انسانی زندگی اورفطرت کے ساتھ ہم آہنگی

0

محمد فاروق اعظمی

دو ہفتے قبل سال2022کا عالمی یوم ماحولیات ’صرف ایک زمین‘ کے خوبصورت نعرہ اور ’فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں پائیدار زندگی‘ کے عزم کے ساتھ پوری دنیا نے سوئیڈن کی میزبانی میں منایا۔کہیں شجر کاری ہوئی تو کہیں ماحول کو دھویں سے پاک کرنے کا عہد کیا گیا۔ ہوا، پانی اور فضائی آلودگی کے خاتمہ کے وعدے کیے گئے ہیں۔ہر سال5جون کو یہی وعدے کیے جاتے ہیں لیکن ماحول کو انسان دوست بنانے کی سمت کارروائی کہیں نظرنہیں آتی ہے۔ ایک دہائی قبل تمام ممالک نے اپنے لیے اہداف مقرر کیے تھے، تاکہ فطرت کو محفوظ رکھا جائے اور زمین کی اہم حیاتیاتی تنوع کو بچایا جائے۔ جنہیں مقررہ مدت میں مکمل ہونا تھا لیکن آج بھی تمام اہداف نامکمل ہیں۔ 1970 کی دہائی سے تقریباً 70 فیصد جنگلی جانور، پرندے اور مچھلیاں غائب ہوچکی ہیں۔گزشتہ سال اقوام متحدہ کے پینل آن بائیو ڈائیورسٹی آئی پی بی ای ایس نے خبردار کیا تھا کہ انسان کی تخلیق کردہ سرگرمیوں کے نتیجے میں دس لاکھ (ایک ملین) انواع معدومیت کا سامنا کر رہی ہیں۔ زمین پر زمین کا تین چوتھائی حصہ شدید طور پر ختم ہوچکا ہے۔ حیاتیاتی تنوع پر 2010 کے اقوام متحدہ کے کنونشن میں، 190 رکن ممالک نے 2020 تک قدرتی دنیا کو پہنچنے والے نقصان کو محدود کرنے کا منصوبہ بنایاتھا لیکن مقررہ مدت کے2برس بعد بھی ان میں سے کوئی بھی ہدف پورا نہیں ہوا ہے۔فطرت کا تنو ع بحال رکھنے کیلئے کام کرنے والے رضاکار ادارہ ورلڈ وائڈ فنڈفار نیچر(ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق پچھلی پانچ دہائیوں میں قدرتی دنیا پر انسانیت کے اثرات تباہ کن ہوئے ہیں۔
تیز رفتار ترقی نے جدید دنیا کو فطرت سے دور کردیا ہے۔ آبشار، دریا، جھیل اور جنگل انسانی زندگی سے اب دھیرے دھیرے نکلتے جارہے ہیں ۔ترقی کی چاہت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ انسان خود اپنے ہاتھوں ماحول کو نقصان پہنچاکر موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بن رہا ہے۔ کبھی سیلاب آتا ہے تو کبھی بادل پھٹ جاتا ہے۔ کہیں زمین کا پانی خشک ہو رہا ہے تو کہیں زمین آگ اگل رہی ہے۔اگر انسان قدرتی وسائل کو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے استعمال کرتا تو ٹھیک تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انسان نے قدرت کے کاموں میں دخل اندازی شروع کردی، فطرت کو اپنا غلام بنانے لگا، منافع کیلئے جنگلات کاٹے اور انہیںآگ لگائی جانے لگی۔جنگلات اور درختوں کی کٹائی سے ہوا اس قدر آلودہ ہو چکی ہے کہ شہروں میں سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔انسان نے اپنی خود غرضی کیلئے فطرت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ جنگلات سے درخت کاٹ کر بہت سے جنگلات تباہ کردیے۔ جنگلات کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کو بھی پتھروں کیلئے توڑا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے جنگلی جانوروں کے سامنے رہائش اور خوراک کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ قابل کاشت زمین پر مکانات بھی بنائے جا رہے ہیں۔ انسان کی خود غرضی کی وجہ سے پانی کے قدرتی ذرائع جیسے تالاب، کنویں وغیرہ ختم ہورہے ہیں۔ ماحولیاتی اور فضائی آلودگی کا دائرہ خطرناک حد تک وسیع ہوگیا ہے، شہر تو دور دیہاتوں میں بھی رہنے والے انسان کااس سے بچا رہنا ناممکن ہے ۔ گلوبل وارمنگ اپنے عروج پر ہے۔قدرتی نباتات، مٹی، آبی ذخائر اور حیوانات سب اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ انسان کی ذہنی اور جسمانی سرگرمیاں بھی اس کی زد پر ہیں ۔ زیادہ گرمی اسہال، برین اسٹروک وغیرہ جیسی بیماریوں کا باعث بن رہی ہے۔ شہروں میں زندگی ماحول اور فطرت سے بہت دور ہو چکی ہے۔ یہاں رہنے والوں کو ایسی بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہ سنی اور دیکھی ہوں۔
