حـجـاب مـعـامـلـہ: سپریم کورٹ کے ججوں اور وکلا کے مابین عجیب نوعیت کے سوالات

0

خواجہ عبدالمنتقم

سپریم کورٹ میں زیر سماعت حجا ب والے معاملے میں عدلیہ کے روبرو،کچھ اس کی طرف سے تو کچھ وکلا کی کی جانب سے عجیب نوعیت کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔کبھی نماز کی بات تو کبھی قران کی، تو کبھی حجاب کے مذہبی عمل ہونے یا نہ ہونے کی، جن سے اس معاملے کے فیصلہ میں اور بھی تاخیر ہو سکتی ہے اور وہ بھی خاص کر اس صورت میں اگر یہ معاملہ آئینی بینچ کو سونپ دیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی تعبیر کا معاملہ جب سپریم کورٹ کے ججز کے سامنے آیا تو بینچ میں شامل ایک جج نے کہاکہ ’ مجھے یہ نکتہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ آپ تو اسے ایک لازمی مذہبی عمل کے طور پر دعویٰ کرتے ہوئے ہائی کورٹ گئے تھے‘۔حجاب کے حامی وکلا کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر و تعبیر عدالتوں کا کام نہیں۔قرآن کریم ایک عام کتاب نہیں بلکہ یہ کلام الٰہی ہے اور اس کی صحیح تعبیر کے بارے میں عدالتیں وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ قرآن کی تعبیر ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کے لیے پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔ جہاں تک قرآن کریم میں شامل آیات کی صحیح تعبیر کا سوال ہے تو پریوی کونسل نے آغا محمود جعفر بنام کلثوم بی بی (آئی ایل آر 25کلکتہ 9 (پی سی)) والے معاملے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ اگر عدالت کے روبرو قرآنی آیات کی تعبیر کا مسئلہ آتا ہے تو اس کا یہ فرض ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ جانے مانے معتبر مسلم علما نے ان کی کیا تعبیر کی ہے اور اپنی جانب سے کوئی ایسا مطلب نکالنے کی کوشش نہ کرے جو ان مسلم مبصرین کی تعبیر سے میل نہ کھاتا ہو۔ بہ الفاظ دیگر عدالتوں کے لیے یہ لازم ہے کہ علما نے قرآن کریم کی مختلف آیات کی جو تعبیر کی ہے اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ اس کے علاوہ آمود گیری بنام مسماۃ بیغا (اے آئی آر 1955 جموں وکشمیر1) میں بھی یہ بات کہی گئی ہے کہ عدالتوں کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ مسلمہ اتھارٹیز کے ذریعہ جو تعبیر کی گئی ہے اس کو ملکی قانون کے قریب لانے کی کوشش کریں۔ البتہ محمد اسماعیل بنام عبدالرشید (اے آئی آر 1956الٰہ آباد 1(فل بینچ) والے معاملے میں یہ فیصلہ دیا گیا تھا کہ قرآن کی جو قدیم تعبیرات ہیں انہیں اس بنیاد پرنکارا نہیں جاسکتا کہ وہ غیر قانونی ہیں یا صحیح نہیں ہیںبشرطیکہ ان سے نصفت، انصاف اور نیک اندیشی کی نفی نہ ہوتی ہو۔ علاوہ ازیں عدالت سے وکلا کی جانب سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا با حجاب طالبات نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے؟اور یہ کہ باحجاب خواتین کو تضحیک کی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
جب بات اپنی پسند کا لباس پہننے کی آئی تو جج صاحب نے پوچھا کیا Right to dressمیں Right to undressبھی شامل ہے۔اس طرح کے سوالات و جوابات کے سبب یہ معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ اگر عدالت اس بات کو نہیں مانتی کہ حجاب پہننا ایک مذہبی عمل ہے اور اپنی پسند کا لباس پہننا طالبات کا بنیادی حق ہے تو عدالت کو یہ بات تو ماننی ہی پڑے گی کہ مسلم خواتین ایک قدیم عرصہ سے حجاب پہن رہی ہیں اور اس نے ایک رواج و روایت کی شکل اختیار کر لی ہے۔اگر پردہ اور سرڈھانکنا احترام کی نشانی نہیں تو ہم سب مندر، مسجد اورگرودوارے میں اپنا سرڈھانک کر کیوں جاتے ہیں اور خواتین اپنے دوپٹوں سے اپنے جسم کو کیوں ڈھانکتی ہیں؟
