حمزہ شہباز نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا حلف لیا

0

لاہور (ایجنسیاں) : پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نے وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ہفتے کو گورنر ہاؤس پنجاب میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی جہاں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے حمزہ شہباز سے وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف لیا۔تقریب حلف برداری میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن عبدالعلیم خان اور دیگر افراد نے شرکت کی۔واضح رہے کہ جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ نے نئے وزیراعلیٰ پنجاب کے حلف کے لیے دائر تیسری درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو ہدایت دی تھی کہ وہ حمزہ شہباز سے وزارتِ اعلیٰ کا حلف لیں۔
پنجاب کے گورنر عمر سرفراز چیمہ نے، جو حمزہ شہباز کے بطور وزیر اعلیٰ انتخاب کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان سے حلف لینے سے انکار کرتے رہے ہیں، حمزہ شہباز کے حلف پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی مرضی کے بغیر زبردستی گورنر ہاؤس میں تقریبِ حلف برداری کا اہتمام کیا گیا۔گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ گورنر ہاؤس میں جاری بقول ان کے ’غنڈہ گردی‘ اور اس کو یرغمال بنانے کا نوٹس لیں۔ہفتے کو ٹوئٹر پر اپنے بیان میں گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ غیر آئینی طریقے سے وزیراعلیٰ کے حلف کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے حمزہ شہباز کی حلف برداری کے طریق کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر ہاؤس کے گراؤنڈ پر قبضہ کر کے عبوری ضمانت پر ایک مطلوب شخص نے حلف اٹھا کر خود کو وزیر اعلیٰ کہلوانا شروع کر دیا ہے۔دریں اثنا گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے عثمان بزدار کے وزارت اعلیٰ کے عہدے سے دیے گئے استعفے پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی جانب سے اسپیکر پنجاب اسمبلی کو جمعہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عثمان بزدار نے 28 مارچ 2022 کو ٹائپ کیا ہوا مبینہ استعفے کا خط وزیراعظم کے نام لکھا ہوا تھا۔عمر سرفراز چیمہ نے اعتراض لگایا کہ آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 8 کے مطابق وزیراعظم کے نام اس خط کو استعفے کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ آئین کے مطابق وزیراعلیٰ کے استعفے کے قبول ہونے کے لیے اسے ہاتھ سے لکھا ہوا ہونا چاہیے اور وہ گورنر پنجاب کے نام ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ پنجاب میں گزشتہ ماہ عثمان بزدار کی جانب سے وزیر اعظم کو بھجوائے گئے استعفے کے بعد سے ہی سیاسی بحران تھا۔نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے 6 اپریل کو اجلاس بلایا گیا جسے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے 16 اپریل تک ملتوی کر دیا تھا۔16 اپریل کو اجلاس کے دوران شدید ہنگامہ آرائی ہوئی تھی۔ پولیس پنجاب اسمبلی میں داخل ہو گئی تھی اور اس دوران اراکین اسمبلی اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا تھا۔اجلاس شروع ہوتے ہی تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اراکین نے ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کر دیا تھا جس کے بعد صورتِ حال کشیدہ ہو گئی تھی۔اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی بھی اس تصادم کے دوران مبینہ طور پر زخمی ہو گئے تھے۔بعدازاں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے مہمانوں کی گیلری میں بیٹھ کر قائد ایوان کا انتخاب کرایا تھا، جس میں حمزہ شہباز شریف 197 ووٹ لے کر وزیر اعلیٰ منتخب ہو گئے تھے۔تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار چوہدری پرویز الٰہی نے انتخابی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا۔بعدازاں گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے بھی قائد ایوان کے انتخاب کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز شریف سے حلف لینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ عدالت میں چلا گیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ نے جمعے کی شب اپنے فیصلے میں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے کہا تھا کہ وہ حمزہ شہباز شریف سے ان کے عہدے کا حلف لیں۔