فضا، ہوا، پانی اور زمین کی آلودگی یوں تو دنیا کے ہرخطہ میں موجودانسانوں پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن ہندوستان میں اس کی اثر پذیری ہزار گنازیادہ ہے ۔ شدید گرمی میں ہندوستان بھر کے شہر ایک طرح کی بھٹی میں جلتے نظر آرہے ہیں۔ ماہرین موسمیات پہلے ہی اس کا انتباہ دے چکے تھے کہ ماحولیات کی خرابی کے باعث ہورہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے شمالی اور مغربی ہندوستان میں ریکارڈ توڑ گرمی پڑے گی اور زیادہ تر شہروں میں درجہ حرارت 40 سے 50 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہے گا۔خدشہ کے عین مطابق یہاں یہی ہوا ہے، شہروں کے درجہ حرارت میں بھی نیا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سال 15 مئی کو اب تک کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔ زمین کا درجۂ حرارت جس طرح بڑھ رہا ہے، اس سے لگ رہاہے کہ آنے والے سالوں میں درجۂ حرارت 50 ڈگری سیلسیس سے اوپر جاسکتا ہے۔یہ صورتحال ہندوستان میں ماحولیاتی آلودگی کی پیداوار ہے اور خطرناک حدتک موسمیاتی تبدیلی کا سبب بن رہی ہے ۔اس آلودگی سے بچائو کی کوشش تو دور اس کے مضمرات سے بھی ہم صحیح طریقے سے واقف نہیں ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ میں فضائی آلودگی کو انسانیت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اس آلودگی سے ہر برس تقریباً 70 لاکھ افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ لاکھوں مزید افراد فضائی آلودگی سے ہر سال متاثر ہوتے ہیں اور دمے، پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ہر سال آلودہ فضا میں سانس لینے سے عالمی طور پر پانچ کھرب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔جب کہ ہندوستان میں ماحولیات کے معیار میں گراوٹ سے سالانہ تقریباً 3.75 ٹریلین روپے کا نقصان ہورہا ہے۔اقوام متحدہ کے معاشی کمیشن نے فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والے انسانی اور معاشی نقصان کو ’شدید‘ قرار دیا ہے۔ماحولیاتی آلودگی کی سنگینی کو یوروپ اور امریکہ کافی عرصہ پہلے ہی بھانپ چکے تھے اور اس سلسلے میں 1979میں یوروپ اور شمالی امریکہ کے 51 ممالک نے یونیسیف کے کنونشن پر دستخط کیے تھے، جسے فضائی کنونشن کہا جاتا ہے۔یہ اس کنونشن کا اثر ہی ہے کہ یوروپ اور امریکی ممالک میں آلودگی کے اخراج میں مجموعی کمی درج کی جارہی ہے۔اس فضائی کنونشن کی بدولت ہی اب یوروپ کے لوگ اوسطاً بارہ مہینے زیادہ جیتے ہیں۔
ادھر ہندوستان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے ہندوستان میں ہونے والی اموات میں 13 فیصد کیلئے ہوا کی آلودگی ذمہ دار ہے۔ تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے 30 آلودہ ترین شہروں میں سے سب سے زیادہ ہندوستان میں ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی اور ہوا کا خراب ہوتا ہوا معیار آج ہندوستان کو درپیش سب سے اہم چیلنجوں میں ایک ہے۔ ہمارے شہر اور ترقی کے انجن خطرناک اور مضر صحت دھویں سے بھرے ہوئے ہیں،یہاں کا پانی اور مٹی بری طرح آلودہ ہے۔شہر کی گندگی اور فیکٹریوں سے نکلنے والی آلودگی دریاؤں میں پھینکی جارہی ہے جس کی وجہ سے دریاؤں کا خالص پانی زہریلا ہوتا جا رہا ہے۔
اس لیے انسانوں کے تحفظ کیلئے ماحولیات کا تحفظ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔یہ تحفظ صرف سال میں ایک دن وعدہ اور عزم کے اظہار سے نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس کیلئے ہمیں ماحولیات کو نقصان پہنچانے والے کاموں پر نہ صرف پابندی لگانی ہوگی بلکہ معاشرے کو فطرت سے جوڑنے اور معاشرے کو فطرت کے قریب لانا ہوگا۔فطرت کے ساتھ مکمل عملی ہم آہنگی کے بغیر انسانی زندگی باقی نہیں رہ سکتی ہے ۔
[email protected]