راجستھان میں دھماکے سے زخمی ہوئی گائے کی پرانی تصاویر کو ہماچل پردیش کے حالیہ واقعے کی بتا کر کیا گیا شیئر

0

چند روز قبل کیرالہ میں ایک حاملہ ہاتھنی کے دھماکا خیز مواد سے بھرا پھل کھانے سے ہلاکت کے واقعے پر لوگوں نے سوشل میڈیا پر غصے اور ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا میں بہت سی افواہیں پھیلنا شروع ہوگئیں۔ اس واقعے کے کچھ دن بعد ہماچل پردیش میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس میں حاملہ گائے کے بارود سے بھرے آٹے کے بنے گولے کھانے سے اس کی موت ہو گئی۔ اس حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک گائے کی کچھ تصاویر شیئر ہونا شروع ہو گئی۔
جون 6 کو سابق صحافی اور سماج وادی پارٹی کی ممبر پریتی چوبئے نے ٹویٹر پر دو تصاویر ایک پیغام کے ساتھ شیئر کی پیغام میں لکھا "انتہائی قابل مذمت ، گھناؤنا جرم۔ لوگوں (جنہوں نے یہ کیا) کو سزا دی جائے گی ، وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے گائے کی نگرانی کا حلف لیا تھا۔ جو ابھی بھی کیرالہ کے واقعے پر چیخ رہے ہیں۔ ہماچل پردیش کے بلاسپور،جو ایک مقدس مقام سمجھا جاتا ہے، میں ایک حاملہ گائے کو دھماکہ خیز مواد کھلایا گیا،  گائے بے دردی سے زخمی ہو گئی”۔ اس ٹویٹ کو 400 سے زیادہ  لوگوں نے ری ٹویٹ کیا۔
فیس بک پیج ‘@ ہندوآرمی چیف’ نے ایسی ہی داستان کے ساتھ تصاویر شیئر کیں۔ پوسٹ کو 300 سے زیادہ بار شیئر کیا جا چکا ہے۔
جون7 کو ’تمل ایکسپریس نیوز‘ نے بھی انہی تصاویر کے ساتھ واقعے پر ایک مضمون شائع کیا۔ بنگالی ویب سائٹ ‘پراتی فلک’ نے بھی اپنے مضمون میں تصاویر شیئر کیں۔
یہ تصاویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہیں۔
فیکٹ چیک:
گوگل پر ریورس امیج سرچ کرنے پر،  فیس بک پیج 'بابا منگیپا گوشالا این اسپتال توشام' کا 3 جولائی ، 2015 کا ایک پوسٹ دیکھا گیا۔ پوسٹ میں انہیں تصاویر کو راجستھان کی رائے پور تحصیل کے لیلامبہ گاؤں کا بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فیس بک پیج 'سیو کووز لائف ورنداون'  پر  28جون 2015 کو اسی طرح کا ایک پوسٹ شیئر کیا گیا تھا۔ 
جون 27،  2015 کو ہندی پتریکا میگزین نے ایک رپورٹ شائع کی تھی، رپورٹ کے مطابق رائے پور سے کچھ دوری پر لیلامبہ گاوں میں ایک گائے چر رہی تھی اسی دوران ایک دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے اس کا پورا جبڑا زخمی ہو گیا۔ اس کے بعد دیہاتیوں نے ہنگامہ شروع کیا۔ اس کے فورا بعد ہی پولیس موقع پر پہنچی ، مشتعل مقامی لوگوں سے بات کی اور کوڑے میں موجود دھماکہ خیز مواد کی تلاش شروع کردی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس واقعے پر گاؤں کے لوگوں نے معاملے کی تحقیقات کی تھی لیکن اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ اس معاملے کا جائزہ لیتے کے لئے مقامی تھانہ اسٹیشن کے انچارج نے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اس واقعے میں تحقیقات یا ملزم سے متعلق کوئی خبر نہیں ملی۔
نتیجہ:
ہماچل پردیش میں حال ہی میں گائے کے زخمی ہونے کی جو تین تصاویر وائرل ہو رہی ہیں وہ در حقیقت پرانی اور اس معاملے سے منسلک نہیں ہیں۔ یہ تصاویر سن 2015 میں راجستھان کے ضلع پالی کے ایک گاؤں میں ہوئے ایک دھماکے میں زخمی ہوئی گائے کی تھیں۔
 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here