عمران خان اور نواز شریف: دونوں کی وہ مماثلت جو مٹ نہیں سکتی!

0

سیاسی بلندی کی انتہاؤں کو چھونے والے ان دونوں سیاستدانوں کی سیاست کا آغاز پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے مرہون منت قرار دیا جاتا ہے اور حالیہ دنوں کے واقعات کے بعد نواز شریف کی طرح عمران خان کو اقتدار کے ایوانوں میں رہتے ہوئے پیش آنے والی مبینہ مشکلات کی ذمہ دار بھی بالآخر ملکی اسٹیبلشمنٹ ہی کہلوائے گئی۔
عمران حکومت کی تبدیلی سے چند دن پہلے ہی سیاسی تجزیہ کار بے چینی سے منتظر تھے کہ اسلام آباد میں جاری دو معاملات پر کیا پیشرفت ہوتی ہے۔
ایک معاملہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے سے متعلق ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر ہونے والی سماعت تھی۔
جبکہ دوسرا معاملہ یہ تھا کہ کیا فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے وزیراعظم کے ان الزامات پر کوئی وضاحت جاری ہوتی ہے یا نہیں جن میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی شکل میں عالمی سازش ہوئی ہے اور عمران خان کے مطابق فوجی قیادت نے ان کے اس دعوے کی تائید و توثیق کی۔
فوج کی پوزیشن کی وضاحت سے متعلق باقاعدہ بیان تو جاری نہیں ہوا تاہم پاکستانی نیوز چینلز پر برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کی اس خبر کا خوب چرچا رہا جس کے مطابق فوجی قیادت نے وزیراعظم کے اس مؤقف کو درست تسلیم نہیں کیا کہ اپوزیشن کسی عالمی سازش کا حصہ بنی۔
رؤئٹرز کی خبر میں خاص بات یہ تھی کہ نیوز ایجنسی نے پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس کے اعلیٰ حکام کا اپنی رپورٹ میں حوالہ دیا تھا۔
اس مرتبہ بھی ایک سینیئر فوجی افسر کا حوالہ دیا گیا جس کا کہنا تھا کہ فوجی قیادت نے وزیراعظم عمران خان کو اپنے اس مؤقف سے آگاہ کیا کہ ان کے خیال میں اپوزیشن غیر ملکی سازش میں شامل نہیں۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS