امریکہ-خلیج رشتوں پر روس-یوکرین جنگ کا اثر

0

صبیح احمد
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے معدنی تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ملک کے ’اسٹرٹیجک ریزرو‘ یعنی تیل کے محفوظ ذخائر سے آئندہ 6 ماہ تک یومیہ 10 لاکھ بیرل تیل مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک طرف جہاں صدر بائیڈن اپنے تیل کے ذخائر کو کھول رہے ہیں، وہیں دوسری جانب دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ان کے 2 اتحادیوں نے اپنے تیل کے ذخیروں کو مضبوطی سے بند کر رکھا ہے یعنی وہ اپنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کے لیے قطعاً تیار نہیں ہیں۔ یوکرین پر روس کے حملے کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے بے تحاشا اضافہ پر قدغن لگانے کی امریکی صدر کی کوششوں کے درمیان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات(یو اے ای) انہیں جھڑکنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں۔ دونوں ہی ممالک غیر متوقع طور پر امریکی صدر کی تمام کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنے سے بلا جھجھک انکار کرتے رہے ہیں۔ اس جنگ نے حالانکہ دنیا کے کئی حصوں پر اثر ڈالا ہے لیکن اس کے سبب مشرق وسطیٰ میں جو تنائو اور کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا ہے، وہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ خطہ میں امریکہ کے دونوں سب سے بڑے اتحادی ممالک اس کے ساتھ اپنے رشتے کی بنیادوں پر سنجیدگی سے سوال اٹھا رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اچھال کے درمیان وہائٹ ہائوس کو سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ اپنے رشتوں میں تعطل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بائیڈن کو اس دلدل سے باہر نکالنے اور یہاں تک کہ ان (بائیڈن) کے فون کال لینے سے سعودی عرب اور امارات کے انکار نے دونوں خلیجی ممالک اور واشنگٹن کے درمیان رشتوں کو انحطاط کی بے مثال نچلی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ ایک طرف امریکہ اور یوروپ روس کی اقتصادیات کا گلا گھونٹنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف دبئی کے لیے روسی دولت کی ترسیل میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال آگ میں گھی کا کام کر رہی ہے۔ ادھر اوباما دور کے نیوکلیائی معاہدہ میں واپسی کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے جس سے خطہ کی جیو پولیٹکس کے نئے سرے سے تعین کا ماحول بننے لگا ہے۔
بہرحال بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں گزشتہ برس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ فروری میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے قیمتوں میں اضافہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ صدر بائیڈن کے فیصلے کے تحت محفوظ ذخائر میں سے کل 18کروڑ بیرل تیل نکالا جائے گا۔ امریکہ کے اسٹرٹیجک ذخائر سے نکالے جانے والے تیل کی یہ مقدار ملک کی 50 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ ہوگی۔ بائیڈن انتظامیہ اس سے قبل بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے نمٹنے کے لیے محفوظ ذخائر میں سے 2 بار کروڑوں بیرل تیل مارکیٹ میں لا چکا ہے۔ البتہ اس اقدام سے قیمتوں میں کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔فی الحال امریکہ کے محفوظ ذخائر میں سے یومیہ کم از کم 44 لاکھ بیرل تیل نکالا جا سکتا ہے جبکہ صدارتی حکم نامہ کے بعد تیل کو مارکیٹ تک لانے میں 13 دن لگ سکتے ہیں۔ امریکہ میں ٹیکساس اور لوئسیانا کے ساحلوں میں تقریباً 60 کروڑ بیرل تیل کے ذخائر محفوظ ہیں۔ امریکہ نے 1973 کے تیل کے بحران کے بعد ’اسٹرٹیجک پٹرولیم ریزرو‘ قائم کیا تھا تاکہ قدرتی آفات یا قومی سلامتی سے متعلق مسائل کی صورت میں تیل کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روس خام تیل برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جبکہ قدرتی گیس برآمد کرنے کے حوالے سے اس کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ملک کے طور پر ہوتا ہے۔
چند روز قبل امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ میں ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ سعودی عرب چین سے تیل کی فروخت کی ادائیگی ’یوآن‘ میں لینے پر غور کر رہا ہے۔ حالانکہ چینی کرنسی ’یوآن‘ میں ادائیگی سے متعلق سعودی عرب نے ابھی تک سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ افواہیں بھی زور پکڑنے لگی ہیں کہ کہیں یہ ’پٹرو ڈالر‘ کے دور کے خاتمہ کا آغاز تو نہیں ہے؟ ’پٹرو ڈالر‘ کی اصطلاح 70 کی دہائی میں وضع ہوئی اور اس کے ساتھ ہی دنیا کے کاروبار میں بین الاقوامی لین دین کے لیے ترجیحی کرنسی کے طور پر ڈالر کی پوزیشن مستحکم ہوتی چلی گئی۔ تیل کے عالمی بحران کے کچھ عرصہ بعد 1974 میں سعودی عرب کی حکومت نے اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت یہ طے پایا تھا کہ سعودی عرب کی تیل کی برآمدات ڈالر میں ہوں گی۔ اس معاہدہ کے تحت سعودی عرب نے اپنی رقم امریکی ٹریژری بانڈز میں لگائی۔ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان یہ معاہدہ دور رس اثرات کا حامل تھا۔ کئی ممالک سعودی عرب کے نقش قدم پر چل پڑے اور پوری دنیا میں تیل کی قیمت ڈالر میں طے ہونے لگی۔
چین اس وقت روزانہ ایک کروڑ بیرل خام تیل درآمد کرتا ہے۔ اس میں سے 17 لاکھ بیرل سے زائد تیل سعودی عرب سے درآمد کیا جاتا ہے۔ یہ چین کی تیل کی درآمدات کا تقریباً 17 فیصد ہے۔ یہ سعودی عرب کی تیل کی کل برآمدات کا 26 فیصد ہے۔ چین روس سے بھی روزانہ 15 لاکھ بیرل تیل درآمد کرتا ہے۔ اس وقت چین دنیا بھر میں توانائی کا ایک بڑا صارف بن چکا ہے۔ اس حقیقت نے تیل کی عالمی منڈی کا ڈھانچہ ہی بدل دیا ہے۔ اب تیل کی منڈی میں صرف چین ہی بڑے گاہک کے طور پر نہیں ابھرا بلکہ ایشیائی ممالک جیسے ہندوستان، جاپان اور جنوبی کوریا بھی خام تیل کے بڑے گاہک بن کر ابھرے ہیں۔ سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کا 77 فیصد ایشیائی منڈیوں میں جاتا ہے اور صرف 10 فیصد یوروپ جاتا ہے۔ امریکہ میں روزانہ صرف 15 لاکھ بیرل تیل جاتا ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر سعودی عرب، روس اور تیل برآمد کرنے والے دیگر ممالک اب چین اور دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔ جہاں تک ڈالر کے بجائے دوسری کرنسی استعمال کرنے کا سوال ہے،یہ بحث 50 سال سے زیادہ پرانی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں چینی کرنسی ’یوآن‘ میں خریداری کی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔ دراصل یہ بات اب کھل کر سامنے آ چکی ہے اور اس سے سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سعودی عرب سے خریدے گئے تیل کی ادائیگی ’یوآن‘ میں کی جائے تو یہ نظام سعودی عرب اور چین دونوں کے لیے انشورنس پالیسی جیسا ہو گا۔ اگر مستقبل میں کسی پابندی کی وجہ سے ڈالر میں تیل کے سودوں پر پابندی لگتی ہے تو ’یوآن‘ بہترین متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔
حالانکہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ سے سعودی عرب کو فائدہ پہنچ رہا ہے لیکن اس کے باوجود مملکت کے ولی عہد کے لیے مسائل بدستورموجود ہیں۔ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے دوران ملازمتوں کے مواقع تلاش کرنا ہوں یا یمن میں شروع کی گئی طویل جنگ کو ختم کرنے کیلئے راہوں کی تلاش۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کے والد شاہ سلمان کو اب اس بات کا تعین کرنا ہے کہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے دوران مملکت کا کردار کیا ہوگا۔ وہ امریکہ کے ساتھ مشکلات کے شکار تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا یا پھر اس کا جھکائو روس کی طرف ہو جائے گا۔
[email protected]