ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ

0

مہنگائی پر کنٹرول رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، کیونکہ اس کے بڑھنے کا اثر امیر کے ساتھ غریب پر بھی پڑتا ہے، برسر روزگار لوگوں کے ساتھ بے روزگار لوگوں پر بھی پڑتا ہے لیکن پہلے کورونا وائرس کی وجہ سے اور پھر دنیا کے بدلتے سیاسی حالات کی وجہ سے ایک طرف بے روزگاری بڑھی ہے تو دوسری طرف مہنگائی بھی کنٹرول میں نہیں آ پارہی ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کا اثرمہنگائی پر پڑتا ہے، کیونکہ ان کی وجہ سے اشیا کی ڈھلائی مہنگی ہو جاتی ہے مگر پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا ہے، رسوئی گیس کی قیمت میں بھی اس سال ایک بار سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے اور اب روزمرہ کی چیزیں اور مہنگی ہوجائیں گی، کیونکہ کچھ چیزیں پہلی بار جی ایس ٹی کے دائرے میں لائی گئی ہیں۔ دہی، لسی، چھاچھ، پنیر، سبھی طرح کے گڑ، کھانڈساری چینی، شہد، چاول، رائی، جو، آٹا، چاول کے آٹے پر پہلے زیرو جی ایس ٹی تھی مگر اب ان پر 5 فیصد جی ایس ٹی دینا ہوگا۔ ناریل پانی پر بھی اب 12 فیصد جی ایس ٹی دینا ہوگا۔ ان ضروری چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کا اثر عام لوگوں اور ان لوگوں پر زیادہ پڑے گا جو غریب ہیں یا بے روزگار ہیں، کیونکہ یہ چیزیں ایسی نہیں ہیں جن کا استعمال اگر نہ بھی کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ روزمرہ کی ان اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت کیا گیا ہے جبکہ جون 2022 تک 7.80 فیصد بے روزگاری تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت یہ سوچا گیا ہے کہ پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کے علاوہ رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافے سے پہلے ہی لوگ بے حال ہیں، چاول، رائی، جو اور آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا تو ان کی حالت کیا ہوگی؟ بی جے پی کے رکن پارلیمان ورون گاندھی کے مطابق، ’آج سے دودھ، دہی، مکھن، چاول، دال، بریڈ جیسی پیکٹ والی اشیا پر جی ایس ٹی نافذ ہے۔ ریکارڈتوڑ بے روزگاری کے بیچ لیا گیا یہ فیصلہ متوسط فیملی اور خاص کر کرائے کے مکانوں میں رہنے والے جدوجہد کرنے والے نوجوانوں کی جیبیں اور ہلکی کر دے گا۔ جب راحت دینے کا وقت تھا، تب ہم زخمی کر رہے ہیں۔‘
یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ دنیا کے حالات کے مدنظر بھی اور ملک کی معیشت کے مدنظر بھی حکومت کو کچھ سخت فیصلے لینے ہیں، کیونکہ سخت فیصلے اسی وقت لیے جانے چاہئیں جب اقتصادی حالت کے بگڑنے کا اندیشہ ہو۔ بروقت سخت فیصلے نہ لینے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے، اسے سری لنکا کے حالات سے بھی سمجھنا مشکل نہیں۔ ہمارا ملک کافی بڑا ہے اور اس کے حالات سری لنکا کے حالات جیسے نہیں ہیں، چنانچہ سری لنکا کے حالات سے اپنے ملک کے حالات کا موازنہ کرنا ٹھیک نہیں ہے، البتہ اپنے ملک کے کورونا سے پہلے کے اقتصادی حالات کا موازنہ اگر موجودہ اقتصادی حالات سے کیا جائے تو تشویش کا اظہار فطری ہوگا، کیونکہ ہمارا ایکسپورٹ بڑھا ہے مگر امپورٹ اس سے زیادہ بڑھا ہے۔ ایکسپورٹ کے مقابلے امپورٹ اگر زیادہ ہو اور روپے کی قدر بھی گر رہی ہو تو یہ اقتصادی حالت کے لیے نیک فال نہیں سمجھا جاتا اور تشویش اسی لیے ہے کہ روپے کی قدر میں ادھر کمی آئی ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ اگلے چندمہینوں میں کمی نہیں آئے گی، تشویش کی ایک اور بات یہ ہے کہ زرمبادلہ کا ذخیرہ بھی کم ہوا ہے۔ ایسی صورت میں آمدنی میں اضافے کے لیے حکومت کو کوشش کرنی ہے اور سخت فیصلے بھی لینے ہیں مگر اس کے فیصلے کا اثر اگر عام لوگوں پر پڑتا ہے تو اس سے عام لوگوں کو راحت دینے کی اس کی کوششوں پر بھی اثر پڑے گا۔ اگر غریب لوگوں کے لیے گڑ-روٹی بھی مہنگی ہو جائے تو انہیں یہ کون سمجھائے گا تو آٹے اور گڑ کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے کا حکومت کا فیصلہ ملک کے مفاد میں ہے؟ وزیر خزانہ کو اگر لگتا ہے کہ کچھ اشیا کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لانا ضروری ہے تاکہ ملک کی اقتصادی حالت بہتر رکھی جائے تو انہیں اس سلسلے میں فیصلہ عام لوگوں کا خیال کرتے ہوئے لینا چاہیے۔ ضرورت زندگی اور آسائش زندگی میں فرق ہے، آسائشی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کرنے والوں، بے روزگار لوگوں یا عام لوگوں کو فرق نہیں پڑتا مگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے فرق پڑتا ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ اسی لیے جواب طلب سوال یہ ہے کہ دہی، لسی، چھاچھ، پنیر، گڑ، کھانڈساری چینی، شہد، چاول، رائی، جو، آٹا، چاول کے آٹے کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے کے باوجود کیا یہ بات کہی جائے گی کہ حکومت نے عام لوگوں کا خیال رکھا ہے؟
[email protected]