کالج میں حجاب کا مسئلہ ہوا گرم، این ایچ آر سی حرکت میں

0

حکومت کرناٹک کو نوٹس، 4ہفتے کے اندر جواب طلب،طالبات کا حجاب ترک کرنے اور آن لائن کلاس کرنے سے انکار
بنگلور (ایس این بی) : کرناٹک کے اڈپی میں ایک سرکاری اسکول میں طالبات کے حجاب کا تنازع ختم ہونے کا نام نہیں لے رہاہے۔ اس معاملے میں جہاں حکومت کرناٹک نے ایک اسپرٹ کمیٹی تشکیل دی ہے، وہیں قومی انسانی حقوق کمیشن(این ایچ آر سی) نے اس معاملے میں ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔دوسری طرف طالبات نے بھی سخت موقف اختیار کیاہے اور صاف صاف کہا ہے کہ آف لائن کلاس میں وہ حجاب ترک نہیں کریں گی اور نہ ہی آن لائن کلاس کے متبادل کو قبول کریں گی۔ نئی پیش رفت کے تحت این ایچ آر سی نے جمعرات کے دن کرناٹک حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔یہ نوٹس اڈپی کی سرکاری کالج کی 8 مسلم طالبات کو حجاب پہننے کے سبب کلاس میں داخلہ کی اجازت نہ دیئے جانے سے متعلق ہے۔نوٹس میں کہاگیا ہے کہ اس معاملے کے حقائق بہت ہی پریشان کن ہیں۔موصول کردہ شکایت میں جو الزامات لگائے گئے ہیں، وہ تعلیم کے حقوق سے متعلق سنگین نوعیت کے ہیں۔اس لئے اس معاملے میں متاثرہ طالبات کے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہوئی ہے۔یہ نوٹس اڈپی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، محکمہ تعلیمات کے پرنسپل سکریٹری کو بھیجی گئی ہے، اور 4 ہفتوں کے اندر جواب طلب کیاگیا ہے۔
دریں اثنا اسکولوں،کالجوں میں یکساں لباس (یونیفارم کوڈ)اور حجاب کے مسئلے پر فیصلہ کرنے کیلئے ریاستی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی ہے، اس کے باوجود اڈپی کی گورنمنٹ کالج کی چند مسلم طالبات نے حکومت کی رپورٹ آنے تک حجاب کے بغیر یونیفارم پہن کر شرکت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وزیر تعلیم بی سی ناگیش اور مقامی بی جے پی رکن اسمبلی رگھوبھٹ نے جمعرات کے دن کہاکہ یہ ایک ’بین الاقوامی‘ سازش ہے۔ طالبات نے حجاب ترک کرکے کلاسوں میں شرکت کے علاوہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی رپورٹ آنے تک آن لائن کلاسوں میں شرکت سے بھی پوری طرح انکار کردیا ہے، حالانکہ مقامی بی جے پی رکن اسمبلی رگھوپتی بھٹ نے اس طرح کا مشورہ دیاتھا۔ سرکاری حکم نامہ میں طالبات سے کہاگیاتھا کہ جب تک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی رپورٹ نہیں آجاتی، وہ عام یونیفارم پہن کر کلاس آتی رہیں۔ وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم بی سی ناگیش نے کہاکہ ’اس طرح کے مسائل کیوں ملک کے صرف چند حصوں میں ابھرتے ہیں،اس کے پیچھے ملک مخالف قوتیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور یونیفارم کے بارے میں فیصلہ کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی ہے۔
اس وقت ریاست میں سرکاری اورپرائیویٹ تعلیمی ادارے یونیفارم کے تعلق سے ضابطوں میں تبدیلی نہیں لاسکتے، تعلیمی اداروں کو اختیار دیاگیا ہے کہ وہ سابقہ ضابطوں کے تحت یونیفارم برقرار رکھیں، رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد اس معاملے پر وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی سے بات چیت ہوگی، اس وقت تک جیساپہلے تھا ویسا ہی معاملہ برقرار رکھاجائے۔
اڈپی کے بی جے پی رکن اسمبلی رگھوپتی بھٹ نے کہاکہ یہ معاملہ دوستانہ طور پر حل کیا جارہا ہے۔اگر اس معاملے کو کالج کے طلبا، والدین اور اڈپی کے مسلمانوں پر چھوڑ دیاگیاتو ایک گھنٹے کے اندر حل ہوسکتا ہے،یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ تو باہر والے پیدا کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یونیفارم کا مسئلہ اچانک اس وقت اٹھا جب سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا(ایس ڈی پی آئی)نے کاپو علاقہ کے بلدیاتی انتخابات میں3سیٹیں جیتی ہیں، یہ ایک بڑی سازش ہے۔ ایک احتجاجی طالبہ اے ایچ الماس سے جب آن لائن کلاس میں شرکت کے بارے میں پوچھا گیاتو اس نے کہاکہ وہ سائنس کی طالبہ ہے، اس لئے لیب کلاس میں حاضری ضروری ہے۔اس طرح آن لائن وہ کیسے پڑھائی کرسکتی ہے۔جب یہ کہاگیا کہ وہ ایسی کالج کو چلی جائے، جہاں حجاب کی اجازت ہے، تو اس نے کہاکہ وہ کیوں دوسری کالج کو جائے، جبکہ وہ ایک سرکاری کالج میں پڑھ رہی ہے۔ الماس اور دیگر احتجاجی طالبات نے کہاکہ ’ہمیں کلاس روم کے باہر بیٹھ کر لکچر سننے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے‘جب ہم اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر اسباق کے بارے میں بات کرتے ہیں اورنوٹس حاصل کرتے ہیں تو فوراً ان طالبات کو اساتذہ کے کمروں میں طلب کیا جاتا ہے اور ان کو وارننگ دی جاتی ہے کہ ہماری مدد نہ کریں۔ہم کو اس طرح پریشان کیا جارہاہے۔اگر حجاب پہننے کی اجازت دی جائے تووہ طالبات بھی حجاب پہننا شروع کردیں گی، جواب تک حجاب نہیں پہن رہی ہیں۔سرکاری افسران کیلئے یہ بات نہایت ہی شرمناک ہے کہ وہ ہم کوکلاسوں میں حاضری کی اجازت نہیں دے رہے ہیں اور ہمارے بنیادی حقوق کی بھی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