حقوق انسانی کے علمبرداروں کو سیاسی تشد داوردہشت گردی کی مذمت کرنی چاہئے

    0
    image:thehindu

    نئی دہلی، (یو این آئی) : قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) ارون کمار مشرا نے کہا کہ سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو سیاسی تشدد اور دہشت گردی کی شدید مذمت کرنی چاہیے کیونکہ اس معاملے میں بے حسی سے بنیاد پرستی پیدا ہوگی۔ اور تاریخ ہمیں اس کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کی 28 ویں سالگرہ کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مشرا نے کہا کہ انسان ہی انسانیت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ 20 ویں صدی میں دنیا میں سیاسی تشدد کے نتیجے میں تقریبا 12 کروڑ افراد ہلاک ہوئے ۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ملک اور بیرون ملک میں سیاسی تشدد آج بھی ختم نہیں ہوا۔ معصوم لوگوں کے قاتلوں کو قابل فخر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایسے دہشت گردوں کو مجاہدین آزادی کہا جانا ناانصافی ہے ۔ سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو سیاسی تشدد اور دہشت گردی کی شدید مذمت کرنی چاہیے ۔اس حوالے سے بے حسی بنیاد پرستی کو جنم دے گی اور تاریخ ہمیں اس کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ وہ وقت آگیا ہے ، جب ہمیں اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑے گا، کم از کم ہمیں اس تشدد کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔جسٹس مشرا نے کہا کہ ہم اپنی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کی یاد میں ‘امرت مہوتسو’ منا رہے ہیں۔ آج ہندوستان عالمی سطح پر ایک طاقت بن کر ابھرا ہے اور اسے ایک نئی قوت کے طور پر شناخت ملی ہے ، جس کا کریڈٹ ہندوستان کے شہریوں، ملک کے آئینی نظام اور ملک کی قیادت کو جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ میں سرفہرست ہے ۔ ہمارے ملک میں عوامی فلاح و بہبود سے متعلق کئی اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں، جن سے انسانی زندگی اور اقدار کے تحفظ کو ایک نئی جہت ملی ہے ۔ ہندوستان میں انسانی حقوق کمیشن 28 سالوں سے کام کر رہا ہے ، جبکہ متعدد دوسرے سپر پاور ممالک میں اس طرح کے ادارے قائم بھی نہیں ہوئے۔جسٹس مشرا نے کہا کہ دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ ہندوستان میں رہتا ہے ، بلاشبہ اتنے بڑے جمہوری نظام کو آسانی سے چلانا بہت مشکل کام ہے ۔ اس کے باوجود ہمارا جمہوری نظام ہر مسئلے کو پرامن اور منصفانہ طریقے سے حل کرتا ہے ۔ انسانی وقار کی اقدار اور حقوق کا تصور ویدک ادب، ہندوستانی فلسفہ زندگی اور ثقافت میں موجود ہے ۔ ہم عورتوں کو ‘شکتی’ کا اوتار سمجھتے ہیں، ‘درگا پوجا’ اس کا ثبوت ہے ۔ ہماری ثقافت انسانی زندگی کے لیے اہم ‘پراکرتی’ کے تحفظ کے تئیں حساس ہے ۔ اس نے فطرت کی مختلف اقسام جیسے زندگی دینے والے دریاؤں کو ماں، جانوروں اور پودوں، یہاں تک کہ ‘چاند’ کو بھی رشتے میں باندھا ہے ۔ ہمارے ملک میں تمام مذاہب کی یکجہتی ہے ۔ مندر، مسجد، گرجا گھر بنانے کی آزادی ہے ، جبکہ بہت سے دوسرے ممالک میں ایسی آزادی فراہم نہیں کی جاتی۔
    انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کو پریس، میڈیا اور سائبر اسپیس کی ‘آزادی’ دی گئی ہے جو کہ آئینی اور انسانی ذمہ داریوں کی تکمیل سے مشروط ہے ۔ کسی کو آزادی نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو یہ آزادی حاصل ہونی چاہیے کہ وہ جمہوریت کا بنیادی ستون شمار ہونے والی عدالت کے وقار کو برے سلوک سے تباہ کرے ۔ ہندوستان پر بیرونی طاقتوں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگانا عام بات بن گئی ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ ‘ثقافت’ اور مروجہ ‘زبانوں’ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی کوششوں کے خلاف سخت مزاحمت کی بھی ضرورت ہے ۔کمیشن کی طرف سے گڈ گورننس میں تعاون فراہم کیا جاتاہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ عدلیہ کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کرتا ہے ۔

    آپ کے تاثرات
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0
    +1
    0

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here