ہیپاٹائٹس سی ایک’خاموش وبا‘

0

طبی ماہرین ہیپاٹائٹس سی کو ایک ’خاموش وبا‘ کہتے ہیں کیونکہ 95 فیصد متاثرین کو یہ ہی نہیں معلوم ہوتا کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں۔ اس مرض میں مبتلا کئی متاثرین غیر قانونی منشیاں کے عادی ہیں۔ عالمی سطح پر ہیپاٹاٹس سی میں مبتلا تقریباً 150 ملین افراد علاج نہیں کرواتے جس کی وجہ سے سالانہ طور پر سات لاکھ کے قریب ہلاکتیں پیش آتی ہیں۔ ہیپاٹائٹس سی جگر کے اس مرض کی پانچ اقسام میں سے سب سے خطرناک ہے اور ان میں سے وہ واحد قسم ہے جس کی کوئی ویکسین بھی دستیاب نہیں ہے۔ اس مرض کی علامات کئی برس تک سامنے نہیں آتیں لیکن جب ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوتی ہے تو علاج کروانے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور جگر کو پہنچنے والا نقصان سرطان میں بھی بدل سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض سے ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد اس لیے زیادہ ہے کیونکہ ایڈز، ٹی بی یا ملیریا جیسے دیگر امراض کی نسبت اسے پالیسی بنانے والوں سے کم توجہ اور فنڈنگ ملتی ہے۔ یہ مرض خون میں پیدا ہوتا ہے اور طبی آلات کی نامناسب جراثیم کشی سے منتقل ہوتا ہے، لیکن بیشتر کیس سوئی کے اشتراک سے پیدا ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کے ہیپاٹائٹس سی مریضوں کی تعداد میں دو تہائی منشیات استعمال کرنے والوں کی ہوتی ہے جس کی وجہ ان کی غیر محفوظ سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ ان مریضوں کی ٹیسٹنگ اتنی اہم ہو چکی ہے کہ اگر کسی ٹیسٹ کے دوران ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوتی ہے تو اینٹی وائرل دوائیوں سے 90 فیصد مریضوں کو مدد مل سکتی ہے۔ کئی ممالک اور ادارے اب اس بیماری کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے طریقوں اور تشخیص کی شرح میں بہتری لانے کے طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں۔ منگولیا میں ہیپاٹائٹس سی کی تیسری سب سے زیادہ شرح ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس سلسلے میں ایک منصوبہ شمال مشرقی انڈیا کی ایک چھوٹی ریاست منی پور میں شروع کیا گیا ہے۔ اس علاقے میں رہنے والے منشیات کے عادی 98 فیصد افراد ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہیں تاہم یہاں انھیں ایچ آئی وی کے مفت ٹیسٹ تو میسر ہیں لیکن ہیپاٹائٹس سی کے نہیں۔ اس پروگرام کے تحت ریاست بھر میں ٹیسٹنگ کے لیے ایک کمیونیٹی نیٹ ورک تیار کیا گیا ہے۔
ملک کے دیہات میں واقع کلینکس میں ’فائر‘ نامی سکریننگ کا ایک طریقہ آزمایا گیا جس سے ان لوگوں کی ٹیسٹنگ کی گئیجن کے اس مرض میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات تھے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے رشتہ دار سرطان میں مبتلا ہیں۔ اس منصوبے کا اگلا مقصد ’فائر‘ کو 21 صوبوں تک پہنچانا تھا۔ تاہم کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سکریننگ کروانے سے صورت حال بہتر نہیں ہو گی کیونکہ ہیپاٹائٹس سی کا علاج کرنے والے ادویات بہت مہنگی ہیں۔ کچھ ممالک نے ان ادویات کی عام اقسام متعارف کروائی ہیں جس سے قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس کے خلاف لڑائی کے فیصلے حکمران کے ہاتھوں میں ہیں، جنھیں سکریننگ اور علاچ کے طریقۂ کار کو سستا کرنا پڑے گا۔
ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں میں تقریباً 75فیصد کوئی خاص علامت نہیں پائی جاتی۔ اسی سبب اس کی تشخیص کے لیے خون کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔ لیکن اس مرض میں پائی جانے والی عام علامات میں بھوک کم لگنا، دن بدن وزن کم ہونا، دل متلانا، سر میں ہلکا دردہونا، پیشاب کی مقدارکا کم ہونا، جگر کا سکڑنا، پیٹ میں پانی بھرنا،جسم کے اندرونی و بیرونی اعضاء سے خون کا بہاؤ، اکثر بخار کا رہنا، منہ کا ذائقہ خراب ہونا وغیرہ شامل ہیں۔
ہیپاٹائٹس سی کے معاملے میں پاکستان ہندوستان اور چین بھی سے بھی آگے نکل کر سرفہرست ملکوں میں پہلے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں ہر 10 میں سے ایک فرد ہیپاٹائٹس کی کسی نہ کسی کیفیت میں گرفتار ہے۔ ڈاکٹروں اور عوامی صحت کے ماہرین نے زور دے کر کہا ہے کہ اس ضمن میں پی سی آر ٹیسٹ کو فروغ دیا جائے تاکہ ہیپاٹائٹس سی کی بروقت شناخت کی جاسکے۔ تاہم یہ طے ہوچکا ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کی شکار سب سے بڑی آبادی پاکستان میں موجود ہے جو ایک طبی بوجھ کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ اس طرح ملک میں جگر کے سرطان کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ گورنمنٹ نے بڑی شدومد کے ساتھ اس مرض کے خاتمے کی مہم چلائی تھی جس کے تحت 2030 تک ملک سے ہیپاٹائٹس کے تمام اقسام کا خاتمہ کرکے عوام کو اس مرض سے نجات دلانا تھی۔ اس کے باوجود مرض کی شرح بڑھ رہی ہے اور ملک میں لگ بھگ ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی کے شکار ہیں جن کی تشخیص اور علاج کی ضرورت ہے۔ سال 2020 میں ہیپاٹائٹس سی کے نئے 461,000 مریض سامنے آئے ہیں جو دنیا کے کسی بھی ملک میں نئے مریضوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ امریکہ میں سینٹرفار ڈیزیز اینالِسس (سی ڈی اے) سے وابستہ ڈاکٹر ہومی رضاوی نے یہ اعدادوشمار کراچی میں منعقدہ پاکستان سوسائٹی برائے جگر کے امراض ( پی ایس ایس ایل ڈی) کے اجلاس میں پیش کئے۔ ڈاکٹر رضاوی پولارس آبزرویٹری کے نام سے دنیا میں وائرل ہیپا ٹائٹس کے سب سے بڑے ڈٰیٹا بیس کی تدوین اور انصرام کے معاملات دیکھتے ہیں۔ تقریب سے دیگر شرکا نے ہیپاٹائٹس سی اور جگر کے سرطان کے واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