افغانستان میں ہندوستان کی محتاط پیش رفت!

0

صبیح احمد

گزشتہ سال اگست میں افغانستان سے افراتفری کے دوران امریکی انخلا کے بعد پہلی بار ہندوستانی وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری جے پی سنگھ کے ہمراہ ہندوستان کا ایک اہم وفد افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچا۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے کسی سرکاری ہندوستانی وفد کا یہ پہلا دورہ تھا۔ ہندوستانی وفد نے طالبان کے وزیر خارجہ عامر خان متقی سے ملاقات کی اور سفارتی تعلقات، تجارت اور انسانی امداد پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کے بعد متقی نے ہندوستانی وفد کے دورے کو ایک ’اچھی شروعات‘ قرار دیا۔ متقی نے ہندوستان کو افغانستان میں اپنی سفارتی موجودگی اور قونصلر خدمات دوبارہ شروع کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ جبکہ ہندوستان سفارتی سطح پر دورے کو زیادہ اہمیت کا حامل نہ بتائے ہوئے اسے انسانی امداد کی نگرانی تک محدود کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفد نے ان بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی جو وہاں انسانی امداد کی تقسیم کے کام میں مصروف ہیں۔ وفد نے خاص طور پر ان جگہوں کا بھی دورہ کیا جہاں ہندوستان کی جانب سے پروجیکٹ اور اسکیموں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
افغانستان میں اشرف غنی حکومت کے زوال اور امریکی انخلا کے بعد ہندوستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج یہ رہا ہے کہ طالبان حکومت کو تسلیم کیا جائے یا نہیں؟ ہندوستان اس بات پر بھی تذبذب کا شکار رہاہے کہ طالبان سے بات بھی کی جائے یا نہیں؟ شاید یہی وجہ ہے کہ وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی قیادت میں باضابطہ ایک وفد کے دورے کے باوجود ہندوستان اسے زیادہ اہمیت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ حالانکہ ہندوستان طالبان کے ساتھ تب سے بات چیت کرتے آیا ہے جب 1999 میں ہندوستان کا مسافر بردار طیارہ اغوا کیا گیا تھا۔ طیارے کو افغانستان کے قندھار ایئر پورٹ لے جایا گیا تھا۔ یہ علاقہ اس وقت طالبان جنگجوؤں کے زیر کنٹرول تھا۔ لہٰذا اغوا کاروں اور ہندوستان کے درمیان طالبان ثالثی کر رہے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب ہندوستانی حکومت نے طالبان سے کوئی رابطہ کیا تھا۔ اس کے بعد حکومت ہند اور طالبان کے مابین کسی قسم کا باضابطہ سفارتی رابطہ نہیں ہوا۔ ہندوستان ہمیشہ سے ہی افغان حکومت کے ساتھ رہا ہے۔ مسافروں اور طیارے کی رہائی کے بدلے ہندوستان کو بھی 3 شدت پسندوں کو رہا کرنا پڑا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ہندوستان نے طالبان کے ساتھ باضابطہ طور پر وہ کام کیا جسے سفارتی زبان میں ’انگیج‘ کرنا کہتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد طالبان کے ساتھ پھر کبھی کوئی سفارتی گفتگو نہیں ہوئی۔ جب 1996 میں پہلی بار طالبان نے اقتدار پر قبضہ کیا تو ہندوستانی سفارتکار ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ایک بار پھر امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلاکے بعد کی صورتحال نے یقینا ہندوستان کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے کیونکہ پچھلے 20 برسوں میں ہندوستان نے مختلف منصوبوں اور امداد کی شکل میں افغانستان میں ہزاروں کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں۔
