وراثت: بے ایمانیاں مسلمانوں کا طرز حیات بن گئی ہیں

0

ابونصر فاروق

قرآن میں اللّٰہ کا حکم:تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دوعورتوں کے برابر ہے۔ اگر(میت کی وارث)دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیاجائے اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہوتوآدھا ترکہ اس کا ہے۔ اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہئے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں توماں کو تیسرا حصہ دیا جائے اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حقدار ہوگی۔(یہ سب حصے اس وقت نکالے جائیں گے)جب کہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو اس پر ہو ادا کر دیا جائے۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بہ لحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں۔ اور اللہ یقینا سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہواس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا، اگر وہ بے اولاد ہوں۔ ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے جب کہ وصیت جو انہوں نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے۔بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو۔ یہ حکم اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ دانا و بینا اورنرم خو ہے۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گااسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گااور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرجائے گااسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گااور اس کیلئے رسوا کن عذاب ہے۔
ان آیات میں درج ذیل باتیں بتائی جا رہی ہیں:(۱)مرد کو دوگنا حصہ اس لئے دیاجائے گاکہ شریعت نے خاندانی زندگی میں مرد پرزیادہ معاشی ذمہ داریو ںکا بوجھ ڈالا ہے اور عورت کو بہت سی معاشی ذمہ داریوں سے آزاد رکھا ہے اس لئے انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ میراث میںعورت کا حصہ مرد کی بہ نسبت کم رکھا جائے۔(۲) صاحب جائیداد کی موت کے بعد اس کی چھوڑی ہوئی جائیداد میں سے سب سے پہلے اس نے جو وصیت کی ہے اسے پورا کیا جائے گا، پھر اس پر جو قرض ہے اس کو ادا کیا جائے گا اس کے بعد اللہ نے جن لوگوں کو جائیداد کا وارث ٹھہرایا ہے، قرآن کے بیان کردہ تناسب کے مطابق جائداد ان کے درمیان تقسیم کر دی جائے گی۔(۳)کس حالت میں کس کو کتنا ملے گااس کا فیصلہ انسان کو کرنے کا حق نہیں ہے،یہ فیصلہ اللہ نے کر دیا ہے اوروہ ساری حقیقتوں اور مصلحتوں کا جاننے والا دانا وبینا اور حد درجہ مہر بان ہے۔(۴)رشتہ دار وں میںنفع پہنچانے کے لحاظ سے کون زیادہ قریب ہے اس کا علم اللہ کو ہے انسان کو نہیں ہے۔ (۵)وراثت کے یہ حصے اللہ کی طے کی ہوئی حدیں ہیں جو ان کی پابندی کرے گا جنت کا حقدار بنے گااور دونوں جہان میں کامیاب بنے گا۔ اور جو ان حدود کی پاسداری نہیں کرے گا وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ جلے گا اور ذلیل و خوار ہو کر رہے گا۔
ترکے کی تقسیم کا طریقہ یہ بتایا گیا کہ :(۱)میت کی بیوی ، بیٹے اور بیٹیاں موجود ہوں تو ترکے کا آٹھواں حصہ بیوی کو ملے گا اس کے بعدجو بچے گااس میں بیٹے، بیٹی کی تعداد کو سامنے رکھ کر اس طرح بانٹا جائے گا کہ بیٹوں کو دو دوحصہ اور بیٹیوں کو ایک ایک حصہ دیا جائے۔ (۲)اگر ماں باپ بھی موجود ہوں توبیٹے بیٹیاں چاہے جتنے بھی ہوں ماں باپ دونوںایک بٹے چھ حصے کے حقدار ہوں گے اور باقی دو بٹے تین حصہ دوسرے وارثوں کو دیا جائے گا۔(۳)ماں باپ کے سوا کوئی اور وارث نہ ہوتو باقی دو تہائی باپ کو ملے گا ورنہ دو تہائی میں باپ اور دوسرے وارث شریک ہوں گے۔(۴)بھائی بہن ہو نے کی صورت میں ماں کا حصہ ایک بٹے تین کی جگہ ایک بٹے چھ کر دیا گیا ہے۔اس طرح ماں کے حصے میں جو ایک بٹے چھ ہے وہ باپ کے حصے میں ڈالا جائے گا، کیونکہ اس صورت میں باپ کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔یہ واضح رہے کہ میت کے والدین اگر زندہ ہوں تواس کے بہن بھائیوں کو حصہ نہیں پہنچتا۔(۵)ایک بیوی ہو یا کئی بیویاں ہوں، اولاد ہونے کی صورت میں وہ ایک بٹے آٹھ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں ایک بٹے چار کی حصہ دار ہوں گی۔ یہ ایک بٹے آٹھ یا ایک بٹے چار سب بیویوں میں برابر برابر تقسیم کیاجائے گا۔ میراث کی تقسیم کا یہ حساب ہر فرد کو آسانی سے سمجھ میں نہیں آئے گا اس لئے جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہوئے حکم شریعت کے مطابق جائیداد تقسیم کرنا چاہتے ہوں وہ کسی حساب داں عالم دین سے رابطہ کر کے تفصیل جان لیں۔ ہر عالم دین ترکے کی تقسیم کا علم نہیں رکھتا ہے۔

