ٹیکنالوجی کا اُفق مزید وسیع کرنے کے لیے سائنس دانوں نے ایجادات کے میدان میں گاڑے جھنڈے

0

نداسکینہ صدیقی
(گذشتہ سے پیوستہ )
پانی میں گھل کر غائب ہونے والی کاغذی بیٹری
رواں برس ماحول دوست کاغذی بیٹری تیار کی گئی جوازخود گھل کر ختم ہوجاتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ کاغذی بیٹری ماحول پر بیٹریوں کے منفی اثرات اور زہریلے کیمیائی اجزا کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔اس سے کم بجلی خرچ کرنے والے سینسر، اسمارٹ لیبل والی اشیا، ٹریکنگ اور طبی آلات اور دیگر برقی پرزوں کو توانائی فراہم کی جاسکے گی۔ یوں کاغذی بیٹری پانی سے روبہ عمل ہوگی اور خاص وقت میں گھل کر ختم ہوجائے گی۔ اس پر کاغذ پر چھاپی گئی تین روشنائیوں (انک) سے سرکٹ کاڑھا گیا ہے۔ کاغذی پٹی کو سوڈیئم کلورائیڈ میں ڈبویا گیا اور اس کے چھوٹے سروں میں سے ایک کو خاص موم میں ڈبویا گیا ہے۔ روشنائی میں گریفائٹ کا چورا لگایا گیا ہے جو بیٹری کے مثبت برقیرے یا کیتھوڈ کی تشکیل کرتے ہیں۔ دوسری قسم کی انک میں زنک کا سفوف ہے جو بیٹری کا اینوڈ یا منفی سرا بناتا ہے۔کاغذ کے دونوں جانب سیاہ کاربن لگایا گیا ہے جو مثبت اور منفی برقیروں کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ جب اس کاغذ پر پانی کی معمولی مقدار ڈالی جاتی ہے تو کاغذی بیٹری سے چارج جاری ہونے لگتا ہے اور بیٹری کام کرنے لگتی ہے، پھر برقیروں کو کسی بھی آلے سے جوڑ کر اسے بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔
موبائل چارج کرنے والا کپڑا
جب کہیں باہر ہو اور موبائل کی جارجنگ ختم ہورہی ہو تو کا فی مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن 2022 ء میں برطانیہ کی ٹاٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا کپڑا تیار کیا ہےجو موبائل چارج کرسکتا ہے ۔اس کپڑے میں 1200 چھوٹےچھوٹے فوٹو ولٹائک سیلز (سولز پینلز ) نصب کیے گئے ہیں ۔یہ سیلز سورج کی روشنی سے 400 ملی واٹ کی توانائی بناسکتے ہیں جو ایک اسمارٹ واچ یا موبائل فون کو چارج کرنے کے لیے کافی ہے اور ان کو کپڑے بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ٹیکسٹائل محقق ڈاکٹر تھیوڈور ہیوزرائلے کے مطابق یہ نمونہ مستقبل کے ای-ٹیکسٹائل کی دلچسپ جھلک ہے۔ ٹیکسٹائل اشیاء بجلی بنانے کے لیے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ یہ کپڑا بالکل عام سے ٹیکسٹائل کی طرح دِکھتا ہے۔ اس پر سلوٹیں بھی آسکتی ہیں اور مشین میں بھی دھویا جاسکتا ہے۔ لیکن سطح کے نیچے ہزار فوٹو ولٹائک سیلز کا ایک نیٹ ورک لگایا ہے جو سورج کی روشنی سے توانائی بنا کر ذاتی آلات کو چارج کر سکتا ہے۔اس مواد کو سولر سیلز کے ساتھ لمبائی میں 0.2 انچ اور 0.06 انچ چوڑائی میں جوڑا گیا ہے ۔ہر سولر سیل پر واٹر پروف تہہ چڑھی ہوئی ہے اور یہ آپس میں مضبوط اور لچکدار تاروں سے جڑے ہوئے ہیں۔
دنیا کا سب سے بڑا ’’روبوٹ بیل‘ ‘
چینی انجینئروں نے اس سال دنیا کا سب سے بڑا چوپایہ روبوٹ تیار کیا ہے، جسے ’’میکا نیکل یاک ‘‘ (روبوٹ بیل ) کانام دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ روبوٹ فوجی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے جو ایسے دشوار گزار اور خطرناک علاقوں میں دشمن کی نگرانی کرسکے گا جہاں پہنچنا اور پہرہ دینا فوجیوں کے لیے جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس کی اونچائی ایک عام انسان کے مقابلے میں نصف ہے جبکہ لمبائی تقریباً انسان جتنی ہے۔ یہ چار پیروں پر آگے اور پیچھے چلنے کے علاوہ دائیں بائیں بھی گھوم سکتا ہے اور اپنا رُخ بدل سکتا ہے۔ یہ خود پر 160 کلوگرام وزنی سامان لاد کر 10 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔یعنی اس کا ایک مقصد دشوار گزار علاقوں میں فوجی سامانِ رسد پہنچانا بھی ہوگا۔ یہ مصنوعی ذہانت والے سافٹ ویئر کے علاوہ کئی طرح کے حساسیوں (سینسرز) سے بھی لیس ہے ،جبکہ بدلتے ماحول اور حالات میں لڑکھڑائے بغیر چلتے رہنے کےلیے اس میں جوڑوں کے 12 ماڈیول بھی نصب ہیں جو اس کی حرکت کو ہموار رکھتے ہیں۔
70 گنا فاصلہ طے کرنے والا برقناطیسی روبوٹ
رواں برس آسٹریا میں واقع جوہانس کیپلر یونیورسٹی کے ڈاکٹر مارٹین کیلٹن نے ڈاک ٹکٹ کی جسامت والا روبوٹ تیار کیا ہے جو برقی مقناطیسی قوت سے اپنے جسم سے 70 گنا زائد جسامت فی سیکنڈ کی رفتار سے طے کرسکتا ہے۔ یہ روبوٹ جست بھرتا، تیرتا ہے اور گھوم سکتا ہے۔ یہ جسم کے اندر ادویہ پہنچانے اور انسانی جسم میں دیگر اہم امور انجام دے سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بہت ہی تیز رفتار روبوٹ ہے، جس کی سرعت حیران کن ہے۔ یہ ربڑنما مٹیرئیل اور مقناطیسی فیلڈ کے تحت کام کرتا ہے۔لچکدار ربڑ نما مادّے سےبنایا گیا روبوٹ یو کی شکل میں دکھائی دیتا ہے۔ اس میں باریک دھاتی تار گزررہے ہیں۔ جب جب تاروں کی بجلی روبوٹ کے مقناطیسی میدان سے عمل پذیر ہوتی ہے تو روبوٹ میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بجلی فراہم کرنے والی چھوٹی سی بیٹری روبوٹ پر ہی لگائی گئی ہے۔ بعدازاں سائنس دانوں نے ایل اور یو شکل کے دو روبوٹ بنائے لیکن روبوٹ کے پائوں نہیں بن پارہے تھے تو اس کے لیے ماہرین نے فطرت کے کچھ جانوروں کو دیکھا گیا ،پھر آری کے دانتوں کی طر ح شکل ڈھالی گئی ۔اسی اختراع کی وجہ سے روبوٹ اب کاغذ، فرش اور ربڑ وغیرہ پر چل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دائرے میں گھوم سکتا ہے، پانی میں تیرتا ہے اور چھوٹی رکاوٹیں بھی عبور کرسکتا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ سامان بھی اٹھا سکتا ہے۔اور اپنے جیسے روبوٹ سے 17 گنا زائد وزن بھی برداشت کر لیتا ہے۔ اپنی مکمل بیٹری کی بدولت یہ نصف گھنٹے تک چل سکتا ہے۔ فی الحال اپنی مکمل بیٹری کی بدولت یہ نصف گھنٹے تک چل سکتا ہے۔
گھر کی صفائی کرنے والا روبوٹ
2022 ء میں ماہرین نے گھر کی صفائی کے لیے روڈمائی ای وی روبوٹ تیار کیا ہے۔ یہ صفائی کا کام نہایت خوش اسلوبی اور تیزی سے انجام دے سکتا ہے۔ اپنا کام مکمل کرنےکے بعد یہ ازخود اپنے چارجنگ خانے میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں چارج ہوتا رہتا ہے۔ ایپ کی بدولت اس کی ٹائمنگ اور کام کا انتخاب بھی کیا جاسکتا ہے۔ اپنی چھوٹی جسامت کے باوجود یہ بہت قوت سے ہوا کھینچنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو 3200 پی اے قوت تک ہوسکتی ہے۔ اسی بنا پر یہ گرد کے چھوٹے ذرّات کو بھی اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔آپ اسے ایپ سے کنٹرول ہونے والا ایک ایسا ویکیوم کلینر کہہ سکتے ہیں جو خودکار انداز میں کام کرتا ہے۔ یہ ازخود آگے بڑھتا ہے اور اپنی ڈیوٹی انجام دیتا رہتا ہے۔ دوسرا اس کے اندر گردوغبار سے بھرا بیگ ہے جسے یہ ازخود خالی کرتا ہے۔اگر آپ اس سے پونچھا لگوائیں گے تو یہ فرش کو گیلا کرکے اسے فوری طور پر خشک بھی کرسکتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ تین طرح سے صفائی کرتا ہے یعنی ایک ہی نظام میں ویکیوم، پونچھا اور جھاڑولگانے کا کام بھی کرسکتا ہے۔ اگر آپ کو صوفے کے نیچے گھس کر گیلا کپڑا پھیرنے یا جھاڑو لگانے میں کسی مشکل کا سامنا ہے تو یہ روبوٹ اندر گھس کر یہ کام انجام دے سکتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہےکہ اسے گوگل اور ایلکسا کے وائس کنٹرول سے بھی ہدایت دی جاسکتی ہیں۔ اس کا اندرونی نظام 60 روز کی گرد اپنے اندر رکھ سکتا ہے۔ll