’’دیوالی مبارک ہو رام!‘‘

0

زرّین خان
رحیم آج بھی آپ کا امتحان تھا تو آپ کو اسکول سے آنے میں اتنی تاخیر کیوںہوگئی؟‘‘
رحیم نے اپنی والدہ سے کہا: ’’امی جان! آج ہمارا آخری پرچہ تھا اور کل سے اسکول کی چھٹیاں ہیں، اب ہمیں دیوالی کے بعد اسکول جانا ہے۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے، مگر آپ کو دیر کیوں ہوئی؟‘‘ امی کا سوال ہنوز جواب طلب تھا۔
رحیم نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا: ’’دراصل پیپر دینے کے بعد ہم دوست گپ شپ کرنے لگے جس میں وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔ جب بھوک کا احساس ہوا تو ہم دوستوں نے پروگرام بنایا کہ اسکول کے نزدیک ڈھابہ میں کھانا کھایا جائے۔ بس اسی میں دیر ہوگئی۔‘‘
’’اگر ایسی بات تھی تو آپ کو گھر میں فون کرکے اطلاع دینی چاہیے تھی، آپ کو نہیں معلوم میں کتنی پریشان ہورہی تھی۔‘‘ امی جان کے کہنے پر رحیم کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے معافی مانگی اور کہا کہ آئندہ وہ اس بات کا خیال رکھے گا۔
’’اچھا بتاؤ، ڈھابہ میں کھانا کیسا تھا اور آپ نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا؟‘‘
’’امی جان! بہت لذیذ کھانا تھا، مگر ہم سے پیٹ بھر کر نہیں کھایا گیا‘‘ بات کرتے کرتے رحیم کے چہرے پر اداسی چھا گئی۔
’’کیا ہوا بیٹا! ہنستے مسکراتے چہرے پر اچانک یہ اداسی کیوں چھا گئی؟‘‘
’’امی جان! ڈھابہ میں ایک 13-14 سالہ لڑکا تھا جو کھانے کے آرڈر لے رہا تھا۔ کیوں کہ بھوک بہت تیز لگ رہی تھی، اس لیے ہم نے اسے جلدی کھانا لانے کے لیے کہا۔ اس نے مؤدبانہ انداز میں سرہلایا اور وہاں سے چلا گیا، کچھ دیر بعد وہ کھانا لے کر آیا تو لیکن دوسری ٹیبل پر لگاکر چلا گیا۔ اس بات پر ہم نے اسے اپنے پاس بلایا اور خوب سنایا، مگر اس نے کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ پھر میرے کہنے پر کہ جلدی کھانا لاؤ، وہ وہاں سے چلا گیا اور دور جاکر کھڑا ہوگیا۔ تقریباً 5منٹ بعد وہ کھانا لے کر ہماری ٹیبل پر آیا تو میں نے اس سے کہا کہ ’’ہم نے جتنی جلدی تم سے بولا تھا، تم اتنی ہی تاخیر سے آئے ہو۔اور تو اور تم وہاں اس کونے میں جاکر کھڑے ہوگئے۔‘‘
’’معاف کیجیے بھائی جان، اذان ہورہی تھی اور میں نے سنا ہے جب اذان کی آواز آرہی ہوتو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ اس لیے میں نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا اور وہاں جاکر بھی اسی لیے کھڑا ہوا تھا۔ باقی آپ کے کھانے میں دیر نہیں ہوئی ہے، میں نے وہاں آرڈر لکھوا دیا تھا جیسے ہی انہوں نے مجھے اشارہ کیا، میں آپ کا کھانا لے آیا ہوں۔‘‘
ہم تمام دوست دم بخود اسے حیران کن نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ اچانک ڈھابہ کے مالک نے آواز لگائی: ’’رام، یہاں آؤ، فلاں ٹیبل پر کھانا پہنچا دو۔‘‘
اس لڑکے کا نام سن کر ہماری حیرانی اور زیادہ ہوگئی کہ وہ ہندو تھا اور اذان کا احترام کررہا تھا اور ہمیں مسلمان ہوکر بھی ایک فیصد یہ خیال نہیں آیا کہ اذان ہورہی ہے اور ہم تھوڑی دیر خاموش ہوجائیں بلکہ ہم تو باتوں میں مصروف رہے بلکہ ہنسی مذاق کرتے رہے۔۔۔
پلیٹیں اٹھانے کے لیے جب رام ہمارے پاس پہنچا تو ہم دوستوں کے چہروں پر سنجیدگی دیکھتے ہوئے بولا: ’’کیا ہوا، بھائی جان! کھانا اچھا نہیں تھا کیا۔ کھانے سے پہلے تو آپ لوگ بہت خوش نظر آرہے تھے اور اب ۔۔۔ میں آپ کے لیے کچھ اور کھانے کے لیے لاؤں؟‘‘
میں نے کہا: ’’نہیں بھائی! کھانا بہت اچھا تھا لیکن ہماری یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ تم تو ہندو ہو پھر تم اذان کی آواز پر۔۔۔‘‘
’’بھائی جان! میرے پڑوس میں رہنے والی صفیہ باجی مجھے ٹیوشن پڑھاتی ہیں اور میں نے ہمیشہ انہیں اذان کا احترام کرتے ہوئے دیکھا، پھر ایک دن انہوں نے میرے معلوم کرنے پر بتایا کہ ’اذان کے وقت خاموش رہنا چاہیے، غور سے اذان کو سننا چاہیے‘، بس اسی دن سے میں بھی اذان کا احترام کرتا ہوں۔۔۔ میری ماں اور صفیہ باجی دونوں کہتے ہیں کہ کوئی بھی مذہب برا نہیں ہوتا، برا یا اچھا انسان ہوتا ہے، اس لیے سبھی مذاہب اور ان کے ماننے والوں کا احترام کرو، اسی میں خوشیاں اور سکون ہے۔‘‘
’’ہم سب دوست ایک دوسرے کو شرمندگی سے دیکھنے لگے، ڈھابہ سے نکلتے وقت ہم سب نے اسے گلے لگایا۔۔۔لیکن امی جان! آج کے واقعہ سے ہمیں جو سبق ملا ہے، وہ ہم زندگی میں نہیں بھولیں گے۔‘‘
’’شاباش بیٹا! اتنے اچھے سبق کے لیے تمہیں اپنے استاد کی فیس تو ادا کرنی چاہیے نا!‘‘ امی جان نے مسکراتے ہوئے رحیم سے کہا تو اس کے چہرے پر خوشی جھلکنے لگی۔ شام میں رحیم،اس کی بہن اور امی ابو ڈھابہ پر پہنچے تو رام کی نگاہ ان پر پڑی، وہ تیزی سے اُن کی طرف لپکا: ’’بھائی جان!آپ ادھر آئیے، یہاں فیملی کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔‘‘
کھانا کھانے کے بعد رحیم کے ابو نے اپنے ساتھ لائی ہوئی چاکلیٹ اور مٹھائی کے ڈبے رام کو دینے سے قبل ڈھابہ میں بیٹھے تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے دن میں ہونے والی بات بتائی تو تمام لوگوں نے رام کے لیے تالیاں بجائیں۔ رام کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
رحیم کے والد نے بطور انعام ایک لفافہ بھی دیا جس میں کچھ کیش تھا۔ رحیم نے رام کو گلے لگاتے ہوئے کہا: ’’دیوالی مبارک ہو رام!‘‘rvr