مسلمانوں کو شریعت کا حکم:
یہ آیات بتا رہی ہیںکہ صاحب جائیداد کی موت کے بعد فوراً جائیداد کی تقسیم کا انتظام کیا جائے ، متوفی کی وصیت پوری کی جائے ،اس پر جو قرض ہے وہ ادا کیاجائے اور وارثین میں جائیداد تقسیم کر دی جائے ۔ جو اس کے حکم کی تعمیل نہیں کرے گا وہ جہنم میں جائے گا اور جو اس کے حکم کی تعمیل کرے گا اُس کو جنت اور کامیاب زندگی ملے گی۔

ظالم اور ناانصاف مسلم معاشرہ:
قرآن کی ان آیات کے مطابق اول تو مسلم سماج میں جائیداد تقسیم ہی نہیں کی جاتی ہے اوراگر تقسیم کی بھی جاتی ہے تو ان احکام کا کوئی لحاظ نہیں کیاجاتا۔ یہ ایسا گناہ ہے جس میں اس وقت کاپورا مسلم معاشرہ مبتلا ہے الا ماشاء اللہ۔ ان دنوں مسلم گھرانوں میں جائیداد کی تقسیم میں حد سے زیادہ بے ایمانی اور ظلم و ستم ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے سگے بھائی بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں میں رنجشیں، شکایتیں اور عداوتیں پیدا ہو رہی ہیں۔سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ صاحب جائیداد کی وفات کے بعد جائیداد کی منصفانہ تقسیم نہیں ہونے کی وجہ سے مدتوں متروکہ جائیداد اجمالی بنی رہتی ہے۔جن گھروں میں جائیداد تقسیم کی جاتی ہے وہاں بھی جیسے تیسے بٹوارا ہو جاتا ہے لیکن قرآن کی ان ہدایات کا لحاظ نہیں کیاجاتا۔ بھائی لوگ بہنوں کو ان کا ترکہ دیتے ہی نہیں۔ پورا مسلم سماج گنہگار اور ظالم بنا ہوا ہے۔

مذہبی جماعتوں اور قائدین کی ذمہ داری:
اصلاح معاشرہ کیلئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ مذہبی جماعتیں اور مذہبی قائدین امت کو اور خاص کر اپنی جماعت میں رہنے والوںکوپابند بنائیں کہ باپ کے مرنے کے بعد فوراً جائیداد کی شرعی تقسیم کریں۔ اور جو لو گ ایسا کرنے پر راضی نہ ہوں اُن سے اپنا تعلق ختم کر لیں۔ یہ حکمت عملی معروف کے قیام کی ایک کوشش کہی جائے گی۔ اور اگر مذہبی جماعتیں اور قائدین اس کی کوشش نہیں کرتے تو سمجھا جائے گا کہ اصلاح معاشرہ کا اُن کا سارا پروگرام محض دکھاوا اور اپنی جماعت اور ادارے کی تشہیر کے سوا کچھ نہیں ہے۔جائیداد کی شرعی تقسیم کی وجہ سے مسلم سماج سے بہت سی خرابیاں دور ہو جائیں گی اور مسلم سماج اللہ کی رحمت کا حقدار بنے گا جس کے سبب اُس کی بہت ساری مصیبتیں، پریشانیاں اور الجھنیں دور ہو جائیں گی۔

