نفرت آ میز تقاریر کا معاملہ: پولیس کا سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہ کرنا توہین عدالت

0

پروفیسر خواجہ عبدالمنتقم

سپریم کورٹ نے دہلی، اترپردیش اور اتراکھنڈ میں کی گئی نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں پولیس کے ذریعہ بروقت کارروائی نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بڑے واضح الفاظ میں یہ بات کہی ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملات میں کارروائی کرنے کے لیے پولیس کو کسی شکایت کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، وہ خود نوٹس لے کر اس پر فوری طور پر کارروائی کرے۔ ساتھ ہی اس نے یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ اگر پولیس سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کارروائی نہیں کرے گی تواسے عدالت کی توہین سمجھا جائے گا۔ ہماری عدالت عظمیٰ کے فاضل جج صاحبان اس سے زیادہ اور کیا سخت زبان استعمال کرسکتے تھے۔ان ہدایات میں شکایت کا انتظار کیے بغیر کارروائی کرنے کی بات سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے چونکہ کبھی کبھی متاثرین کو پرتشدد ردعمل سے ڈر لگتا ہے۔ اب یہ ارباب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات پر کڑی نظر رکھیں کہ عدالت عظمیٰ کی ہدایات پر ایمانداری سے عمل کیا جارہا ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں جذباتی روش اختیار کرتے ہوئے، جبکہ وہ شاذونادر ہی ایسا کرتی ہے، یہ کہہ کر اظہار افسوس کیا ہے کہ ہم کہاں پہنچ گئے ہیں، ہم بات تو سائنسی یعنی دانشورانہ مزاج کی کرتے ہیں لیکن ہم نے مذہب کی وقعت کس حد تک کم کردی ہے اور یہ کہ اس طرح کے بیانات ایک ایسے ملک میں جو مذہب کے معاملے میں غیرجانبدار ہے کافی چونکادینے والے ہیں۔
ہرفرقے بلکہ ہر فرد کا، خواہ اس کا تعلق اکثریتی فرقے سے ہو یا اقلیتی فرقے سے، یہ فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مذہب کا مکمل احترام کرے اور تقریر، تحریر یا کسی دیگر طریقے سے کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے کسی کے عام یا مذہبی جذبات مجروح ہوں۔ ایسا کرنا، حسب صورت، نہ صرف ملک کے سول و تعزیری قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی روایات اورانسانی حقوق کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر 1994 میں Hate Speeches یعنی نفرت انگیز تقاریر کے بارے میں ایک تجویز منظور کی تھی جس میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بات کہی گئی تھی کہ کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ کسی کے ساتھ نسلی امتیاز برتے، اس کے مذہبی جذبات کو مجروح کرے، اس میں ڈر یا خوف پیدا کرے اور کسی بھی طرح عدم برداشت اور تشدد آمیز رویہ کا مظاہرہ کرے۔ ہمارے ملک کے آئین کی دفعہ19 (1) (الف)، جو آزادیٔ تقریر، اظہار رائے وغیرہ سے متعلق ہے، اس میں بھی یہ بات بالکل واضح کردی گئی ہے کہ تمام شہریوں کو تقریر اور اظہار کی آزادی کا حق تو حاصل ہوگا مگرشائستگی یا اخلاق عامہ کی اغراض کے لیے اس آزادی پر معقول پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔
ہمارے ملک میں تو ہمارے تعزیری ودیوانی قوانین میں اس طرح کا رویہ اختیار کرنے کی واضح طور پر ممانعت کی گئی ہے۔ ایک طرف تو اسے توہین آمیز عمل (Defamation) بتایا گیا ہے تو دوسری جانب تعزیرات ہند میں دفعات 295، 295 الف، 296 ، 297 اور 298 شامل کرکے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کا اقدام کیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص تقریر، تحریر یا کسی بھی اشارے کنایے سے یا ان دفعات میں درج کسی دیگر طر یقے سے کسی کے مذ ہبی جذبات کو مجروح نہ کرے۔ خاص کر دفعہ295 الف میں تواس بات کو بالکل واضح کردیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر یا بہ نیت فاسد کسی کے مذہب یا عقیدے کی توہین کرکے اس کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے، خو اہ ایسا کچھ بول کر کرے یا لکھ کر یا اشارے کنایے کے ذریعہ یا اشارتاً اظہار کے ذریعہ تو اسے 3 سال تک کی سزا ہوسکتی ہے اورجرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔
امتیاز سے پاک وصاف معاشرے میں ہی لوگوں کے مابین صحیح میل جول اور حقیقی محبت پروان چڑھ سکتی ہے۔ یہی جذبہ اتحاد چھوٹے سے چھوٹے ملک کو ایک عظیم مملکت کا مرتبہ دلا سکتا ہے۔ کسی بھی مذہب کی تنقید برائے تنقید کا کوئی جواز نہیں۔ ہم سب کا یہ فرض ہے کہ ہم ہر مذہب کی اچھی باتوں کی طرف نظر ڈالیں اور کبھی بھی اس بات کی کوشش نہ کریں کہ کسی مذہب میں عیب نکالیں اور اس مذہب کے ماننے والوں کو تنقید کا نشانہ بنائیں۔ اگر کوئی شخص کسی غلط کام میں ملوث ہے تو اس کے اس فعل کو فاعل کے مذہب سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ مگر لوگ ہیں کہ وہ کسی ایک فرقے کے لوگوں کے دوسرے فرقوں کے ساتھ رہنے پر بھی انگلی اٹھارہے ہیں جبکہ ہمارے آئین کی دفعہ19میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے بلکہ یوں کہیے کہ انہیں یہ بنیادی حق عطا کیا گیا ہے کہ وہ ہندوستان کے کسی بھی علاقے میں آزادانہ نقل وحرکت کرسکتے ہیں، کوئی بھی پیشہ اختیار کرسکتے ہیں، کوئی بھی کاروبار چلا سکتے ہیں، رہ سکتے ہیں اور بس سکتے ہیں۔ اگرکوئی بھی شخص اس آئین کی روح کے خلاف کوئی بات کرتا ہے یا لوگوں کو باور کرانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ یقینی طور پر اس دفعہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ایسی صورت میں متاثرین، حسب صورت، سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ میں رٹ داخل کرسکتے ہیں۔ جو لوگ بھی کسی کو بودوباش اور کوئی بھی پیشہ اختیار کرنے کے حق سے محروم کرنے یا ان کا بائیکاٹ کرنے کی بات کرتے ہیں توسمجھئے کہ ان کی نظر میں آئین کا ذرہ بھر بھی احترام نہیں ہے جبکہ آئین کی بالا دستی کے بغیر سیکولرجمہوری نظام کا تصور تک بھی نہیں کیا جا سکتا۔
بڑے افسوس کی بات ہے کہ جس ملک کے عوام نے دو قومی نظریۂ حیات کو تقسیم ہند سے قبل مرض الموت کا درجہ دیا ہو،اسے آج محض سیاسی مصلحتوں سے دو دھڑوں میںبانٹنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے اور ہم پولرائزیشن کی جانب اس طرح بڑھ رہے ہیں جیسے کہ ہم اس کے دوررس نتائج سے بالکل بے خبر ہوں۔ اس مسئلے کا واحد حل ایک طویل عرصے سے زیر التوا مجوزہ انسداد فرقہ ورانہ تشدد بل (Prevention of Communal and Targeted Violence (Access to Justice and Reparations) Bill, 2011) کو منظوری دے کر قانون کی شکل دینا ہی ہے چونکہ اس قانون میں نفرت انگیز پروپیگنڈہ کو ایک تعزیری جرم قرار دیا گیا تھا اور اس کے لیے معقول سزا بھی تجویز کی گئی تھی۔ اس میں نفرت انگیز پروپیگنڈہ سے متعلق دفعہ شامل کرکے اس بات کی وضاحت کردی گئی تھی کہ جو کوئی زبانی، کسی طرح کی اشاعت کے ذریعہ، الیکٹرونک میڈیا یا کسی دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ صریحاً یا اشارتاً کسی گروپ یا افراد کے خلاف کوئی ایسا نفرت انگیز پروپیگنڈہ کرتا ہے یا کرواتا ہے جس کا تشدد کا سبب بننے کا امکان ہو تو وہ مستوجب سزا ہوگا۔ اگر یہ بل منظور ہوگیا ہوتا تو آج معدودے چند افراد کی لفاظی کے سبب چہارطرفہ ماحول زہرافشاں نہ ہوتا۔
(مضمون نگار آزاد صحافی، مصنف، سابق بیورکریٹ اور عالمی ادارہ برائے انسانی حقوق سوسائٹی کے تاحیات رکن ہیں)
[email protected]