کالجیم سسٹم پر ٹکرائو

0

ججوں کی تقرری کیلئے موجودہ کالجیم سسٹم پر مرکزی حکومت اورسپریم کورٹ کے درمیان ٹکرائو حل ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے۔کیونکہ بیان بازی مسلسل ہورہی ہے۔ مرکزی وزیرقانون کرن رجیجواس معاملہ میں کچھ نہ کچھ بولتے رہتے ہیں ۔ادھر سپریم کورٹ کی طرف سے بھی ان کے بیانات کا جواب دیا جاتا ہے ۔سرکار تو سرکار نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھن کھڑ تک نے بھی اس معاملہ میں کچھ ایسا بیان دے دیا ، جس سے ایک الگ ہی تنازع کھڑا ہوگیا اورماہرین قانون ان کے بیان پر رائے زنی کرنے لگے۔ نائب صدر جمہوریہ نے نیشنل جوڈیشیل اپوائنٹ منٹ کمیشن ایکٹ (این جے اے سی) اوراس سے متعلقہ آئینی ترامیم کو ختم کرنے پر سوال اٹھادیا تھا۔ایسالگتا ہے کہ مرکزی وزیرقانون نے اس معاملہ میں ایک محاذ کھول دیا ہے اوروہ مسلسل کچھ نہ کچھ ایسابولتے ہیں ، جس سے ایک نئی بحث شروع ہوجاتی ہے ۔ انہوں نے ایک بارتو ججوں کی تقرری کیلئے کالجیم سسٹم کو ہندوستانی آئین کیلئے غیرملکی بتادیاتھا۔گزشتہ دنوں انہوں نے ایک خط لکھ کرحکومت کے نمائندے کو کالجیم میں شامل کرنے کا سب سے بڑا مطالبہ کرکے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی تھی ۔اب انہوں نے دہلی ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج آرایس سوڈھی کا انٹرویو شیئر کرکے کالجیم سسٹم پر طنز کیاہے اور کہاہے کہ یہ ایک جج کی آواز ہے۔ اس مسئلے پر زیادہ تر لوگوں کے یکساں خیالات ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو آئین کی دفعات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ٹوئٹ میں وزیر قانون کایہ بھی کہناہے کہ ہندوستانی جمہوریت کا اصل حسن اس کی کامیابی ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کے ذریعہ حکومت کرتے ہیں۔ منتخب نمائندے عوام کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں اور قانون بناتے ہیں۔ ہماری عدلیہ آزاد ہے اور ہمارا آئین سپریم ہے۔شیئر کئے گئے انٹرویو میں جسٹس سوڈھی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو قانون بنانے کااختیار ہے۔ سپریم کورٹ قانون سازی نہیں کر سکتا کیونکہ اسے ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا آپ آئین میں ترمیم کر سکتے ہیں؟ آئین میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کرے گی لیکن اس معاملے پر میرے خیال میں سپریم کورٹ نے آئین کو ہائی جیک کر لیا ہے۔
جسٹس سوڈھی نے بہت بڑی بات کہی ہے اوروزیرقانون نے اسے شیئر کرکے ایک طرح سے ان کی حمایت کی ہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کالجیم سسٹم کے بارے میں ہر دور میں صرف سرکار اورسپریم کورٹ کے درمیان اختلافات نہیں رہے ۔بلکہ ماہرین قانون کی آراء بھی الگ الگ رہیں ۔کچھ حمایت میں رہے تو کچھ مخالفت میں۔یہی حال سیاسی پارٹیوں کا ہے ۔ 1992 میں وجود میں آئے کالجیم سسٹم کوایک بار سرکار این جے اے سی اوردیگر آئینی ترامیم لاکر ختم کرنے کی کوشش کرچکی ہے لیکن سپریم کور ٹ نے وہ سب ختم کرکے سرکار کی کوشش ناکام بناچکاہے ۔ایسالگتا ہے کہ کالجیم سسٹم کو جہاں سپریم کورٹ پوری طرح اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے ، وہیں یہ سرکار کی آنکھوں میں چبھتاہے ۔سرکار یا تو کالجیم سسٹم کو پوری طرح ختم کردینا چاہتی ہے یا اس میں اپنا نمائندہ شامل کرکے اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کسی بھی حال میں اس میں سرکاری مداخلت نہیںچاہتی ہے ۔اس طرح سپریم کورٹ اورسرکار کے درمیان یہ تنازع طول پکڑتا جارہا ہے ۔نتیجہ کیا نکلے گا؟ اور اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ؟کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
بات شروع ہوئی تھی عدالتوں میں مقدمات کے انبار سے اورپہنچ گئی کالجیم سسٹم پر۔اب مقدمات کے انبار پر بات نہیں ہوتی ۔صرف کالجیم سسٹم پر بات ہوتی ہے۔ دراصل مقدمات کو نمٹانے کیلئے جب ججوں کی تقرری شروع ہوئی اورفائلوں کی منظوری میں تاخیرہونے لگی تو سپریم کورٹ نے اس کیلئے حکومت پر الزام لگاناشروع کیا ۔ اسی تناظر میںسرکار نے کالجیم سسٹم پر سوال اٹھادیا۔ تب سے یہ بحث چل پڑی اورآئے دن نئی نئی باتیں سننے اورپڑھنے کو ملتی ہے ۔ بنیادی مسئلہ مقدمات کا انباراور لوگوں کو انصاف ملنے میں تاخیر آج بھی اپنی جگہ پر ہے ۔ حالانکہ اس دوران مقدمات کو نمٹانے کی رفتار کچھ حدتک بڑھی ہے۔لیکن ابھی بھی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹوں میں ججوں کی کمی کی وجہ سے وہ رفتار نہیں آرہی ہے ، جس کی ضرورت ہے اور وقت کا تقاضا ہے ۔ججوں کی تقرری سرکار اورسپریم کورٹ کے درمیان ایک مسئلہ بن گئی ہے ۔
[email protected]