مسلمانوںکی بد نصیبی:
جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنے والا سمجھتا ہے کہ وہ فائدے میں ہے لیکن قرآن کہتا ہے کہ وہ توجہنمی بن گیا۔کیا کوئی نیک اور متقی مسلمان جائیداد کی وراثت میں بے ایمانی کرسکتا ہے؟ جو ایسا کرتا ہے وہ نہ مسلمان ہے نہ نیک ہے، جہنمی ہے۔ اس خاکسار کے سامنے کئی خاندان والوں نے شکایت کی کہ بڑئے بھائی نے جائیداد پر قبضہ کر رکھا ہے بٹوارا کرنا ہی نہیں چاہتے اور جب تقاضہ کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ جو کچھ اُن کے قبضے میں ہے وہ اُن کا ہے باقی حصہ میں تم لوگ بٹوارا کر لو، جب کہ جائیداد کے بہت بڑے اوراچھے حصے پر وہ خود قابض ہیں۔بڑے بھائی نمازی ، حاجی اور نیک مسلمان سمجھے جاتے ہیں۔ایک مذہبی جماعت سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔میں انہیں بتاتا ہوں کہ آپ لوگ شریعت سے ناواقف ہیں ،شریعت کے حکم کے مطابق والد کی موت کے بعد فوراً بٹوارہ کر لیتے تو یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوتالیکن بے دین سماج کی واہیات رسم کی وجہ سے آپ نے سوچا کہ باپ کے مرنے کے بعد فوراً بعد جائیداد کی تقسیم کی بات کریں گے تو دنیا کیا کہے گی؟آپ کو دنیا کا خیال رہا اور اللہ کے حکم کا خیال نہیں رہا۔یہ اللہ کی نافرمانی کی سزا ہے جو آپ کو مل رہی ہے اور آپ کے بڑے بھائی ویسے ہی مسلمان ہیں جیسے مدینہ میں رسول اللہؐ کے ساتھ رہنے والے لوگ تھے جن کو قرآن نے منافق کہا ہے اور جن کے جہنمی ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔اس وقت مسلمانوں کی اکثریت اس ظلم اور ناانصافی کا شکار ہے۔اللہ تعالیٰ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے اور ظلم و زیادتی کرنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ہے۔لہذا اس وقت کا مسلم معاشرہ اپنے ان گناہوں کی وجہ سے طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہے۔ وہ اپنی دنیا سجانے اور سنوارنے میں لگا ہوا ہے لیکن اُس کو نہیں معلوم کہ اس کی بغاوت ، سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے اُس کا خدا اُس کی دنیا بگاڑنے میں لگا ہوا ہے۔جب اُس نے اپنے خدا کو ہی اپنا دشمن بنا لیا تو دنیا میں کون اُس کا بھلا کر سکتا ہے۔

ایک غلط طریقہ:
ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ ان کے گاؤں میں باپ کے مرنے کے بعد جائیداد کی باقاعدہ تقسیم نہیں کی جاتی اور لوگ خود بخودوارث بن جاتے ہیں۔میں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ کہ قاعدے سے اگر جائیداد تقسیم نہیں کی گئی تو کیسے پتا چلا کہ کون کتنے حصے کا حقدار ہے؟ دوسری بات یہ کہ جب جائیدادباقاعدہ تقسیم نہیںہوئی ،داخل خارج کا عمل ہوا ہی نہیں، جائیداد کے وثیقے (دستاویز)پر حصہ دار (مالک) کا نام چڑھا ہی نہیںتو وہ ترکے کا مالک کیسے بن گیا اور وہ اپنی جائیدداد کسی کو بیچ کیسے سکتا ہے ؟ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں مدتوں سے ایسا ہی ہوتا چلا آ رہا ہے،اور ہم لوگ اپنی جائیدادیں وارث کی حیثیت سے خریدتے اور بیچتے ہیں۔میں نے کہاکہ آپ کی بات میری سمجھ سے باہر ہے۔

معاملے کا ایک اور پہلو:
وراثت کی جو بے ایمانیاں کھلم کھلا ہر طرف ہو رہی ہیں،اُن کے متعلق بتایا گیا کہ وہ کھلم کھلا شریعت کی، اللہ کی، رسول کی، قرآن کی اور عدل و انصاف کی ان دیکھی اور بغاوت ہو رہی ہے۔شریعت کی تھوڑی سی سمجھ رکھنے والا آدمی جانتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور اللہ کے حکم سے بغاوت کرنے کے نتیجے میں شیطان جو اللہ کے دربار میں قریب ترین مقام رکھتا تھا،ہمیشہ کے لئے راندۂ درگاہ بنا دیا گیا اور قیامت تک اُس پر اللہ کی لعنت ہوتی رہے گی۔ وہ خود بھی جہنم میں جائے گا اور اپنے ساتھ اُن سارے لوگوں کو جہنم میں لے جائے گا جو اُس کی پیروی کرتے ہوئے اُس کے پیچھے چل رہے ہیں۔