ہندوستان ا ور COP26

0

وزیراعظم نریندرمودی کی کرشمائی شخصیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ سیاست سے سفارت کاری تک ہر چہار جانب ان کی فہم وذکااور دانش کا دیرپا نقش قائم ہے۔ یہ نقش آج اس وقت اور گہرا گیا جب انہوں نے یہ اعلان کیا کہ گرین ہائوس گیسوں کے اخراج کے معاملہ میں ہندوستان 2070تک صفر یعنی ’ نیٹ زیرو‘ ہدف حاصل کرلے گا۔ ان کے اس اعلان نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ دنیا کی یہ حیرت بجا اس لیے بھی ہے کہ ہندوستان نے اس سے قبل اس طرح کے کسی بھی معاہدہ میں خود کو باندھنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ یہ ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا سے موذی گیسوں کا اخراج ختم کریں۔ گلوبل وارمنگ ختم کرنے کی ذمہ داری اقتصادی اور انسانی ترقی میں پیچھے رہنے والے ممالک پر نہیں ڈالی جاسکتی۔
گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں ڈھیر ساری تبدیلیاں آئی ہیں، اندرون ملک کئی ایک پالیسیوں میں بہتری آئی ہے تو کئی ایک پالیسیوں میں تبدیلی بھی کی گئی۔سرمایہ کشی اور کھلی معیشت کیلئے کئی نئی نئی راہیں تراشی گئی ہیں۔خارجہ محاذ پر بھی کئی ایک نئی تبدیلی کی گئی ہے، ان میں دنیا سے ہندوستان کے رشتوں کو نیا معنی بھی دیاگیا ہے۔ پرانے دوستوں سے قربتیں بڑھی ہیں تو کئی ایک سے کچھ فاصلہ بھی اختیار کیاگیا اور کئی نئے دوست بھی بنائے گئے ہیں۔
وزیراعظم مودی کا یہ اعلان بھی ہندوستان کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔اس اعلان سے موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے حوالے سے ہندوستان کا پراناموقف یکسر تبدیل ہوگیا ہے اور اب ہندوستان، دنیا میں ماحولیاتی توازن برقراررکھنے کیلئے اپنا سرگرم کردار ادا کرے گا اور آنے والے2070تک ’ نیٹ زیرو‘ کا ہدف حاصل کرلے گا۔’ نیٹ زیرو‘ یا ’ کاربن نیوٹرل‘ دراصل ایک ایسی صورتحال کی نشاندہی ہے جس میں کسی ملک کی جانب سے پیداہونے والی تمام گرین ہائوس گیسز ختم کردی جاتی ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ نے نیٹ زیرو کا ہدف حاصل کرنے کیلئے 2050تک کی مدت طے کی ہے۔ ہرچند کہ ہندوستان ان سے دو دہائی پیچھے ہے، اس کے باوجود ہندوستان کا یہ اقدام دنیا کو انسانوں اور جانداروں کیلئے محفوظ بنانے کی سمت ایک انقلاب آفریں قدم کے طور پر دیکھاجارہا ہے۔برطانیہ کے شہر گلاسگو میں اس وقت دنیا کے تقریباً 120 ممالک موسمیاتی تبدیلی اور اس سے لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے سر جوڑے بیٹھے ہیں۔COP26 (کانفرنس آف پارٹیز)یعنی فریقین کی کانفرنس میں امریکہ اورچین کے ساتھ ساتھ ہندوستان پر بھی دنیا کی نگاہیں ٹکی ہوئی تھیں کیوں کہ ہندوستان بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج کے معاملہ میں ان ممالک کے ساتھ ہی کھڑا ہے۔
یہ کانفرنس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پور ی دنیا اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کے خوفناک نتائج بھگت رہی ہے۔ کہیں سیلاب تو کہیں خشک سالی اور کہیں گرمی قہر برسارہی ہے۔کہیں لینڈ سلائڈنگ ہورہی ہے تو کہیں جنگلوں میں آگ لگ جارہی ہے۔دریا، جھیل اور پانی کے ذخائر خشک ہو رہے ہیں۔دنیا میں زیرزمین پانی کے37 اہم ترین ذخائر میں سے 13 اتنی تیزی کے ساتھ خالی ہو رہے ہیں کہ ان کا دوبارہ بھرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ہر سال 5 کروڑ 50 لاکھ افراد خشک سالی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ہر ملک میں مویشیوں اور فصلوں کو شدید خطرہ درپیش ہے۔ مختلف طرح کے امراض میں اضافہ ہورہاہے۔ نقصان دہ گیسوں کے اخراج کے باعث خاص کر زیر زمین ایندھن کے ذرائع کے استحصال کی وجہ سے زمین روز بروز گرم ہوتی جا رہی ہے۔صنعتی انقلاب سے پہلے کے دور کے مقابلے میں زمین 1.1ڈگری سیلسیس تک گرم ہوئی ہے اور اس صدی کے آخر تک یہ حرارت2.7ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔یہ صورتحال اس وقت ہے جب دنیا بھر کے بڑے ممالک یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ کاربن کے اخراج کو روک رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس سمت میں کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا ہی نہیںحتیٰ کہ ان ممالک نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی مسئلے سے نمٹنے کیلئے ہر سال ایک سو ارب ڈالر کا مالی تعاون کرنے کا وعد ہ بھی پورا نہیں کیا۔
فریقین کی پہلی کانفرنس (COP)کا فرنس مونٹریال میں ہوئی تھی لیکن کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اور بھی کئی کانفرنسیں رسمی طور پر نمٹائی گئیں۔ تاہم 2015 میں پیرس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی جب COP موسمیاتی تبدیلی پر اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ بنانے میں کامیاب ہوا جسے پیرس معاہدہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑا موقع تھا کیونکہ اس سے پہلے تمام ممالک کے درجہ حرارت کو2 سے1.5ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے پر اتفاق ہوا تھا مگر یہ معاہدہ لازمی نہ ہوکر رضاکارانہ تھا۔ یعنی اخراج کو کم کرنے کے لیے کسی ملک پر کوئی جبر نہیں تھا۔
اب برطانیہ کے شہر گلاسگو میں COP26کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان میں 2070 تک کاربن اخراج ختم کرنے کا ہدف مقرر کرکے ترقی یافتہ ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ دنیا کو گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی خطرات سے بچاناضروری ہے اور ہندوستان اپنی ترقی پذیر حیثیت کے باوجود سرگرم کردارادا کرنے کے لیے تیار ہے۔اب انتظار یہ ہے کہ زمین کے تحفظ کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کے اس عزم میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کس طرح ان کا ساتھ دیتے ہیں۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS