کئی زبانوں کے ماہر مولانا حفظ الرحمٰن صاحب ندوی اللہ کے حضور

0

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں

محمد قمر الزماں ندوی

تمہیں مردہ کون کہتا ہے؟ تم تو زندوں کے زندہ ہو
تمہاری خوبیاں باقی، تمہاری نیکیاں باقی

آج جیسے ہی جمعہ کی نماز پڑھا کر اپنے قصبہ نما گاؤں کی جامع مسجد( دگھی )سے گھر آیا اور موبائل آن کیا، تو سارے گروپس میں انا للہ و انا الیہ راجعون کی تحریر گردش کررہی تھی، دیکھا تو استاد محترم جناب مولانا حفظ الرحمٰن صاحب ندوی کی وفات کی خبر تھی اور لوگ ایک دوسرے کو اس خبر کی اطلاع دے رہے اور ایک دوسرے سے تعزیت بھی کر رہے تھے،۔ مولانا ادھر کئی مہینوں سے بیمار چل رہے اور اپنے صاحب زادے عطاء الرحمن ندوی کے یہاں دہلی میں رہ کر علاج کرا رہے تھے، کبھی ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوتے اور افاقہ ہوتا تو پھر گھر پر علاج ہوتا، ڈاکٹروں نے موذی مرض کی تشخیص کی تھی اور اسی کا علاج چل رہا تھا، مرض ایک طرح سے قابو میں تھا، لیکن خدا کی حکمت اور مصلحت خدا جانے کہ
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
اس سے پہلے ایک بار مولانا مرحوم کی موت کی خبر پھیل گئی تو بعد میں اس کی تردید ہوئی ، اس لیے خاکسار نے انتظار کیا کہ یقینی طور پر اس خبر کی تصدیق ہوگی تو ، تبھی تعزیتی کلمات اور وفیاتی تحریر سپرد قلم کریں گے۔ مولانا حفظ الرحمٰن صاحب قاسمی ندوی ہمارے اور ہمارے جیسے ہزاروں تشنگانِ علم اور طالبان علوم نبوت کے مربی و استاد تھے، مجھے مولانا مرحوم سے دیوان حماسہ،سراجی اور ہدایہ جلد اول پڑھنے کی سعادت ملی ہے، مولانا بہت محنت، لگن شوق اور جد و جہد سے پڑھاتے تھے، ہم طلبہ کبھی کبھی تبصرہ کرتے تھے کہ مولانا ہم لوگوں کی سطح سے زیادہ کا مطالعہ کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ جو کچھ مطالعہ 📚✏ کئے ہیں، وہ لڑکوں کے سامنے پیش کردیں یا انڈیل دیں، ہدایہ کے لیے وہ علامہ ابن ہمام رح کی مشہور و معروف عربی شرح الفتح القدیر کا خاص طور پر مطالعہ کرتے تھے، اس کی عبارت جستہ جستہ قال ابن الہمام رحمہ اللہ تعالیٰ کہہ سنا دیتے ، اس کے علاوہ عنایہ اور البنایہ فی شرح الھدایہ کا مطالعہ کرکے اہتمام سے آتے تھے، سراجی بھی بہت محنت اور تیاری سے پڑھاتے تھے اور مسئلے کو بورڈ پر بنواتے اور حل کراتے تھے ، سوال کرنے پر کبھی ناراض نہیں ہوتے ، بلکہ خوش ہوتے، کبھی کبھی موسم کے تقاضے کے مطابق ہم طلبہ کا پڑھنے کا دل نہیں ہوتا، تو ہم لوگ درخواست کرتے کے آج جدید معلومات اور جنرل نالیج سے متعلق سوال جواب کرنا چاہتے ہیں، تو مولانا اپنی شرافت طبع کی وجہ سے تیار ہوجاتے تھے، مولانا مرحوم سے خارجی اور غیر درسی کتابوں کے سلسلہ میں ہم لوگ رہنمائی اور مشورہ لیتے مولانا بلا تکلف مفید کتابوں کی فہرست بتادیتے تھے، کہیں بھی راستہ چلتے بھی ان پوچھ لیتے تھے، کوئی جھجھک نہیں ہوتا۔ مولانا طلبہ کے لیے انتہائی مہربان و مشفق تھے اپنی ذات سے بھر پور فائدہ پہنچاتے تھے۔


مولانا مرحوم کا تعلق بہار کے ضلع سہرسہ کے مشہور اور علمی طور پر انتہائی زرخیز گاؤں نور پور یا مبارک پور سے تھا، جہاں شیخ برادری کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور مشہور ہے بلکہ حقیقت ہے کہ ان کے آباء و اجداد جون پور یوپی سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے، مولانا کا تعلق اسی مشہور خاندان و خانوادہ سے تھا، یہ قصبہ اور اس کا اطراف انتہائی مردم خیز ہے ، یہاں جید اور باصلاحیت علماء اور اہل علم کی بڑی تعداد ہمیشہ رہی ہے اور آج بھی ہے، مشہور عالم دین مولانا فضل الرحمن رحمانی رح بھی اسی قصبہ کے تھے، جو ایک مدت تک بھٹکل کے جامعہ اسلامیہ کے کامیاب مہتمم رہے،
مولانا کی ابتدائی تعلیم علاقہ میں ہوئی اور پھر دار العلوم دیوبند گئے اور وہاں اعلی تعلیم حاصل کی اور امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوئے اور سند فضیلت لی، آپ اپنے ساتھیوں اور معاصرین میں ہمیشہ نمایاں اور سب سے فائق اور ممتاز رہے، بچپن سے ذہین و فطین اور بقامت و بقیمت ہر دو اعتبار سے فائق تھے اور پلس پوائنٹ انتہائی محنتی اور جفاکش بھی تھے۔۔ دار العلوم سے فراغت کے بعد ندوۃ العلماء میں تخصص فی الادب میں داخلہ لیا اور عربی زبان و ادب میں مہارت حاصل کی اور اس فن میں اعلی مقام حاصل کیا ۔ فراغت کے بعد اپنے اساتذہ کے مشورے سے مدرسہ فلاح المسلمین امین نگر تیندوہ رائے بریلی میں ادب و فقہ کی تدریس میں لگ گئے اور وہاں کے سب سے لائق اور فائق استاد ثابت ہوئے۔ بڑوں کی ان پر خاص نظر تھی اور وہ اس ہیرے کی قدر جان رہے تھے ، اس لیے جلد ہی ان کو دار العلوم ندوۃ العلماء میں تدریس کے لیے بلا لیا گیا اور وہ تین دہائی سے زیادہ سے یہاں تدریس کے فرائض، انجام دے رہے تھے، وہ عالیہ کے استاد تھے اور فقہ ادب اور حدیث کی اونچی کتابیں پڑھاتے تھے، اس کے ساتھ لسانیات کے شعبہ میں ان کے خصوصی گھنٹے تھے جہاں وہ طلبہ کو سنسکرت اور ہندی وغیرہ پڑھاتے تھے۔
مولانا مشاق استاد اور کامیاب اور ماہر مدرس تھے، ان کی پوری زندگی تعلیم وتعلم اور درس و تدریس میں گزری، مولانا صحافی بھی تھے، اس فن سے بھی دلچسپی تھی اور کلکتہ کے کسی انگریزی میگزین کے لیا لکھا کرتے تھے، (درجنوں لوگ ان مدد اور معاونت سے ایم فل اور پے ایچ ڈی کرلی لیکن خود اس کی طرف توجہ نہیں کی اگر وہ چاہتے تو اپنی صلاحیت سے عصری درسگاہوں میں اعلیٰ سے اعلی ملازمت اور منصب حاصل کرلیتے)۔ گو بعد میں یہ سلسلہ منقطع، ہوگیا تھا۔ وہ بیک وقت سات آٹھ زبانوں کے ماہر تھے، انگریزی، عربی، اردو، ہندی، فارسی،سنسکرت، ترکی،اور فرنچ زبانوں پر ان کو قدرت ،ملکہ اور مہارت حاصل تھی، وہ کسی بھی فن کی کوئی کتاب پڑھا سکتے تھے، بقول شخصے وہ کہتے تھے کہ الحمد للہ قدرت نے مجھے یہ ملکہ اور صلاحیت دی ہے کہ میں علامہ شبلی نعمانی کتب خانہ کی کوئی کتاب بھی بغیر مطالعہ 📚✏ کے پڑھا سکتا ہوں،اس اعتبار سے وہ ہر فن مولا تھے۔ یہ کہاوت ان پر صادق آتی ہے۔ مولانا ایک بے مثال استاد اور ماہر معلم تھے نیز ماہر تعلیم بھی تھے، تعلیم کے میدان میں ان کے خاص افکار و نظریات اور اصول تھے ، جو زمانے اور حالات کے مطابق تھے، وہ اس نہج پر ادارہ قائم کرنا چاہتے تھے،لیکن زاہدانہ اور درویشانہ طبعیت اور سب سے بڑی بات وسائل کے فقدان کی وجہ سے وہ اس میدان میں عملا کچھ نہیں کرسکے، لیکن بہت سے مدارس کے لوگوں کو وہ اپنے مفید مشورے سے نوازتے رہتے تھے۔ اور اس نہج پر کام کرنے کی تلقین کرتے تھے، ۔۔
مولانا انتہائی شفیق، خلیق، مہربان اور بلند اخلاق و کردار کے حامل شگفتہ مزاج اور ملنسار انسان تھے، کم گو کم سخن تھے لیکن ظریف ،اور مرنجنان مرنج طبیعت کے مالک تھے ، ان کے اندر انسانیت، مروت اور شرافت حد درجہ پائی جاتی تھی، مزاج میں نرمی تھی، خیر خواہی کا جذبہ خوب تھا، علاقیت وطنیت اور عصبیت ان روحانی اور اخلاقی بیماری سے پاک تھے،اندر کا حال تو خدا جانتا ہے ہم تو ظاہر کے مکلف ہیں، مداہنت، چاپلوسی اور بے جا قربت بنا کر کام نکالنا اس فن کے ابجد سے بھی واقف نہیں تھے، جبکہ اس میدان بہت سے پی ایچ ڈی اور تخصص کئے ہوتے ہیں اور اس فن اور صلاحیت سے وہ وہاں پہنچ جاتے ہیں جن کی پہلی سیڑھی اور زینہ تک کے وہ حقدار نہیں ہوتے۔ مولانا مرحوم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالات حاضرہ اور موجودہ ملکی اور عالمی سیاست پر گہری نظر تھی، انگلش پر استادانہ قدرت کی وجہ سے انگریزی کا معیاری اخبار پڑھتے تھے اور اس کی روشنی میں سیاسی، علمی اور سماجی تبصرہ کرتے تھے۔ احقر جب بھی ندوہ جاتا مولانا کی مجلس میں گھنٹوں بیٹھتا، کسب فیض کرتا،مولانا سے میرا گہرا تعلق اور رشتہ رہا ، ہمیشہ ذاتی احوال و کوائف بھی معلوم کرتے اور تیز گام اور تیز قدم رہنے کا مشورہ دیتے، میں اپنی کتابیں حضرت کو ہدیہ کرتا اور دعائیں لیتا۔
میں ہمیشہ مولانا سے شکوہ کرتا کہ مولانا آپ ہمیشہ چھپے رہتے ہیں، چھپتے نہیں ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی اعلی صلاحیت، قابلیت اور استعداد سے نوازا ہے اور اتنی زبانوں کے آپ ماہر ہیں، مولانا مسکرا دیتے اور طرح دے دیتے، ان کی ذات پر زہد و استغنا کا غلبہ تھا ، شہرت نام و نمود سے کوسوں دور رہتے تھے،ان کی سادگی ان کی شخصیت کے لیے یقیا حجاب بن گئی، ان کی شخصیت جس طرح نکھر کر سامنے آنی چاہیے وہ نہیں آسکی اس لیے علمی دنیا میں ان کو وہ مقام و مرتبہ نہیں مل سکا ، جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے، یہ اس زمانے کا المیہ اور ٹریجڈی بھی ہے کہ ہم شخصیت کا مقام اور اندازہ لباس و پوشاک اور وضع قطع و ظاہری ڈیل ڈول سے کرتے ہیں، جبکہ بہت سی جگہ گدڑی میں لعل چھپا ہوتا ہے، وہاں تک ہماری نظر نہیں جاتی ، کیونکہ ہمارے پاس بصارت تو ہے لیکن اکثر کے پاس بصیرت نہیں ہے۔
مولانا صورت و سیرت ہر دو اعتبار سے اعلیٰ تھے، شکیل و وجیہ تھے،خاندانی وجاہت کے مالک تھے،زمانہ طالب علمی میں فراغت اور خوش حالی تھی، اعلی اور متمول خاندان کے تھے، ابتدائی زمانے میں خوش پوشاک تھے، خوبصورت شیروانی زیب تن کرتے اور بیک وقت کئی شیروانی ہوتی تھی،اچھا کھاتے پیتے تھے، ان کے معاصرین بتاتے ہیں کہ ان کا طالب علمی کا زمانہ بہت عیش و آرام کا رہا ، لیکن بعد میں زمین داری ختم ہوجانے کی وجہ سے قناعت اور صبر و شکر کی زندگی گزارنی پڑی ، لیکن ہمیشہ خود دار رہے، صبر و قناعت کے پیکر بنے رہے،اگر وہ چاہتے تو اپنے علم اور صلاحیت کی بنیاد پر ہزاروں سے علم اور مال و دولت اور اقتصادی میدان میں بھی فائق اور نمایاں رہتے ، لیکن انہوں نے زندگی کو بقدر کفاف گزارا اور کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل پر عمل کیا، اس دنیا کو انہوں اہمیت ہی نہیں دی بس اس کو سرائے مسافر خانہ اور خود کو مسافر سمجھا،اس میدان میں وہ بڑے بڑوں کے لیے نمونہ ہیں جو ایک عالم پر چھائے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مولانا مرحوم اگرچہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی خوبیاں، نیکیاں،ان کے اوصاف کمالات، ان کی سادگی ان کا زہد و استغنا اور ان کا خلوص ، ان کی للہیت،ان کی ادارہ کے لیے وفاداری یہ چیز باقی رہیں گی یقینا ان کی موت علمی دنیا کے لیے اور خاص طور پر ندوہ کے لیے بہت بڑا خسارہ ہے، اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور وارثین، متعلقین اور تمام اہل تعلق کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزئہ نورستہ اس گھر کی نگہ بانی کرے

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
3
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here