ہندوستان نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گزشتہ 9 مہینوں کے دوران 20 ہزار میٹرک ٹن گندم، 13 ٹن ادویات، کووڈ ویکسین کی 5 لاکھ خوراکیں اور موسم سرما کے کپڑے کئی کھیپوں میں بھیجے ہیں۔ انسانی امداد کی یہ کھیپیں کابل کے اندرا گاندھی چلڈرن اسپتال اور اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسیوں بشمول ڈبلیو ایچ او (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) اور ڈبلیو ایف پی (ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن) کے حوالے کی گئی ہیں۔ صرف یہی نہیں ہندوستان افغانستان کے ان لوگوں کو بھی مدد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے جو طالبان کی آمد کے بعد ملک چھوڑ کر ایران چلے گئے ہیں۔ہندوستان نے ایران میں پناہ گزینوں کے طور پر رہنے والے لوگوں کی مدد کے لیے ویکسین کی 10 لاکھ خوراکیںپولیو ویکسین اور ضروری ادویات بھی فراہم کی ہیں۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہندوستان نے موقف اپنایا تھا کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا لیکن ابتدائی چند ماہ کے دوران اس کی پالیسی میں تبدیلی کے آثار نظر آئے اور ہندوستانی نمائندوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ حالانکہ اس ملاقات کو ہندوستان نے سفارتی طور پر کبھی قبول نہیں کیا لیکن گزشتہ سال اگست کے اواخر میں دوحہ میں ہندوستانی سفیر دیپک متل اور طالبان کے سرکردہ رہنما شیر محمد عباس استنکزئی کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔ طالبان کے ساتھ ہندوستان کی یہ پہلی باضابطہ بات چیت تھی۔ طالبان کے ساتھ دوسری باضابطہ ملاقات 21 اکتوبر کو ہوئی جب ہندوستان کے ایک وفد نے وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری جے پی سنگھ کی قیادت میں ماسکو میں طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ طالبان وفد کی قیادت ان کے نائب وزیراعظم عبدالسلام حنفی کر رہے تھے۔ یہ وفد روس کی دعوت پر افغانستان کے معاملے پر منعقد ’ماسکو فارمیٹ‘ کانفرنس میں شرکت کے لیے گیا تھا اور اس موقع پر ہندستان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی۔ ہندوستان کی جانب سے اب تک طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان افغانستان میں اپنے مشنوں پر ماضی میں ہونے والی حملوں کے لیے طالبان کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ 1999 میں آئی سی 814 طیارے کی ہائی جیکنگ اور اس کے بدلے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر، احمد زرگر اور شیخ احمد عمر سعید کی رہائی کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ طالبان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے سے صدر غنی کی حکومت کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات خراب ہو سکتے تھے جو تاریخی طور پر کافی خوشگوار تھے لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔
ہندوستان کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ اب ملک پر طالبان کامکمل قبضہ ہے اور وہ اقتدار پر بھی پوری طرح قاض ہو چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہندستان کے پاس 2 راستے ہیں: یا تو افغانستان میں رہے یا پھر سب کچھ بند کر کے 90 کی دہائی کے کردار میں واپس آ جائے۔ اگر دوسرا راستہ اختیار کیا گیا تو اس نے گزشتہ 2 دہائیوں میں جو کچھ حاصل کیا ہے، وہ سب ختم ہو جائے گا۔ پہلے قدم کے طور پر ہندوستان کو درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ بات چیت کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہندوستان افغانستان کی ترقی کے لیے جو کچھ کر رہا ہے وہ یہ کردار (علامتی طور پر ہی صحیح) جاری رکھ سکے۔ اہم بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں طالبان کی طرف سے بھی کوئی ہندوستان مخالف بیان سامنے نہیں آیاہے۔ طالبان نے کبھی بھی افغانستان کی ترقی میں ہندوستان کے کردار کو غلط نہیں ٹھہرایا۔ جب آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا گیا تو طالبان نے اسے ہندوستان کا داخلی امور قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں (طالبان کو) اس بات کی پرواہ نہیں کہ ہندوستان کشمیر میں کیا کرتا ہے۔ اس لیے ہندوستان کو افغانستان کے عوام کی خاطر وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھنی چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیوں تک طالبان سے فاصلہ رکھنے کے بعد خواہ احتیاط کے ساتھ ہی صحیح، اب ہندوستان اپنے قدم آگے بڑھا رہا ہے۔
[email protected]