اب رہی بات حجاب پہننے یا نہ پہننے کی تو کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی دوسرے کے لیے کوئی ڈریس کوڈ مقرر کرے۔ یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔جسٹس کے ایس پتاسوامی بنام یونین آف انڈیا(10(2017)ایس سی سی1) والے معاملہ میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ کسی کی پرائیویسی اس کابنیادی حق ہے اور وقار کو اس کی پرائیویسی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ شنکربنرجی بنام درگاپورپروجیکٹ(اے آئی آر 1988 کلکتہ 136) میں بھی یہ فیصلہ دیا گیا تھا کہ باوقار زندگی کو ہی زندگی کہا جاتا ہے نہ کہ بے وقار زندگی کو۔
جہاں تک رہی بات کسی تعلیمی ادارے میں حجاب پہننے کی تو اس معاملے کے تین پہلو ہیںیعنی قانونی، مذہبی و سماجی۔اگر کسی ادارے میں کوئی ڈریس کوڈ ہے اور اس کے قواعد و ضوابط میں یہ التزام ہے کہ طالبات ڈریس کوڈ کے علاوہ کوئی دیگرشناختی چیز نہیں پہن سکتیں اور یہ کہ اگر کسی نے اس ادارے کے ضوابط کوپڑھ کر اور سمجھ کر وہاں داخلہ لیا ہے تو بہتر یہی ہے کہ اس کوڈ کا احترام کیا جائے لیکن اگر اس ادارے میں ایک طویل عرصہ سے بچوں کو حجاب پہننے کی اجازت دی جارہی ہے اور اس پر اچانک پابندی لگائی جاتی ہے تو یہ یقینی طور پر قابل مذمت ہے۔ اس ضمن میں بار بار سکھوں کی پگڑی اور کرپان کا حوالہ دینے کا کوئی جواز نہیں۔ ان کے لیے تو آئین میں راست التزام ہے۔جہاں تک حجاب اور پردے کی بات ہے اس کی بابت ایسا نہیں ہے۔ اس کے لیے ہمیں آئین میں مذہبی آزادی سے متعلق دفعات کا سہارا لینا پڑتاہے اور ان دفعات کی تعبیر عدلیہ کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے۔جہاں تک کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کی بات ہے تو اگر ا’الف‘حجاب نہیں پہن سکتی تو ’ب‘ سے ’ے‘ تک کسی کو بھی ا س طرح کی شناختی چیز پہننے کی اجازت نہیں۔البتہ یہ حقیقت ہے کہ حجاب کے استعمال کی روایت بہت پرانی ہے۔ کرناٹک کے اتفاقی واقعہ سے یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکالا جا سکتا کہ حجاب، برقعے اور پردے پر کسی طرح کی کوئی عام پابندی عائد کی جارہی ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستان میں قانون کی حکمرانی ہے اور ہمیں اپنی عدلیہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
جہاں تک لفظ روایتاً کی تعبیر کی بات ہے تو روایت، رواج یا Customکے بارے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی کافی نظیریں موجود ہیں۔ ان کے مطابق بہ آسانی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جب کوئی کام ایک سے زیادہ طریقوں سے کیا جاسکتا ہو مگر تقریباً بلااختلاف ہمیشہ وہ کام ایک ہی خاص طریقے سے کیا جائے اور وہ بھی ایک مخصوص فرقے یا طبقے کے ذریعہ تو یہ کہا جائے گا کہ اس کام کو کچھ خاص طریقے سے کرنے کا رواج ہے۔ اگر عدالت اس رواج کوایک رواج عام اور معقول رواج تسلیم کرلیتی ہے تو اسے رواجی قانون مانا جائے گا۔ مشہور فرانسیسی ماہرقانون Cowellنے بھی اس قانونی تصور کی ان ہی الفاظ میں حمایت کی ہے۔ پریوی کونسل نے بھی ایک بہت پرانے معاملے( 1943ع الٰہ آباد ویکلی رپورٹر ص 219)میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ رواج کو جائز قرار دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ قدیم ہو، مسلسل ہو، معقول ہو، معین ہو اور غیر اخلاقی نہ ہو۔
اگر عدالت کسی رواج کوایک رواج عام اور معقول رواج تسلیم کرلیتی ہے تو وہ تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کی اجازت دے سکتی ہے۔ صرف جنبش قلم کی دیر ہے۔ حجاب سے نہ کسی جرم کا ارتکاب ہوتاہے اور نہ ہی کسی کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور نہ اس سے کسی تعلیمی و تدریسی عمل میں خلل پڑتاہے۔
(مضمون نگار آزاد صحافی، مصنف، سابق بیورکریٹ اور عالمی ادارہ برائے انسانی حقوق سوسائٹی کے تاحیات رکن ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS