عمران کا اپنی پارٹی کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاری کرنے کاحکم

0

حقیقی آزاد ی کیلئے ملک بھر میں مارچ کرنے کیلئے جلدکال دینے کاعندیہ،سپریم کورٹ میں غیر ملکی مراسلے کی تحقیقات کی کھلی سماعت کرنے کا مطالبہ
اسلام آباد(ایجنسیاں) : سابق وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی مراسلے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں کھلی سماعت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اداروں نے قوم کی آزادی اور خودداری کے لیے کردار ادا نہ کیا تو ہم غلاموں جیسی ہی زندگی گزارتے رہیں گے۔ہفتہ کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آج اگر سپریم کورٹ نے اسٹینڈ نہ لیا تو کوئی بھی پاکستان کا وزیراعظم غیر ملکی مداخلت کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو اسی وقت تحقیقات کرانی چاہئیں تھیں جب ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی تھی کہ پاکستان کے خلاف غیر ملکی سازش ہوئی۔عمران خان نے دعویٰ کیا کہ جمعہ کو نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اعلامیے نے تصدیق کر دی کہ میری حکومت کے خلاف بیرونی مداخلت ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ سچ ہمیشہ سامنے آتا ہے، یہ واضح ہو گیا کہ ملک کے وزیر اعظم کو دھمکی دی گئی اور سازش کی گئی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاریاں کرنے کا کہا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاریاں کرنے کا کہا ہے۔سابق وزیر اعظم نے ایسے وقت میں پریس کانفرنس کی ہے جب جمعہ کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی تھی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جو یہ کہتے ہیں کہ اس طرح کے مراسلے آتے رہتے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ اس طرح کی دھمکیاں نہیں دی جاتیں۔ ماضی میں اس طرح کی دھمکیاں ذوالفقار علی بھٹو اور پرویز مشرف کو دی گئیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے ملک بھر میں اپنی تنظیموں کو اسلام آباد کی حقیقی آزاد ی کے لیے مارچ کی ہدایت کر دی ہے جس کی کال وہ جلد دیں گے۔اْن کا کہنا تھا کہ پشاور، کراچی اور لاہور کے جلسوں میں جس طرح لوگ آئے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ بیدار ہو چکے ہیں اور وہ اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے باہر نکلنے کو تیار ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ کابینہ میں 60 سے 70 فی صد لوگ ضمانت پر ہیں اور ان کے نام ای سی ایل پر ہیں۔ اس لیے کہ ان کی جائیدادیں باہر ہیں۔عمران خان نے سوال اْٹھایا کہ کیا تحریکِ عدم اعتماد کے دوران ضمیر فروشی سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے لیے اہم نہیں تھی؟اْن کا کہنا تھا کہ مجھے حٰیرت ہے کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ نے اس معاملے کو اہمیت نہیں دی۔عمران خان بولے کہ اراکینِ اسمبلی کی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے زیرِ سماعت ہے۔ لہٰذا تحریکِ عدم اعتماد کے دوران ‘غیر ملکی’ سازش کا حصہ بننے والے اراکین کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو مستقبل میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
سابق وزیرِ اعظم نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو بھی جانب دار قرار دیتے ہوئے اْن سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