اسرائیلی بربریت کے خلاف بے بسی

0

ریاض فردوسی
اسرائیل حماس کے مابین جنگ کا کیا نتیجہ نکلے گا وہ تو وقت پر ظاہر ہو ہی جائے گا، لیکن اس جنگ کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مسلمانوں کا مسلم ممالک کے ساتھ جو لگاؤ اور محبت ہے اس میں کمی آ جائے گی۔ظالم اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ جو جبر و تشدد کر رہا ہے اسی کے پیش نظر مسلمان یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ متحدہ طور پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کریں۔
مطالبہ تو یہاں تک تھا کہ تمام مسلم ممالک فلسطینیوں کا ساتھ دیں اور اسرائیل کے خلاف کارروائی کریں۔آخر ان کی دولت اور ہتھیار کس دن کام آئیں گے،لیکن ہماری قوم کو مایوسی ہاتھ لگی کیونکہ پورے عالم اسلام سے شدید مطالبہ کے بعد بھی مسلم ممالک نے سوائے اسرائیلی بربریت کے مذمت کے علاوہ عملی اقدام کچھ بھی نہیں کیا ۔ او آئی سی ( OIC) میٹنگیں بھی ہوئیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ صرف مغربی ممالک کو تیل کی سپلائی روک دینے کی دھمکی دی گئی، لیکن یہ ایک محض دھمکی ہی ہے کیونکہ اگر عرب ممالک تیل کی سپلائی بند کریں گے تو ان ممالک کو بھی امریکہ اور اس کے حلیفوں کی طرف سے بہت کچھ بند ہو جائے گا۔
اسرائیل کے قیام سے لیکر آج تک عرب ممالک چار بار اسرائیل سے جنگ ہار چکے ہیں۔اس لیے عرب ممالک کو نفسیاتی خوف ہے کہ اس بار بھی کہیں وہ اسرائیل سے جنگ ہار نہ جائیں،خاص کر ایسے وقت میں جب اسرائیل ایک طاقتور اور ایٹمی ملک بن چکا ہے۔بالفرض عرب ممالک اسرائیل کے خلاف جنگ میں کود جاتا ہے تو ہمیں اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ اسرائیل اکیلا میدان میں اتر ے گا، بلکہ ایسی صورت حال میں امریکہ اور اس کے حلیف ممالک اسرائیل کے پشت پر کھڑے ہو جائیں گے۔اگر عرب ممالک ’’اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے‘‘ میں کامیاب ہو بھی جائیں گے تب بھی امریکہ اور اس کے ساتھی ممالک عرب ممالک کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے، کیونکہ اسرائیل کی شکست امریکہ اپنی شکست سمجھے گا۔
حماس کو امریکہ اور دیگر یورپی ممالک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں،اب اگر عرب ممالک حماس کا ساتھ دیتے ہیں تو اس کے معنی دہشت گردی کا ساتھ دینا ہوا،اسی سوچ کی وجہ سے عرب ممالک حماس کا ساتھ دینے سے گریز کریں گے اور عرب ممالک کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ ان پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام لگے۔امریکہ کے حکام عرب ممالک کا دورہ کر رہے ہیں اور خاص کر ایران اور ترکیہ کو جنگ میں نہیں کودنے کی صلاح دے رہے ہیں۔یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ امریکہ مسلم ممالک کو جنگ میں کودنے سے روک رہا ہے اور دوسری طرف جنگ بندی بھی نہیں چاہتا اور بحیرہ روم میں اسرائیل کی مدد کے لیے جنگی جہازوں کو بھی بھیج رہا ہے۔
اس کے علاوہ ہر مسلم ملک کے اپنے اپنے مسائل بھی ہیں۔لبنان اور مصر کی اقتصادی حالت خراب ہے۔پاکستان کی معیشت اور بھی خراب ہے۔ وہاں مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں۔الیکشن اپنے وقت پر ہو جائے وہی بڑی بات ہے۔پاکستان کسی طرح دہشت پسندوں کو مدد پہنچانے والے ممالک کے زمرے میں جانے سے بچ پائے وہی بڑی بات ہے۔ایسی حالت میں وہ کوشش کرے گا کہ غیر جانبدار رہے۔ بحرین،قطر،عمان اوریمن وغیرہ ممالک کی اوقات ہی کیا ہے۔عراق اور شام تو پہلے سے برباد ہیں۔افغانستان میں ابھی چند سال پہلے ہی طالبان کی حکومت قائم ہوئی ہے۔طالبان دوحہ سمجھوتے میں امریکہ کے ساتھ وعدہ کر چکا ہے کہ اس کا ملک کسی بھی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم یا افراد کی حمایت نہیں کرے گا۔مسلم ممالک میں صرف دو ممالک ترکیہ اور ایران ہی مضبوط ہیں، لیکن ان دونوں ممالک کے حکمران صرف بول ہی رہے ہیں،کر کچھ بھی نہیں رہے ہیں۔ترکیہ کے صدر طیب اردگان جو مسلمانوں میں مقبول ہیں وہ بھی ہاتھ پر ہاتھ دھڑے بیٹھے ہیں۔ ترکیہ کے عوام بھی مظاہرہ کر رہے ہیں کہ صدر اردگان اپنی فوج اسرائیل کے خلاف کارروائی کے لیے دبائو ڈال رہی ہیں، اب دیکھیے آگے کیا کیا ہوتا ہے۔
آخر میں !
فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے 6 نومبر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مرنے اورزخمی ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اسرائیلی حملے میں غزہ کی پٹی پر33 دنوں میں30ہزار ٹن بارودی مواد گرایا گیا،جس کے نتیجے میں 22 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا اور 40 ہزار سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا آفس کے سربراہ سلامہ معروف نے بتایا ہے کہ صہیونی فوجیوں کی مسلسل بمباری کے نتیجے میں 70 ایمبولینسں تباہ، 113 صحت کے اداروں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور 18 اسپتالوں ، 70 مراکز صحت تباہ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1.5 ملین شہری اپنے گھروں سے پناہ گاہوں یا رشتہ داروں کی طرف بے گھر ہوئے، غزہ میں 53 علما شہید ہوگئے، جبکہ اسرائیلی قابض فوج نے 56 مساجد کو مکمل طور پر تباہ وبرباد کردیا ہے اور 3 گرجا گھروں کو تباہ کر دیا ہے۔اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک 39 صحافیوں کو شہید کیا گیا، جبکہ پانی اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس اور پانی کے کنوں کو پہنچنے والے نقصانات کا مکمل اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS