حجاب مذہبی سوال ہے ہی نہیں

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

حجاب کے تعلق سے آج کل سپریم کورٹ میں زبردست بحث چل رہی ہے۔ حجاب پر جن دو ججوں نے اپنی رائے ظاہر کی ہے، انہوں نے ایک دوسرے کے برعکس باتیں کہی ہیں۔ اب اس معاملہ پر کوئی بڑی ججوں کی بنچ غور کرے گی۔ ایک جج نے حجاب کے حق میں فیصلہ سنایا ہے اور دوسرے نے حجاب کے خلاف سخت دلائل دیے ہیں۔ حجاب کو جائز قرار دینے والا جج کوئی مسلمان نہیں ہے۔ وہ بھی ہندو ہی ہے۔ حجاب کے معاملے پر ہندوستان کی ہندو اور مسلمان تنظیموں نے لاٹھیاں بجانا شروع کردی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کررہی ہیں۔ دراصل یہ تنازع شروع ہوا کرناٹک سے! اسی سال فروری میں کرناٹک کے کچھ اسکولوں نے اپنی طالبات پر حجاب پہن کر کلاس میں بیٹھنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ پورا معاملہ وہاں کے ہائی کورٹ میں گیا۔ اس نے فیصلہ دے دیا کہ اسکولوں کے ذریعہ تیار کردہ ڈریس کوڈ پر عمل سبھی طلبا و طالبات کو کرنا ہوگا لیکن میری درخواست ہے کہ ہمارے لیڈر، ہمارے جج صاحبان اور اسکولوں کے افسران حجاب کے معاملے میں بالکل غلط راستے پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے پورے معاملہ کو مذہبی بنادیا ہے۔ یہ معاملہ ایران یا سعودی عرب میں تو مذہبی ہوسکتا ہے لیکن ہندوستان میں تو یہ خالص شناخت کا معاملہ ہے۔ حجاب اس کو پہننے والی خاتون کی شناخت کو چھپالیتا ہے۔ بس، اسی لیے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ حجاب اور برقع کی آڑ میں دہشت گرد، اسمگلر، ڈاکو، جرائم پیشہ لوگ بھی اپنا کاروبار چلاتے ہیں۔ اگر مسلم خواتین پر حجاب لازم ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ مسلمان مردوں کے لیے کیوں نہیں ہے؟ کیا یہ صنفی مساوات کا دور نہیں ہے کیا؟ اگر صرف مذہبی ہونے کی وجہ سے حجاب پر پابندی عائد ہونی چاہیے تو ہندو خواتین کے ٹیکے، سندور، چوڑیوں، سکھوں کے بال اور صافا اور عیسائیوںکے کراس پر پابندی کیوں نہیں ہونی چاہیے؟ مجھے تو حیرانی یہ ہے کہ سیاستداں اور افسران حقیقی مسائل پر بحث کرنے کے بجائے فرضی ایشوز پر بحثیں چلا رہے ہیں لیکن ہمارے جج صاحبان بھی ان ہی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ وہ تو خواندہ، تجربہ کار اور غیرجانبدار ہوتے ہیں۔ وہ بھی صحیح مسائل پر بحث کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ میری رائے میں دونوں ججوں اور اب ججوں کی بڑی بنچ کو اس ایشو پر بحث کو مرکوز کرنا چاہیے کہ سب کو اپنے ادارے کے ڈریس کوڈ پر عمل تو کرنا ہی ہوگا لیکن کسی کو بھی اپنی پہچان چھپانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں بھی حجاب لازمی نہیں ہے۔ ایران میں تو حجاب کے خلاف کھلی بغاوت ہورہی ہے۔ ہماری مسلمان طالبات کو حجاب کی وجہ سے تعلیم سے کیوں محروم رکھا جائے؟ کیا مسلم طالبات صرف مدارس میں ہی پڑھیں گی؟ اگر اس معاملے کو آپ صرف مذہبی چشمے سے دیکھیں گے تو ملک کا بڑا نقصان ہوجائے گا۔
(مضمون نگار ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]