بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کے تناظر میں: تشدد کے خلاف جنگ میں علماء کا تعاون بے حد ضروری

0
بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کے تناظر میں: تشدد کے خلاف جنگ میں علماء کا تعاون بے حد ضروری

عبدالماجد نظامی

دہشت گردی، تشدد اور مذہب کے غلط استعمال کے ذریعہ معاشرہ میں تناؤ کی کیفیت پیدا کرنا، نفرت کا ماحول سازگار بنانا اور پھر اس سے سیاسی مقاصد کا حصول ایسے مسائل ہیں جن سے پوری دنیا پریشان ہے اور امن و سلامتی کے میدان میں کام کرنے والے ماہرین شب و روز اپنی فکری اور عملی قوت کا استعمال اس غرض سے کرتے نظر آتے ہیں کہ کسی طرح اس فکر کو پنپنے اور سماج کے نوخیزوں کے اندر جڑ پکڑنے سے روکا جائے جس سے صرف تباہی کا دروازہ کھلتا ہے اور مابین مذاہب دوریاں پیدا ہوتی ہیں اور نتیجتاً ترقی اور بقاء باہم کے دروازے بند ہوتے نظر آتے ہیں۔ ہندوستان کا معاشرہ بھی آج کے گلوبل ولیج کا حصہ ہونے کی وجہ سے ان مسائل سے دوچار رہتا ہے اور یہاں کے امن و سلامتی امور کے ماہرین اس کی انتھک کوشش کرتے ہیں کہ سماج کو نفرت اور تشدد کا شکار ہونے سے بچایا جائے۔ ہندوستان میں مذہب کا غلط استعمال کرنا، اس کے ذریعہ ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنانا اور پھر بعض سیاسی پارٹیوں، ان کے لیڈران اور تشدد پسند تنظیموں کے ذریعہ مذہبی منافرت پھیلا نا بلکہ زہر افشانی کرنا ایک عام سی بات ہوگئی ہے جس کے بڑے سنگین نتائج ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی اقدام اعلیٰ سطح سے اس غرض سے کیا جائے کہ ایسے تشدد آمیز ماحول کو روکا جائے اور معاشرہ میں امن و امان کا مزاج پیدا کیا جائے جس کے مثبت قومی اور بین الاقوامی نتائج سامنے آئیں تو اس کی سراہنا ہر سنجیدہ فکر انسان کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اسی تناظرمیں اس کوشش کو دیکھا جانا چاہیے جس کے تحت ہندوستان اور انڈونیشیا کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اسلام کے صحیح مفہوم اور پیغام کو سمجھنے اور سمجھانے کا انتظام کیا گیا ہے اور تشدد و فکری بے راہ روی کے مسائل کو حل کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں ہندوستان کے وزیراعظم کے قومی سلامتی امور کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے انڈونیشیا اور ہندوستان کے علماء کے ذریعہ یہ بات رائج کروانے کی پہل کی ہے کہ موثر طریقہ سے تشدد کا مقابلہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک مذہبی دانشوران کا تعاون لے کر اسلام کی صحیح تعلیم کو عام نہ کیا جائے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے دہلی میں واقع انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے وقیع ہال میں سہ شنبہ یعنی29نومبر کو ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اسلام کی تعلیم کی ترویج بڑے پیمانہ پر کرواکر تشدد آمیز افکار کو سماج میں پھیلنے سے روکا جائے۔ اس سمینار میں جلی طور پر لکھا گیا کہ ہندوستان اور انڈونیشیا میں مابین مذاہب امن اور خیرسگالی کے کلچر کو پروان چڑھانے میں علماء کا کردار کیا ہوسکتا ہے۔ اس پروگرام میں دونوں ملکوں کی بڑی اہم شخصیات نے حصہ لیا اور اس موضوع پر مختلف پہلوؤں سے پر مغز اور سنجیدہ گفتگو کی گئی۔ قابل ذکر طور پر دونوں ممالک کے علماء اور دانشوران کے علاوہ ہندوستان کے سلامتی امور کے مشیر اجیت ڈوبھال اور انڈونیشیا کے نائب وزیراعظم محمد محفوظ ایم ڈی موجود تھے۔ اجیت ڈوبھال نے اپنی افتتاحی تقریر میں بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ اسلام کا مطلب ہی امن و سلامتی ہے کیونکہ یہ انسانی جانوں کا اس قدر احترام کرتا ہے کہ اگر کسی نے ایک معصوم شخص کو بھی بچایا تو گویا اس نے پوری انسانیت کی حفاظت کی اور اگر کسی نے ایک بے گناہ کا بھی قتل کیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کر دیا۔ وہ جس پس منظر میں یہ باتیں کہہ رہے تھے، اس کی وضاحت بھی اپنی تقریر میں کی تھی۔ انہوں نے مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بڑی حد تک دہشت گردی اور علیحدگی پسند افکار و نظریات پر قابو پا لیا ہے لیکن سرحد پار اور داعش کے افکار سے متاثر ہونے کے نتیجہ میں دہشت گردی کے جو واقعات رونما ہوتے ہیں، اس کا خطرہ بدستور قائم ہے۔ ایسے میں سول سوسائٹی کا تعاون بہت ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ان افراد یا خفیہ تنظیموں کی دہشت گردانہ حرکتوں سے محفوظ نہیں رہا جا سکتا جو داعش سے متاثر ہوجاتے ہیں یا شام و افغانستان سے لوٹ کر آتے ہیں۔ اسی پہلو پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے علماء اور مذہبی دانشوران کے تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلم دانشوران اور اسلامی علوم و قوانین کے ماہرین کا رول اس سلسلہ میں بہت اہم ہے۔ کیونکہ ان کے ذریعہ سے اگر ترقی پسند افکار و خیالات کی ترویج ہوگی تو تشدد آمیز افکار کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان اور انڈونیشیا کے علماء کے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ جمہوریت میں نفرت آمیز کلمات، تعصب، پروپیگنڈہ اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اجیت ڈوبھال کی ان باتوں سے کس کو اختلاف ہوسکتا ہے؟ ہر باشعور انسان اس کی اہمیت پر مہر تصدیق ثبت کرے گا۔ لیکن یہ خطاب صرف مسلم دانشوران کے لیے نہیں تھا۔ یہ محض اتفاق ہے کہ وہاں علماء کا طبقہ تھا، اس لیے روئے گفتگو ان کی طرف تھا ورنہ اس کے مخاطب وہ تمام لوگ تھے جو مذہب کے نام پر نفرت اور تشدد کا ماحول ملک میں قائم کرتے ہیں اور اس کا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب ڈوبھال یہ کہہ رہے تھے کہ اسلام دہشت گردی اور تشدد کے خلاف ہے اور دہشت گردی اس کے مزاج کی ضد ہے کیونکہ وہ امن کی تعلیم دیتا ہے تو سچ کہہ رہے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کا استعمال دہشت گردی کے لیے جو لوگ کرتے ہیں وہ دراصل اس کے پیغام کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ یہ باتیں جب قومی سلامتی امور کے مشیر کی زبان سے نکل رہی ہیں تو پھر ان لوگوں کو بھی محتاط ہوجانا چاہیے جو بلا وجہ اسلام اور مسلمان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور بے قصوروں کو پس زنداں ڈال دیتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ دہشت گردی اور تشدد بھی سنگین جرائم کی فہرست میں آتے ہیں لہٰذا ہر وہ شخص جو اس قسم کے واقعات میں ملوث پایا جاتا ہے اس کے ساتھ قانونی طور پر وہی سلوک ہونا چاہیے جو کسی بھی مجرم کے ساتھ ہوتا ہے۔ مذہب اور تشخص کو اس کے ساتھ ضم نہیں کرنا چاہیے ورنہ مسائل حل ہونے کے بجائے پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ اجیت ڈوبھال نے اپنی تقریر میں یہ بات صحیح کہی کہ ایسے عناصر کی مخالفت کو کسی مذہب کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے بلکہ ہمیں اپنے مذہب کے حقیقی پیغام پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، کیونکہ مذہب انسانی اقدار کو پروان چڑھانے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور پرامن بقاء باہم کی تعلیم دیتا ہے۔ امید ہے کہ آئندہ بھی ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے اور ہندوستان و انڈونیشیا کے علماء کے ساتھ مل کر جس کوشش کا آغاز کیا گیا ہے، وہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی جاری رہے گی تاکہ یہ عالمی تحریک کی شکل اختیار کر لے اور بین الاقوامی سطح پر داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کے گمراہ کن اور مہلک افکار سے نجات کا ذریعہ بن سکے۔ یہ ایک مستحسن قدم ہے کہ علماء کا تعاون اس سلسلہ میں حاصل کیا جارہا ہے۔ یہی مناسب اپروچ ہے جس کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کے غلط استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔
(مضمون نگار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
[email protected]