خدشات میں اضافہ صدر بائیڈن کی جانب سے 20 اکتوبر کو کانگریس(امریکی پارلیمنٹ) سے اسرائیل اور یوکرین کی مدد کے لیے مزید فنڈ کی منظوری کی درخواست سے بھی ہو گیا ہے۔
دیکھا جائے تو اس معاملے میں امریکہ کا موقف اگر مبہم نہیں تو پوری طرح واضح بھی نہیں ہے۔ صدر بائیڈن کا یہ مشورہ کہ اگر ممکن ہو تو نیتن یاہو کو حماس کی جانب سے مزید یرغمالیوں کی رہائی تک انتظار کرنا چاہیے، ’لیکن میں اس کا مطالبہ نہیں کرتا‘، اس جانب اشارہ کرتا ہے ۔ ان کا یہ تبصرہ فلسطین-اسرائیل جنگ سے متعلق امریکی نقطہ نظر کا احاطہ کرتا ہے۔ اسرائیل کے عزم کی مکمل حمایت اور اس کے ردعمل کے نتائج کے بارے میں خدشات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ امریکی انتظامیہ یقینا حماس سے اسرائیلی یرغمالیوں کو چھڑانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتی اور کسی بھی ممکنہ موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ اس وقت حماس کے پاس امریکی شہریوں سمیت 200 سے زیادہ یرغمالی موجود ہیں اور حالیہ دنوں میں 4 یرغمالیوں کی رہائی نے یہ امید دلائی ہے کہ باقی لوگوںکو بھی رہائی مل سکتی ہے۔ غزہ پر حملوں کے بعد سے علاقائی کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی فکر مندہے۔ ادھر اسرائیلی حکومت اور فوج کو لگتا ہے کہ انہیں بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل ہے، کم از کم مغربی ممالک کے رہنماؤں کی۔ جلد یا بہ دیر اسرائیل کے مغربی اتحادی غزہ میں بھوک اور ہلاکتوں کی تصاویر دیکھیں گے تو وہ اس معاملے میں مداخلت ضرور کریں گے، عام شہریوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہونے سے دباؤ بھی بڑھے گا۔ یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے کیونکہ اس کے لیے وقت درکار ہے اور امریکی انتظامیہ اسرائیل کو ایک یا 2 سال تک غزہ میں نہیں رہنے دے سکتی۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS