نفرت پھیلانے والوں پر شکنجہ کسے گا قومی اقلیتی کمیشن

0
oneindia

اتراکھنڈ سرکار کو دھرم سنسد اور مدھیہ پردیش سرکار کو نفرت بھرے ویڈیو وائرل ہونے پر نوٹس جاری
اظہار الحسن
نئی دہلی (ایس این بی) : قومی اقلیتی کمیشن کے ذریعہ حالیہ میں اترا کھنڈ میں دھرم سنسد میں اشتعال انگیز تقاریر اور مدھیہ پردیش میںوائر ل نفرت بھری ویڈیو پر سوموٹو لیتے دونوں سرکاروں کو نوٹس جاری کیا ہے ۔اتر کھنڈ سرکار کے چیف سکریٹری کو نوٹس بھیج کر 10جنوری تک اس پورے معاملے میں کی گئی کارر وائی سے کمیشن کو واقف کرانے کو کہا ہے۔کمیشن نے مدھیہ پردیش میں نفرت بھری ویڈیو پر نوٹس لیتے ہوئے چیف سکریٹری سے جواب طلب کیا ہے۔یہ اطلاع بدھ کو قومی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین اقبال سنگھ لالپورہ نے نئی دہلی واقع کمیشن دفتر کے کانفرنس روم میں منعقد پریس کانفرنس میں دی۔ اس موقع پراقبال سنگھ لالپورہ نے کہا کہ کمیشن ہریانہ کے گرو گرام میں کھلے (پارک وغیرہ) میںجمعہ کی نماز ادا کرنے کو لے کر پیدا تنازع کے تئیں بھی سنجیدہ ہے۔ اس تعلق سے کمیشن کے وائس چیئر مین عاطف رشید کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل کی گئی ہے۔یہ 3 رکنی کمیٹی جلد ہی گروگرام کا دورہ کرے گی اور وہاں دونوں کمیونٹی کے فریقوں سے بات چیت کرے گی اور انتظامیہ کے تعاون سے اس حساس مسئلے کا حل نکالنے کی پوری کوشش کرے گی۔مسٹر لالپورہ نے کہا کہ ہم سب ایک ہیں، ہمارا مقصد ایک ہے۔ وزیر اعظم مودی نے سب کا ساتھ-سب کا وکاس- سب کا وسواس کا نعرہ دیا ہے۔ اس لئے سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ،اس سمت میں تیزی سے کام ہونا چاہئے۔انہوں کاکہاکہ حکومت کے ساتھ کمیشن کابھی اہم مقصد اور فوکس اقلیتوں کی ترقی ہے، تعلیمی شعبے میں کیا نیا ہو،امپاورمنٹ یعنی نوکریاں کیسے پیدا ہوں، اقتصادی ترقی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں وہ ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں ۔اس موقع پرقومی اقلیتی کمیشن کے وائس چیئر مین عاطف رشید نے کہا کہ ملک نہ تواے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کے ہندو مخالف بیانوں سے اور نہ ہی دھر م سنسد کی اشتعال انگیز تقایر سے چلے گا، بلکہ ہماراملک بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راوامبیڈکر کے ذریعہ بنائے گئے آئین سے ہی چلے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میںکسی بھی مذہب کے لوگوں کے خلاف قابل اعتراض بیانات اور نفرت انگیز تقاریر کو کمیشن قطعی برداشت نہیں کرے گا۔عاطف رشید نے کہا کہ اترا کھنڈ اور مدھیہ پردیش ریاست میں نفرت انگیزاور تشدد کوہوا دینے والے بیانات کے معاملے میںپہلے ہی دونوں سرکاروں کونوٹس جاری کرکے 10جنوری تک جواب طلب کیا گیا ہے، جس پر سرکار نے کارروائی بھی کی ہے اور جواب ملنے پر کارروائی آگے بڑھے گی ۔انہوں نے کہا کہ اس نوٹس میں حکومت سے پوچھا گیاہے کہ اب تک کیا کارروائی ہوئی اور کن دفعات کے تحت معاملہ درج ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن ان معاملوں میں قصور واروں کے خلاف پراپر وے میں رپورٹ درج ہو۔
عاطف رشید نے کہا کہ چیئر مین اقبال سنگھ لالپورہ کے ذریعہ پچھلے دنوں گڑگائوں میں کھلے میں نماز کی ادائیگی پرایک دیگر کمیونٹی کے لوگوں کے ذریعہ پیدا کئے تنازرع کے بعد اس معاملے میں ان کی سربراہی میں تشکیل کمیٹی، جس میں سید ہ شہزادی اور لنچن لیمو شامل ہیں، وہ جلد ہی گڑگائوں کا خیر سگالی دورہ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی یہاں دونوں کمیونٹی کے فریقین سے بات چیت کرے گی اور کوشش ہوگی کہ دونوں فریق ماحول میں پیدا کشیدگی کو دور کریں،جس سے اس حساس مسئلے کاپائیدار مثبت حل نکل سکے ۔
بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوران تشدد کی وارداتوں کو انجام دے کر ایک خاص پارٹی یا کمیونی کو ٹارگیٹ کئے جانے کے معاملے میں کمیشن کے ذریعہ کارروائی کئے جانے کے سوال پر عاطف رشید نے کہا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم پرفیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل ہوئی تھی، جس نے جہاں جہاں تشدد ہوا، وہاں کا دورہ کیا تھا اور اپنی رپورٹ ہائی کورٹ میں پیش کی تھی ،جس پر کورٹ نے ایکشن بھی لیا ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔ کمیشن کے ذریعہ حکومت کواقلیتوں کیلئے مختص بجٹ کے متعلق تجویز بھیجنے کے سوال پر عاطف رشید نے کہا کہ کمیشن کا کام بجٹ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بلکہ کمیشن کے ذریعہ تعلیم اور روزگارمہیا کرانے سمیت اقلیتوں کو خود کفیل بنانے کے منصوبوںاور اسکیموں کے متعلق ضرور تجاویزحکومت کو بھیجی گئی تھیں اور یہ خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم دفتر نے ان پر ہمدردانہ غور کرنے اور انہیں عملی جامہ پہنائے جانے کی بات کہی ہے۔ عاطف رشید نے کہا کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی مثال دنیا بھر میں ہوتی ہے اور ملک کی اس شبیہ کو کچھ شر پسندوں کے ذریعہ خراب ہونے کی کوشش ہوتی رہتی ہے، حالانکہ اس طرح کے لوگوں پر ملک کے قانون کے تحت کارروائی ہوتی ہے۔ معاشرے میں پیدا کی جا رہی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور آپسی بھائی چارہ بڑھانے کے مد نظر کمیشن نے ’انٹر فیتھ ڈائیلاگ ‘ پروگرام کی شروعات تجربہ کے طور پرکی ہے ،اس کوآئندہ وقت میںملک بھر میں وسیع شکل دی جائے گی۔اس کے تحت ہندو کمیونٹی کے پروگرام مسلم اور مسلم کمیونٹی کے پروگرام میں ہندئوں کو شامل کیا جائے گا،یہ عمل سکھ ،جین ،عیسائی اور پارسی کمیونٹی میں بھی اپنایا جائے گا ۔ عاطف رشید نے بتایا کہ کمیشن کو رواں سال 700شکایتیں موصول ہوئی تھیں، جس میں سے 90فیصد شکایتوں کو حل کیا جاچکا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جن ریاستوں سے شکایتیں موصول ہوتی ہیں،وہاں کی انتظامیہ اور پولیس سے جواب مانگا جاتا ہے اور اگر محسوس ہوتی ہے تو کمیشن کی ٹیمیں ان ریاستوں کا دورہ کر کے متاثرین سے ملاقات کرتی رہتی ہیں، تاکہ جلد ان کی شکایتوں کا ازالہ ہوسکے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here